Dr.Tehseen Firaqi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
04 May 2021 (11:43) 2021-05-04

بالِ جبریل کی ایک بڑی عمدہ نظم ہے ’’پیر و مُرید‘‘۔ یہ نظم مکالمے کی شکل میں ہے۔ اقبال خود کو مُریدِ ہندی ٹھہراتے ہیں اور جلال الدین رُومی کو ’’پیرِ رومی‘‘۔ گئے زمانوں کے تناظر میں اور اپنے زمانے کے حالات کے پیشِ نظر ان سے سوالات کرتے ہیں اور ان کے بر محل جوابات درج کرتے ہیں۔ اقبال نے پیرِ رومی سے ایک سوال یہ بھی کیا ہے: امتیں اور قومیں زوال پذیر ہو کر بالآخر کیوں مر مٹ جاتی ہیں اور پھر ان کا جواب درج کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر امت یا قوم کی ہلاکت کا سبب یہ تھا کہ اس میں پتھر اور صندل کے فرق کا شعور مٹ گیا۔ گویا ادنیٰ اور اعلیٰ، باطل اور حق کا فرق نہ کرنا ہلاکت کا موجب ہے۔ جھوٹے معبود یعنی پتھر کی ترشی مورتوں اور ذاتِ حق کی صندل جیسی خوشبو یعنی توحید میں اسی بنیادی فرق کو نظر انداز کر دینے کے نتیجے میں قومیں بالآخر اپنے ہولناک انجام سے دوچار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ قرآن میں ایسی کتنی ہی امتوں کا ذکر آیا ہے جو حق کے صریح اور مسلسل انکار کے نتیجے میں ہلاک ہو گئیں: اصحاب الاُخدود، اصحاب الحِجر (قومِ ثمود)، اصحاب الرَّس اور انہی پر متعدد دیگر قوموں کو قیاس کر لیجیے۔ نفس پرستوں کا مقدر ہلاکت کے سوا اور ہو بھی کیا سکتا ہے؟

عہدِ موجود کی عالمی صورتِ حال پر ایک نگاہ ڈالیے۔ ایک ہمہ گیر آشوب کا دلدوز نقشہ ہے۔ فسادِ فکر نے پوری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جس نے اپنی اقلیم سے خدا کومطلقاً خارج کر کے ہوسِ زر و مال کو خدا کا درجہ دے ڈالا ہے۔ ’’ظَھرَالفسَادْ فی البَّرِ وَالبَحر‘‘، کیا خشکی اور کیا تری، انسان نے اس دھرتی کے چپے چپے کو انتشار، فساد اور آشوب میں مبتلا کر دیا ہے۔ فرد فرد سے، ادارہ ادارے سے، صوبہ صوبے سے، علاقہ علاقے، ملک ملک سے برسرِ جنگ ہے۔ حقوق طلبی کا ڈھول اس شدت سے پیٹا جا رہا ہے کہ فرض شناسی نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہیں۔ طاقتور قومیں، کمزور قوموں کا بدترین استحصال کر رہی ہیں۔ استعماری مکاری دو قوموں کے درمیان پہلے افتراق کا بیج بوتی ہے، پھر اسے روز ہوا دیتی ہے، فریب و دجل اور نفاق کی دیوارِ بزرگ کھڑی کر کے نفرت کے کھیت کی آبیاری کرتی ہے۔ یوں نفرت اس قدر بڑھتی ہے کہ جنگ کا جنون پیدا ہو جاتا ہے۔ اب استعمار کا خود غرض دیو دونوں قوموں کو الگ الگ اسلحہ بیچ کر اپنے دام کھرے کرتا ہے۔ قوموں کی باہم لڑائی اور پیہم فساد ہی میں استعمار کو اپنی بقا نظر آتی ہے۔ مغرب کا خون آشام سودی نظام، کمزور قوموں کو چُوں نہیں کرنے دیتا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے گماشتے تیسری دنیا کے کمزور ملکوں میں ہمدرد مشیروں کے بھیس میں استحصال کی ایک خونچکاں تاریخ مرتب کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی ملک کے سٹیٹ بینک کو سٹیٹ سے آزاد کر کے غیروں کے ہاتھوں میں دینے کے منصوبے باندھے جا رہے ہوں؟ کیا ہم من حیث القوم ایک ایسے راستے پر قدم زن ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں؟

میرے نزدیک واپسی کا راستہ ہے۔ مگر یہ وہ راستہ ہے جو بڑا طویل، کٹھن، صبر آزما اور بظاہر حوصلہ فرسا ہے۔ اگر ہم اللہ کی حاکمیت پر کامل ایمان لا کر ایک ایسے ہمہ گیر تعلیمی نظام کا ڈَول ڈال سکتے ہوں جو یکسانیت کاحامل ہو، جس کا مقصود زر طلبی، عہدہ رسی اور نفس پرستی نہیں بلکہ خودی، خود شناسی، تسخیرِ فطرت، احترامِ آدمیت، صلہ رحمی اور خدمتِ خلق کے تصورات ہوں تو ایک ایسا وقت آ سکتا ہے جب وطنِ عزیز غیرت و حمیت کے اوصافِ حسنہ سے مزین ہو کر، روشن فکری، روایت دوستی، احترامِ اقدار، سچی تشنگیِ علم اور خدا پرستی کا 

مظہر بن جائے اور دنیا کے لیے بالعموم اور عالمِ اسلام کے لیے بالخصوص ایک برتر اور قابلِ توصیف نمونے کی حیثیت اختیار کر لے۔ پچھلے چوہتر برس سے ہم نظام و نصابِ تعلیم کے باب میں اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ سات آٹھ قسم کے نصابات کی باہم متصادم روایات سے اپنے سر پھوڑ رہے ہیں۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو تعلیم کے سلسلے میں کاملاً آزاد کر چکے ہیں اور ساتھ ہی شکوہ کناں بھی ہیں کہ صوبوں کے مابین اتحادِ فکر تیزی سے مٹتا جا رہا ہے۔ مٹے نہیں تو کیا ہو۔ تعلیم، صوبوں کا نہیں مرکز کا سبجیکٹ ہے۔ لہٰذا اس کی باگ ڈور حتمی طور پر مرکز کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم کی زمام کار ان افراد کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جنہیں استعمار کے نہیں، اپنے دین و وطن کے مفادات عزیز ہوں۔ ہمیں ایسے لوگ چاہئیں جو دردمند، خود آگاہ اور خدا آگاہ پاکستانی ہوں۔ خود فروش، رکابی مذہب اور زر پرست نہ ہوں، مغربی یا کسی بھی استعمار کے قلی نہ ہوں، جنہیں اپنی قومی زبان پر فخر ہو، جن کے دل میں پاکستانی زبانوں کا احترام ہو اور جو استعماری قوتوں کے سامنے سینہ تان کر کہہ سکیں: ’’ہم اپنی قومی زبان میں اظہارِ خیال کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں کیوں کہ پاکستان گونگا نہیں ہے۔‘‘

خود آگہی، خود شناسی اور علم کی سچی طلب پیدا کرنے والے مذکورہ یکساں نصاب ِتعلیم کی بنیاد ان اعلیٰ اخلاقی اقدار پر ہو گی جن کا احترام لازم ہو گا۔ آج وطنِ عزیز کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ یہ بھانت بھانت کی آوازوں کا ایک آشوب انگیز اور اعصاب شکن منظر نامہ پیش کر رہا ہے۔ ملک کے وہ اکابر جن کی حیثیت روشنی بانٹتے نور مناروں کی تھی، انہیں اپنی ادنیٰ سطح پر کھینچ لا کر ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے افکار اور ان کی بے مثال فکری، تہذیبی اور سیاسی جدوجہد کو گھٹیا سطح پر معرضِ بحت میں لایا جا رہا ہے۔ کبھی جناح کے مسلک و مذہب اور کبھی ان کے سیاسی و ذاتی تضادات کی دہائی دی جاتی ہے اور کبھی اقبال ایسے محسنِ ملک و ملت کے تصورِ پاکستان پر خطِ تنسیخ پھیرنے کی جسارت کی جاتی ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم ہیرو پرستی کے قائل ہیں۔ اکابر پرستی بہرحال بُری چیز ہے۔ مگر اکابر کے احسانات فراموش کرنے کی بھی بہرحال بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہم بڑی درد مندی اور سلیقے سے ان دونوں اکابر کے آثار و افکار کو اپنے تعلیمی نصابات کا حصہ بناتے تاکہ آنے والی نسلوں میں بامراد زندگی اور اپنے منفرد ملی وجود کا احساس گھر کر جاتا، ہم انہی اکابر کو اپنے ہاتھوں سے منہدم کرنے کے درپے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ نہایت محکم فکری اور ایمانی بنیادوں پر قائم اقبال اور جناح کے افکار وہ سنگین قلعے ہیں جن کا انہدام نہایت مشکل ہے اور جن کی رفعت فلک رس ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے تازہ اور حیات بخش افکار سے فیض یاب ہوں تاکہ ہم اس دھرتی پر اور بے شمار قوموں کے مابین اپنے قومی اور ملی وجود کا اثبات کر سکیں اور فخر سے کہہ سکیں: ہم اس دھرتی کا بوجھ نہیں، بوجھ کم کرنے والوں میں ہیں۔


ای پیپر