Naveed Chaudhry, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
04 May 2021 (11:37) 2021-05-04

رمضان المبارک کی آمد سے قبل پیر کا دن تھا۔ حسب معمول نیند سے بیدار ہوا تو جسم میں درد محسوس ہوا۔ کسی قسم کا شک محض اس لیے نہیں ہوا کہ چند ہفتے پیشتر ویکسینیشن کرا چکا تھا اور اینٹی باڈی (کورونا سے مدافعت) کی رپورٹ بھی آ چکی تھی۔ تین گھنٹے تاخیر سے دفتر چلا گیا اور معمول کے مطابق کام کرتا رہا۔ جسم کا درد بڑی حد تک کم ہو گیا تاہم تھکاوٹ کا احساس تھا۔ روزے شروع ہو گئے۔ کورونا کے ٹیسٹوں کے لیے طبی عملہ دفتر آیا تو سوچا اگرچہ کوئی چانس تو نہیں مگر سمپل دینے میں ہرج ہی کیا ہے سو ٹیسٹ کرا لیا۔ دفتر میں جمعہ کی شب نماز تروایح ادا کر کے اپنے کمرے میں آیا۔ ابھی موبائل چیک کرنے ہی لگا تھا کہ میرے کولیگ چینل 24 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز میاں طاہر لپک کر دروازے پر آئے اور بتایا کہ میرا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آ گیا ہے۔ شدید حیرت ہوئی۔ بہر حال اس صورت میں دفتر مزید رکنا کسی طور مناسب نہ تھا۔ دفتر سے واپس آنے کے لیے نکلا تو مشورہ دیا گیا کہ ایک مستند سمجھی جانے والی نجی لیب سے بھی ٹیسٹ کرا لیں۔ سو سیدھا جیل روڈ پر واقع اس لیبارٹری میں پہنچا اور وہاں بھی سمپل دے دیا۔ گھر آ کر اوپر والی منزل پر چلا گیا اور خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ اگلی صبح اس لیبارٹری کی رپورٹ آئی تو خدشے کی تصدیق ہو گئی۔ مجھے زیادہ علامات تو نہیں تھیں پھر بھی ضروری خیال کیا کہ تمام گھر والوں کے ٹیسٹ کرا لیے جائیں۔ جب ٹیسٹ کرائے تو گھر کے ایک اور فرد کی رپورٹ پازیٹو آ گئی۔ میری طرح میرے بیٹے کو بھی زیادہ علامات نہیں تھیں۔ ڈاکٹروں کی ہدایات پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا اور گھر والوں کا سٹی سکین بھی کرایا۔ میری اہلیہ کی رپورٹ میں معمولی سے خرابی کی نشاندہی ہوئی۔ بغیر کسی تاخیر کے ڈاکٹر آن لائن سے رابطہ کر لیا۔ انہوں نے ادویات کے ساتھ چند انجیکشن تجویز کیے۔ اسی شام یہ ٹریٹمنٹ بھی شروع ہو گیا۔ بھرپور علاج، مکمل احتیاط اور اچھی خوراک کے ساتھ مرض سے چھٹکارے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ سب کی طبیعت بہتر دیکھ کر لیبارٹری والوں سے رابطہ کیا کہ اگلے روز گھر آ کر سمپل لے جائیں۔ اسی شب اچانک میری اہلیہ نے شکایت کی کہ وہ گھٹن محسوس کر رہی ہیں۔ کمرے میں اے سی اور پنکھا دونوں آن تھے۔ تشویش ہوئی تو آکسی میٹر (جسم میں آکسیجن کی مقدار جانچے والا آلہ) استعمال کیا۔ معلوم ہوا کہ آکسیجن کم ہو رہی ہے۔ طبی ماہرین اسے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہیں۔ سو اب انتظار کرنے کا موقع نہیں تھا، اہلیہ کو گارڈن ٹاؤن فیروز پور روڈ پر واقع ایک معروف نجی ہسپتال میں لے گئے۔ ڈاکٹروں نے چند گھنٹے ایمرجنسی وارڈ میں رکھنے کے بعد کورونا وارڈ میں داخل کر لیا۔ کورونا کے علاج کے حوالے سے اس ہسپتال کی شہرت بہت اچھی تھی۔ میری بھابھی اور ایک کولیگ نے بھی یہیں سے علاج کرایا تھا اور صحت یاب ہوئے تھے۔ تشویش اور تسلی کی ملی جلی کیفیت میں میری اہلیہ کا علاج شروع ہوا۔ ابتدائی دو دنوں میں مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔ مرض کے ماہر ڈاکٹر نے ایک انجیکشن تجویز کیا جو خاصا مہنگا تو تھا ہی مگر مارکیٹ سے غائب بھی تھا۔ فیملی سمیت میرے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات اور 

مشکلات میں دفتر ایک لمحے کو بھی الگ نہیں رہا۔ انجیکشن کی تلاش میں اپنی دوستوں کو اور مختلف فارمیسیز کے مالکان کو فون کیے تو پتا چلا کہ مطلوبہ انجکشن دستیاب نہیں۔ ڈاکٹر صاحبان اسی انجیکشن کے فوری استعمال پر زور دے رہے تھے۔ مسلسل رابطے میں رہنے والے سی ای او محسن نقوی صاحب اس مشکل سے آگاہ تھے۔ انہوں نے اطلاع ملتے ہی ذاتی طور پر کاوشیں شروع کر دیں۔ ان کی یہ محنت چند گھنٹوں کے بعد رنگ لائی اور مجھے بتایا گیا کہ مطلوبہ انجیکشن کا انتظام ہو گیا ہے۔ دل کو قرار اس وقت آیا جب میرے دفتر کے ایک ساتھی نے ہسپتال میں ہمارے کمرے کے دروازے پر دستک دی اور ٹیکے میری حوالے کر دیئے۔ میں نے فوری طور ڈاکٹر صاحبان کو آگاہ کیا۔ یہ انجیکشن ایک دن کے وقفے سے دو حصوں میں لگایا جاتا ہے۔ پھر اس کا رسپانس 48 گھنٹوں کے بعد آتا ہے۔ انجیکشن کی پہلی ڈوز اور دیگر تمام ادویات کے استعمال کے بعد اہلیہ کی طبیعت میں بہتری آثار نظر نہیں آئے۔ ایک جونیئر ڈاکٹر نے مضطرب چہرے کے ساتھ کہا کہ صورتحال یہی رہی تو مریضہ کو آئی سی یو میں شفٹ کرنا پڑے گا۔ وہ بہت اذیت ناک رات تھی۔ سامنے موجود میٹر کی سکرین جسم میں آکسیجن کی گھٹتی بڑھتی مقدار نمایاں کر کے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہی تھی۔ پھر رات کے پچھلے پہر دعاؤں کی قبولیت کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے۔ اگلی صبح ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد خوشخبری سنائی کہ ایک دو دنوں میں گھر جانے کی تیاری کر لیں۔ بالآخر امتحان کی یہ گھڑی ٹلی۔ یہ سطور تحریر کیے جانے تک میری اہلیہ آکسیجن سپورٹ کے ساتھ گھر آ چکی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے اور ہم سب اہل خانہ ان کی تیمار داری کر رہے ہیں۔ طبی عملے کی جز وقتی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بے حد کرم کیا۔ اس کے باوجود ایک ڈراؤنے خواب کی طرح یہ مناظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ ماں جیسی بڑی بہن کو پچھلے سال اسی مرض کے ہاتھوں کھو چکا ہوں۔ کئی قریبی دوست بھی اسی موذی وائرس کے سبب دنیا چھوڑ گئے۔ یہ عظیم المیہ ہے کہ اس وائرس کی ہلاکت خیزیوں کے وقت ہمارے ملک پر وہ حکومت مسلط ہے کہ جس کی کوئی واضح پالیسی ہے نہ گورننس۔ اب تک قوم کو جتنا بھی نقصان ہوا یا بچاؤ ہوا وہ محض اوپر والے کا کرم ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے حالات دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کب سے یہ وبا پاکستان پر مسلط ہے مگر ہمارے مسخرے حکمران ویکسین تک نہیں بنا سکے۔ باہر سے مانگ تانگ کر گزارہ ہے یا پھر بین الاقوامی امداد کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ خود این سی او سی کی کارکردگی اس قدر ناقص ہے کہ شہباز شریف جیسے اسٹیبلشمنٹ دوست سیاستدان بھی جیل سے باہر آتے ہی پھٹ پڑے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا دعویٰ ہے کہ کورونا کے سلسلے جمع ہونے والی مجموعی رقم میں سے صرف 13 فیصد مریضوں پر صرف ہوئی باقی سب حکومت کھا گئی۔ کرپشن کا سلسلہ پچھلے برس وبا کے آغاز سے جاری ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ کے جج حضرات بھی دنگ رہ گئے تھے جب این سی او سی کی جانب سے بتایا گیا کہ فی مریض 25 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں وائرس کے متاثرین اور اموات کے اعداد و شمار درست نہیں۔ پچھلے سال بھی جب سرکاری ہسپتالوں میں لوگ دھڑا دھڑ مر رہے تھے۔ سرکاری طور پر تیار کردہ ڈیٹا کچھ اور ہی بتا رہا تھا۔ زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت بھی اگر کوئی سرکاری یا نجی تنظیم کوئی کام کر رہی ہے تو چند افراد کا عمل ہے جو خدمت خلق اور خوف خدا کے باعث ہے۔ حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں۔ یہ بات آپ، میں، سب ہی جانتے ہیں کورونا لاک ڈاؤن کی نام نہاد پابندیوں کے باوجود بازاروں میں رش اور لوگوں کا میل جول اسی طرح سے ہے جیسے معمول کے دنوں میں تھا۔ سو آج سے ہی عہد کر لیں کہ جو کرنا ہے خود کرنا ہے۔ پڑھنے والوں سے یہی درخواست ہے کہ کورونا کو ہرگز غیر سنجیدہ نہ لیں۔ تمام احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کریں۔ باہمی میل جول کم رکھیں۔ مریضوں کی عیادت فون پر کریں۔ خود جانا ہو تو تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور جلد سے جلد واپس لوٹ آئیں یہ بھی یاد رکھیں کہ ویکسینیشن کوئی گارنٹی نہیں مگر لگوانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ جسم میں مدافعت پیدا کر دیتی ہے۔ آثار بتا رہے ہیں کہ یہ وائرس ابھی موجود رہے گا۔ اس کی شکلیں بھی تبدیل ہونگی۔ کبھی برطانوی تو کبھی افریقی ساخت سے دنیا کو متاثر کرے گا۔ ہمیں احتیاطی تدابیر نا صرف خود اختیار بلکہ اپنے گھر والوں، دفتر کے ساتھیوں اور اہل محلہ کو بھی قائل کرنے کی کوششیں کرنا ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوری دنیا کو جلد از جلد اس موذی وائرس سے نجات دلائے؛ آمین


ای پیپر