Khalid Mahmood Faisal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
04 May 2021 (11:30) 2021-05-04

ہم اس عہد میں جی رہے ہیں جہاں کارپوریٹ کلچر کو شعوری انداز میں عام کیا جارہا ہے تاکہ گلیمر کی دنیا آباد رہے۔آزادی اور صنفی مساوات کے نعروں سے اسکی آبیاری وہ طبقہ کر رہا ہے جو فکر آخرت سے آزاد اور دنیا کی محبت میں گرفتار ہے،کہا جاتا ہے کہ گلیمر کا اصل میدان جسم ہے روح کی ترقی اسکا ہدف نہیں ہے۔

گلیمرس طرز زندگی اپنانے والے کیا جانے کہ روح کی ترقی کیا ہے،،اللہ کا ہاتھ جب بندہ مومن کا ہاتھ بنتا ہے تو معجزے رونما ہوتے ہیںجذبہ شوق شہادت پیدا ہوتا ہے۔ مجاہد کی روح ظلم کے خلاف جہاد کرتی جب اُوپر جاتی ہے تو اِسکا مقام جنت ہی قرار پاتا ہے،تیررفتار ترقی،ایٹمی ہتھیاروں کے زعم میں مبتلا سپر پاورز کو یہ فلسفہ اس وقت تک سمجھ میں نہیں آیا تھا،جب تلک انہوں نے اپنی شکست آنکھوں سے دیکھ نہ لی،کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ دنیا کی سُپر پاور کو درے کے اسلحہ سے مغلوب کیا جاسکتا ہے،ٹینکوں پر سوار ہو کر آنے والے گرم پانیوں تک جانے کی آرزو لئے وہ شکست خوردہ لوٹیں گے، جنکی تاریخ یہ تھی وہ ہمیشہ فاتح رہے مفتوح نہ ہوئے،اس سرزمین پر کسی بڑی طاقت کی دوسری بڑی ناکامی تھی، وہ گلیمرس کی دنیا  میں مگن ، اپنے نظام پر نازاں حقیقت سے کوسوں دور تھے جس کا سہارا لے کر دنیا کو دھوکہ دیا جارہا تھا، ہمسایہ کی ظاہری حالت دیکھ کر طاقت کے نشے میں مخمور ان بیساکھیوں کے سہارے اپنے سرخ انقلاب کا ایجنڈا نافذ کرنے کے آرزومند تھے کہ وہ خواب راستے ہی میں چکنا چور ہو گئے، اس انقلاب کی محبت میں غلطاں سیاسی یتیم اب زخم چاٹنے کے لئے اس عہد کی مقتدر شخصیت کو خرافات کی سان پر رکھتے ہیں جنہوں نے مجاہدین کی پشت بانی کی تھی ،جنکی ہمت ،طاقت دیکھ کر تب امریکہ اور اسکے اتحادی روسی مداخلت کے اڑھائی سال بعداس سرد جنگ میں کودے جب انہیں کامل یقین ہوا کہ جذبہ ایمانی سے سرشار مجاہدین اس سرزمین کو سوشل ازم کا قبرستان بنا دیں گے، اُس وقت امریکہ اور مغربی پریس نے لکھا ایک جنگجو سعودی شہزادہ اپنی مال و متاع چھوڑ کر افغانستان کے پہاڑوں کا رخ کر چکا ہے،بعد ازاں یہی شہزادہ انکے گلے کی ہڈی بن کے رہ گیا ،دُنیا اس کو اسامہ بن لادن کے نام سے یاد کرتی ہے۔

 امریکہ ،یورپ کو بھی اُس عہد میں افغانستان میں فوجیں اتارنے کی جرأت نہ ہوئی،تاریخ کا سبق یہ ہے کہ افغانستان پینتالیس برس سے خانہ جنگی میں رہنے کے علاوہ عالمی طاقتوں کی فوجی مداخلت کا شکار رہا لیکن ظلم یہ ہے کہ بے دین، سیکولر، ملحدطبقات نے ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کا ساتھ دیا، جن کا مقابلہ اسلام پسندوں نے کیا، اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابیاں عطا کیں۔

دوسروں کے لئے کنواں کھودنے والا امریکہ خود اس میں گرِ چکا ہے،اب وہ دہائی دے رہا ہے کہ اس گڑھے سے اس کو بحفاظت نکالا جائے ہر ایک کی وہ منت سماجت کر رہا ہے، مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے،اس وقت جب وہ اپنا ایجنڈا اس خطہ میں نافذ کرنے پر قادر تھا، اپنی حمایتی حکومت کے کندھے پر سوار تھا تو اس کو یہ مذہبی ٹولہ دہشت گرد نظر آتا تھا،یہ دوستوں کے کہنے پر بھی ان سے مذاکرات پر راضی نہ تھا برملا کہا کرتا کہ دہشت گردوں سے کون مذاکرات کرتا ہے،آج اِسکے حواری بھی اس گروہ کے ناز نخرے اٹھا رہے ہیںمذاکرات میں اپنی شرائط پر شامل ہو کرفغانستان کی اس سیاسی قیادت نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جذبے صادق ہوں تو منزلیں کھوٹی نہیں ہوتیں اور مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔

ایٹم بم کے علاوہ کونسا ہتھیار نہیں تھا جو نائین الیون کی جنگ میں اہل افغان پر نہیں گرایا گیا تھا، بیس سال کی جنگ کے بعد اپنی شکست کا میڈل گلے میں ڈالے دُنیا کی واحد سپر پاور جب مجاہدین کی سرزمین چھوڑ رہی ہو گی تو کیا منظر ہو گا؟ آسودہ خاک اسلامی قیادت جس نے جہاد افغانستان کی بنیاد رکھی خوشی سے نہال ہوگی اور کہہ رہی ہوگی کہ ہمارے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے والا آج ’’گن پوائنٹ‘‘ پر اِس ملک کو چھوڑ رہا جس کو اس نے دنیا میں اُچھوت بنا کے رکھ دیا تھا۔ زیادہ قلق تو اس سازشی ٹولہ کو ہے،جس نے اس سرزمیں کو شرارتوں کی آماجگاہ بنا لیا تھا، اسے یہ غم کھائے جا رہا ہے، کہ اسکا سرمایہ ڈوب جائے گا۔

حزب اسلامی کے قائدنے سچ ہی کہا تھا کہ ہمیں ہماری مرضی کے مطابق جینے کا حق نہ دو گے تو تمہارا جینا بھی دو بھر کر دیں گے، حکمت یار نے منصورہ میں اپنی آمد پر یہ نوید تو سنائی کہ حزب اسلامی اور طالبان دونوں ایک پیج پر ہیں، اسلامی اور پُر امن افغانستان ہم سب کا خواب ہے، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ دوستوں کو ہم سو سال تک یاد رکھتے ہیں مگر دشمنوں کو دوسو سال تک نہیں بھولتے، کشمیر چار ایٹمی ممالک کے مابین ایک حل طلب مسئلہ ہے، اس خطہ میں دیرپا امن کے لئے افغان سرزمین سے بیرونی افواج کی واپسی اور مسئلہ کشمیر کا حل دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ امریکی کی واپسی پر صرف وہ آنسو بہا رہے ہیں جنہوں نے اس سرزمیں پر تشدد، نفرت کا بوجھ بیج بویا تھا، لیکن دُنیا نے مذاکرت کی میز پر دیکھا کہ اس قدر خوبصورت سفارت کاری کے ساتھ طالبان نے اپنی بات کو اس ریاست سے منوایا جن کی نظر میں وہ دُنیا کے گنوار افراد تھے۔

امریکی افواج کی واپسی آئندہ چند ماہ متوقع ہے لیکن بیس کی خانہ جنگی نے جو زخم اہل افغان اور پاکستان کو لگائے ہیں اخلاقی دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ امریکہ کی ایک دانش گاہ نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں، یہ عالمی ادارہ کے لئے ایک آئینہ کی حیثیت رکھتے ہیں جس کے ناتواں کندھوں پر قیام امن اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ہے، اس نام نہاد جنگ میں دولاکھ اکتالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 71ہزار معصوم شہری بھی شامل ہیں جبکہ صرف دوہزار امریکی فوجی موت کے منہ میں گئے ہیں، بھاری بھر سرمایہ انکل سام بچا سکتا تھا اگر وہ اس خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوتا کہ روس کی شکست و ریخت میں اسکا اسلحہ کام آیا تھا آج اسے یہ اندازہ تو ہوا ہوگا کہ ہتھیار شوق شہادت کے جذبہ کے سامنے بے معنی ہیں۔ دنیا کو اخلاقیات، انسانی حقوق کا درس دینے والے ممالک گلیمر کی دنیا کے باسی آزادی اور مساوات کا باشن دینے والے کیا ان معصوم شہریوں کو دیت ادا کرنے کی کوئی تحریک چلائیں گے؟ جو بے گناہ اس جنگ کا ایندھن بنے ہیں۔ جنیوا مذاکرات کی آڑ میں اگر متحارب گروہوں کی پشت پناہی نہ کی جاتی وہاں عوام کے فیصلہ کا احترام کیا جاتا تو کبھی خانہ جنگی نہ ہوتی امن اس ریاست کا نصیب ہوتا تو انکل سام کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

جن مجاہدین کے طفیل امریکا بہادر اِس دُنیا کی اَکلوتی سپر پاور بنا تھا ان پر ہی عرصہ حیات تنگ کر کے اس نے احسان فراموشی کا ثبوت دیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس کا نیوورلڈ آرڈر پورے عالم میں انصاف پسندی، دولت کی منصفانہ تقسیم اور مظلوم اقوام کی آواز بنتا، امن اور شانتی اس عالم کو میسر ہوتی تو افغانستان سے رسوائی کے ساتھ یوں نکلنا کبھی اس کا مقد ر نہ ہوتا۔


ای پیپر