Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
04 May 2021 (11:25) 2021-05-04

سعودی عرب نے گزشتہ دنوں یمن کے حوثی باغیوں کو جنگ بندی کی پیشکش کی تھی، جس کے تحت انہیں دو رعایتیں بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔ جن میں پہلی رعایت ثنعا کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے متعلق جو یمن کے بیرونی دنیا سے رابطے کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور دوسری رعایت ہدیدا کی بندرگاہ سے متعلق جہاں سے تیل کی برآمدات پر وصول ہونے والے ٹیکس اور کسٹم کی فیسیں یمن کے سینٹرل بینک کے مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع کی جائیں۔ جس تک حوثیوں اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت کو برابر رسائی حاصل ہو گی، تاکہ سول ملازمین اور دیگر پروگرامز کے اخراجات پورے کئے جا سکیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوترس نے جنگ بندی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا اور کہا یمن میں جاری تنازع اور یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ضروری ہے اور اقوامِ متحدہ اس مقصد کے حصول کے لئے دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ لیکن حوثیوں نے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ 

حوثی باغیوں کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ ان کی تاریخ سفاک اور انتہائی خون ریز ہے، یہ لوگ ہمیشہ سے مسلم دشمنی میں سرِ فہرست رہے ہیں۔ غیروں کا اآلۂ کار بن کر انہوں نے ہمیشہ سے صحیح العقیدہ مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام کیا۔ یہ لوگ موجودہ دور میں بھی یہی کام انجام دے رہے ہیں کہ فتنہ و فساد، مسلم دشمنی اور مسلم ملکوں کے خلاف سازش کرنے کے لئے خانہ کعبہ جیسے مقدس مقام اور عظمتوں و عقیدوں کی جگہ کو گزند پہنچانے کی ہمت و جرأت کر رہے ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مقاماتِ مقدسہ کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی گھناؤنی کوششوں نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کے ہر حصہ میں مسلمان اور امن پسند غیر مسلموں کو ان واقعات نے شدید ذہنی صدمہ پہنچایا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کو بربریت کا ہدف بنانے کی کوشش کر کے انسانیت، اخلاقیات اور دینی حدود کو پار کر دیا ہے۔ ان مسلم دشمن طاقتوں سے بچنے یا نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے وہ ہے امت کا اتحاد لیکن مسلم امہ میں یہ بالکل مفقود ہو چکا ہے۔ اسی لئے ہم دنیا میں بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں ہم ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں جو ہمیں مزید کمزور کر رہے ہیں۔   

حوثی زبان سے اسلام کے دعویدار ہیں اور عمل سے اسلام دشمن ہیں۔ یہ لوگ نہ جانے کس دین کے علمبردار ہیں، پتہ نہیں ان کا عقیدہ کیا ہے، یہ کیسے نام نہاد مسلمان ہیں جو مسلمانوں کے خلاف جنگ کا بگل بجائے ہوئے ہیں، مسلمانوں کے دینی مرکز پر حملہ کر کے دینِ اسلام کے دشمنوں کی مدد کر رہے ہیں۔ کینہ پرور فرقہ پرست یہ لوگ یہودیوں کے کس قدر قریب ہیں دلوں میں کفر رکھنے والے اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ سے نفرت کرنے والے اہلِ نفاق کا یہی وتیرہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں اور ان کے مقدس مقامات سے نفرت کے باب میں ہر ظالم اور ہر سرکش سے ہاتھ ملائے ہوئے ہوں۔ یہ لوگ جس فکر و خیال سے وابستہ ہیں اس سے جڑے لوگوں کی جب تاریخ پڑھتے ہیں جیسے عبد اللہ بن سبا یہودی سے لے کر قرامطیوں اور صفویوں تک تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ سے مسلمانوں کے بد خواہ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی ہیں، فتنۂ و فساد، قتل و غارت گری میں پیش پیش رہے ہیں اور یہی نہیں بلکہ ہمیشہ سے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن روئے زمین پر سب سے مقدس گھر اور سب سے پر امن مقام پر ان کی ترچھی نظر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی پرانی خباثت بھری تاریخ کا اعادہ کیا ہے اور یہ ثبوت فراہم کیا ہے کہ ہماری لڑائی صرف سعودی حکومت سے نہیں ہے بلکہ ہم ایک خفیہ ایجنڈے کو بروئے کار لانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ حوثی ملیشیانے یمن کی حقیقی حکومت کو ہٹا کر پورے ملک یمن کو جنگ کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ کعبہ شریف اور دیارِ رسولؐ مدینہ منورہ پر ماضی میں متعدد بار دہشت گردی کا حملہ ہو چکا ہے۔ سعودی عرب میں مقاماتِ مقدسہ کو نشانہ بنا کر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل داغنا انتہائی شرپسندانہ اقدام ہے۔ سعودی عرب بالخصوص مکہ پر حملہ کرنا اور خانہ کعبہ کو نشانہ باندھنا دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر حملہ کرنے کے مترادف ہے یہ ناقابلِ معافی اور بدترین جرم ہے اور ان کے اس اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورے خطہ عرب کے لئے کس قدر خطرناک ہیں ۔ ظاہری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے گھر کے بد خواہوں سے بدلہ ضرور لے گا لیکن اس موقع پر ضروری ہے تمام دنیا کے مسلمان اس سازش اور اس کے پسِ پردہ چھپی طاقتوں کو پہچانیں اور انہیں بے نقاب کریں۔ 


ای پیپر