Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
04 May 2021 (11:23) 2021-05-04

جو عناصر، عوامل، تمدن، اسباب کِسی فرد خاندان معاشرت ملک میں اجزائے ترکیبی کے طور پر شامل ہوں اُن سے ہٹ کر عمل کرنا اُس کے بس سے باہر ہوا کرتا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک اور اس کے اندر سے حضرت علامہ اقبال ؒ کے نظریات پر قائد اعظم ؒ قیادت میں مسلمانوں کے لئے الگ وطن کی تحریک اس میں شامل شخصیات اور مراحل اب تاریخ کے اوراق میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی تخلیق کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں الحمدللہ بعد از قیام پاکستان حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ ہی نہیں مسلمان ہونے کی ڈگریاں بھی دینے لگیں۔ آزادی کے وقت جو کشت خون، لوٹ مار، چور بازاری ہوئی۔ مہاجرین کی بحالی میں جعلی کلیمز نے کرپشن کی بنیادیں رکھیں ان کی جڑیں دوسرے سرکاری محکموں تک پھیل گئیں۔ بعد میں پاکستان میں تقسیم ہوا اور موجودہ پاکستان میں مسلمانوں کی تقسیم لسانی، مذہبی، ملکی، علاقائی، سماجی، سیاسی و دیگر حوالوں سے جس خوفناک ادوار سے گزرتی ہوئی حدیں عبور کر گئی۔ آج نفرت کے جس اوج ثریا پر فائز ہے کسی دوسرے ملک کو نصیب نہیں۔ قانون کی حکمرانی، آئین کی سپر میسی کے بجائے شب روز ہنگاموں، اندھیروں، قرضے، حکمرانوں کے اخراجات کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔ معروف افسانہ نگار لکھاری خشونت سنگھ بنیادی طور پر وکیل تھے مگر شہرت لکھاری کے طور پر پائی۔ کہتے ہیں دنیا کی کوئی یونیورسٹی، سکول کالج کسی کو لکھاری نہیں بنا سکتی۔ گویا یہ ودیت ہے، خدا داد ہے، یونیورسٹیاں ادارے کسی کو ڈگریاں، عِلم اور شعور تو دے سکتے ہیں مگر شعور، علم اور خیال کو سپرد قرطاس کرنا صفت ہے جو محض علم کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی لکھاری وجاہت مسعود، رضا علی عابدی، منو بھائی کی طرح صاحب علم و شعور بھی ہو تو معاملہ دو آتشہ ہو جایا کرتا ہے۔ ایسا لکھاری تاریخ کے اوراق میں بطور اثاثہ شامل ہوتا ہے۔ خشونت سنگھ پاکستان میں ہوتے تو ایک پاکستانی کے طور پر پہچان ہوتی مگر ان کی تحریر میں جب پڑھا، جنگ کا زمانہ میں نے لاہور میں گزارا۔ گو کہ کچھ سال بعد مجھے کچھ مقدمات ملنے شروع ہو گئے لیکن یہ آمدنی اس معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے 

جس کا میں عادی تھا، بالکل ناکافی تھی۔ میرے والد صاحب بہت فیاض شخص تھے۔ انہوں نے لارنس 

گارڈن کے قریب مجھے ایک بنگلہ خرید کر دیا اور دو مرتبہ کار بدلوائی۔ یہ عام فہم بات تھی کہ میری پریکٹس بہت کم تھی اور بہترین چیز جس کی میں امید کر سکتا تھا وہ یہ تھی کہ اپنے تعلقات کے ذریعے بنچ تک رسائی حاصل کروں۔ لاہور نے مجھے جو بہترین تحفہ دیا وہ قانون کے پیشے میں تیزی سے ابھرتے ہوئے قانون دان منظور قادر کی دوستی تھی۔ وہ ایک ناقابلِ یقین حد تک لائق اور دیانتدار شخص تھے۔ میری طرح وہ بھی دہریہ (ملحد) تھے انہوں نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ اور چیف جسٹس کے اعلیٰ عہدے حاصل کیے۔

جیسے ہی انگریزوں نے انڈیا کے بٹوارے کا فیصلہ کیا یہ واضح ہو گیا کہ لاہور پاکستان میں چلا جائے گا۔ 1946ء میں شمال مغربی پنجاب میں ہندو اور سکھوں کا وحشیانہ قتل شروع ہو چکا تھا اور یہ تشدد آہستہ آہستہ مشرق میں لاہور اور امرتسر تک پھیل گیا۔ 1947ء کے موسم گرما تک یہ واضح ہو گیا کہ اگر کسی طرح فسادات نہ روکے گئے تو ہندوؤں اور سکھوں کو پاکستان سے نکلنا ہو گا۔ اس نے مجھے بھی پیغام بھیجا کہ میں لاہور میں رہوں، ظاہر ہے کہ وہ بنچ میں غیر مسلموں کی شمولیت چاہ رہا تھا۔ لیکن فرقہ وارانہ دشمنی اتنی خوفناک تھی کہ اگست 1947ء میں، میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت تک کے لئے جب تک ہنگامے رک نہیں جاتے لاہور چھوڑ دوں۔ (میں نے حفاظت کیلئے گھر منظور قادر کے حوالے سے کر دیا)۔ میں کبھی اس کے مالک کی حیثیت سے واپس نہ آ سکا۔ کچھ سال کے بعد میں آیا تو اس میں قادر فیملی کے مہمان کی حیثیت سے قیام کرنے کے واسطے آیا۔

معروف برطانوی صحافی اور مصنفہ ایماڈنکن اپنی کتاب (BREAKING THE CURFEW) میں ایک واقعہ لکھتی ہیں کہ: پنجاب اور سندھ میں ہمیشہ زمینداروں اور جاگیرداروں کا زور رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے یونینسٹ پارٹی جاگیرداروں اور زمینداروں کی برسر اقتدار پارٹی تھی۔ جب اس کا زور ٹوٹا تو زمیندار اور جاگیردار مسلم لیگ میں شامل ہونے لگے۔ وہ کس طرح مسلم لیگ میں شامل ہوئے اس سلسلے میں مجھے ملتان کے ایک پرانے ساست دان اور جاگیردار نے ایک حقیقی واقعہ سناتے ہوئے یہ وعدہ لیا کہ میں اصلی نام نہیں لکھوں گی۔ تو وہ حیران کن واقعہ یہ ہے کہ جب یونینسٹ پارٹی کو زوال ہو رہا تھا تو ایک جائیداد خاندان کے سربراہ کو گورنر ہاؤس سے پیغام ملا کہ اب ملک تقسیم ہو کر رہے گا۔ اس لئے وہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائے۔ اسے بتایا گیا کہ اس کے بیٹے کو حراست میں لیا جائے گا۔ جب اسے جیل کی طرف لے جا رہے ہوں تو وہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے منہ پر ایک طمانچہ مارے اور نعرے لگائے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ یوں اس کے خاندان کو مسلم میں شامل کر لیا جائے گا۔ امر واقعہ یہی ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ اس خاندان کے ایک فرد کو جیل بھیج دیا گیا۔ جہاں ملازم اس کی خدمت کے لئے موجود تھے۔ اس کا کھانا گھر سے آتا تھا۔ اس قصے کی شہرت پورے شہر میں پھیل گئی کہ ایک بڑے جاگیردار کے بیٹے نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو تھپڑ مارا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ اکیس دنوںکے بعد جب وہ جیل سے باہر نکلا تو لوگ اس کے استقبال کے لئے موجود تھے، وہ برطانیہ مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس کو ہار ڈالے گئے اور وہ مسلم لیگ میں ’’اپنی شاندار خدمات‘‘ کی وجہ سے اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس کے علاوہ بہت سی باتیں ہیں جو بیان کی گئی ہیں، کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے نقل نہیں ہو سکتیں۔ اُنہوں نے اپنی کتاب میں وطنِ عزیز کی اشرافیہ حکمران طبقوں کے دوہرے معیار، منافقت، خوفناک اور غیر آئنی کام آئین اور قانون کے ریلیٹنگ پیپرز میں لپیٹ کر عوام کے سامنے پیش کرنے کے واقعات اور عوام کے کردار کی بھی خوب تعریف کی۔ ایماڈنکن کے انکشافات کے بعد بالکل حیرت نہیں ہوتی کہ موجودہ ن لیگ، ق لیگ، ج لیگ، ایم کیو ایم، سپاہ صحابہ یا جے آئی کیسے وجود میں آئیں۔ یونینسٹ سے مسلم لیگی، پاکستان مخالف جماعتیں حب الوطنی، عفو و درگزر، رواداری، ایثار اور قربانی محبت، اخوت کے درس دیتے ہوئے مذہب اور اسلاف کے کردار کی جگہ لاٹھی، گولی، گاڑی مال متاع آ جائے تو حیران ہونے کی ضرورت نہیں، سر شت سے فرار نہیں ہوتا۔ امریکی یورپی حتیٰ کہ عربی بطور قوم جس قدر لڑاکے، جنگجو، جرائم پیشہ تھے وطنِ عزیز کے ہر سطح کے قبضہ گروپوں، بدمعاشوں، قانون شکنوں کی تو ان سامنے کچھ حیثیت نہیں ہے مگر قانون کی عملداری اور حکمرانی ہی مہذب اقوام میں ہی شامل کر سکتی ہے۔ وزیراعظم سولی چڑھے، برخاست ہوئے، قید ہوئے، جلا وطن ہوئے۔ دیکھتے ہیں آئندہ سرشت یاور کرتی ہے یا قانون۔


ای پیپر