دوطاقتورطبقے....
04 May 2021 2021-05-04

نظام بدلتے ہیں لیکن اچھی خاصی زمینی کروٹوں اور مخصوص اقتصادی تبدیلیوں کے زیراثر جو مختلف ادوارمیں مختلف توارخ کے ساتھ رونما ہوتی ہیں جیسے برصغیر کی سیاسی تاریخ و برطانوی فتوحات کا دوایک صدی پیچھے کا نظام.... ابھی تک تو مغلوں ، مرہٹوں، راجپوتوں اور سکھ مہاراجاﺅں کے اثرات مدھم نہیں پڑھے....

تو کیا ہم ”تبدیلی“ کے لیے ”اتاﺅلے“ ہورہے ہیں وہ تبدیلی جو قلب ونظر اور عقائد کے درکھولتی ہے سب سے بڑی تبدیلی کہلاتی ہے اور جس کے مآخذ انبیاءاکرامؑ تھے پھر اولیاءپھر مفکرین ان میں سے بھی مشرق ومغرب کے اقتصادی نظام مع نظریہ حیات والے الگ الگ.... چین روس مغرب اور مشرق کے مفکر ین نے طویل ترین ریسرچ اور سوچ کے نتیجے میں نظریات دیئے۔ چین کے کنفیوشس ، روس کے لیلن، جرمنی کے کارل مارکس نطشے بالترتیب سیاسی نظریے سوشل ازم کمیونزم، میٹریل ازم ودیگر نظام ہائے ریاست پرمبنی اقتصادیات وسماجی رویے.... صدیوں کی سوچ میں پیدا ہونے والے نتیجہ کن نظام جوکسی نہ کسی بڑے انتہائی مفکر کے نظریے سے ماخوذ ہیں۔....

مشرق کی تخلیقی ، ادبی، تہذیبی سوچ میں پرورش پانے والی سوچ زیادہ ترحتمی نظریے مستعارلیتی رہی اقبال پر نطشے کے اثرات Super Manبامعنی مردمومن ڈھکے چھپے نہیں.... سوچ کو چاندی کے ورق میں لپیٹ کر اپنانا بھی مستحسن ہے اقبال بڑے مغربی مفکرین کے معتقد رہے ہیں۔

سیاست اور تخیل قائد اور اقبال کی صورت میں باہم میسر ہوکر برطانوی تسلط سے نجات میں معاون ہوا جبکہ ذہین ہندوسیاست دان زیرک سوچ اورگاندھی کا صوفیانہ رویہ بھی رہن سہن سمیت برطانوی چالاکیوں کے توڑ کو موجود تھا....

اس ساری بحث میں میرا مطلب اب کی سطحی سوچ کی تذلیل نہیں لیکن بلبلے اڑاتی سوچ چھچھلتے ہوئے نعرے سوچ سے عاری نعرے طعنے تو ایسے کہ موصوف خان بہادر دیگر لیڈروں کے بچے باہر رہنے کے طعنے دیتے ہیں.... چہ معنی دارد ؟....

چلیں مان لیا مفکرین صدیوں تلک زمینی رس پی کرپروان چڑھتے ہیں اور گزشتہ صدی ٹرک زدہ ، نالائق بچوں والی اور انتہائی ناآشنائے تاریخ وادب ہے ان کی تعلیم کھیلنا، مغرب میں رہنا دنیا میں رائج ہزاروں لاکھوں کھیل میں سے ایک کھیل کے اسرار ورموز سے ہلکی پھلکی واقفیت سہی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توقعات باندھنے والے توان سے بھی زیادہ نالائق ہوئے نا ....

ہمیں تو ماضی کی گہری سوچ بھی میسر نہیں ایک کھلاڑی سے کیا توقعات باندھیں گے....؟

گزشتہ دنوں ایک رمضان بازار میں محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک سرکاری بچی کی ”لاءپاءکرکے رکھ دی سربازار بے عزتی سے فارسی کا معروف شعر یاد آگیا ....

بیاجاناں تماشہ کن کہ درانبوہ جانبازاں

بصد سامان رسوائی سرِ بازار می رقصم 

مجھے واقعے سے ہٹ کر دومختلف شعبہ ہائے حیات کی خواتین کا تجزیہ مرغوب ہے نام سے فرق نہیں پڑتا میں خوداپنے دفترمیں بطور ڈائریکٹر ان سیاسی خواتین سے بے پناہ مل چکی ہوں محترمہ فردوس صاحبہ سے تو بطور کالم نگار تعارف ہے سرکاری مشینری کا خود حصہ ہوں.... لہٰذا بڑے قریب سے ان شعبوں کے تفاخر اور طاقت کے اظہار سے واقف ہوں تھوڑے سے طریقے کے فرق کے ساتھ سب کے اپنے اپنے تفاخر اور طاقت کے سورس Sourceہیں سرکاری طورپر ڈرائیورزگن مین اور فیلڈ میں کام کرنے کے لیے نفری ہوتی ہے یہی سرکاری گاڑیاں سیاسی گدیوں کے پاس بیٹھنے والوں کے ہاں ہوتی ہیں مع ڈرائیور وگارڈز میری بعض مرتبہ تصویر عملے اور آرٹس کونسل کے گارڈ کے ساتھ بن جاتی ایسی جگہوں پر تعیناتی کے لیے اسلحہ بردار ضروری ہوتے ہیں ہالز میں کسی وقت بھی بھگدڑ ہوسکتی ہے لہٰذا پولیس بھی ہمراہ ہوتی ہے پھر وی آئی پیز کی آمد.... ذاتی طورپر بہت سارے تعارف جیسے شاعرہ افسانہ نگار کالم نگار ریسرچرسرکاری افسر میں سے مجھے بطور قلمکارہی اچھا لگتا ہے۔ موسیقار، مصوروں اور تخلیق کاروں میں رہنا ہی بھاتا ہے سرکاری افسری کو کبھی دشنام نہ بننے دیا ہمیشہ سوچ نظریے اور فکر کو اہمیت دی .... جس نتیجے پر میں پہنچی ہوں یہ گارڈز، گاڑیاں، افسریاں کچھ بھی نہیں ہوتیں اور رہ گئی سیاست تو ایک نالائق وزیراعلیٰ کو اہل ثابت کرنے کی خوشامدی ڈیوٹی سے محترمہ کی اپنی ڈاکٹری کی تعلیم زیادہ معتبر ہے....

سونیا صدف اگر کالے انگریزوں کی کھیپ میں منتخب ہوکر آئی ہیں تو ان کا کیا قصور مڈل کلاس گھرانوں کے بچے ایسے ہی خواب دیکھتے ہیں سسٹم تو ہم نے اپنا رکھا ہے برطانوی اثرات سے ہی اشرافیہ کا تعین ہوتا ہے تو پھر نوکری سے کیوں نہیں....؟

عوام کو کسی کا ساتھ دینے کی ضرورت نہیں کہ دونوں اپنے اپنے شیل میں بند ہیں جس کو جو سہولت جہاں مل رہی ہے وہ وہیں لگا ہوا ہے۔ دونوں قابل رحم نہیں ماسوائے ہماری اخلاقی اقدار کے جس کا جنازہ برسرعام ٹرالوں پر نکل چکا ہے۔ سیاست دانوں کو عوام کو ”باندر“ بناکر مقصد حاصل ہوتا ہے اور سرکاریوں کو رعب دکھاکر ،یہ عوام کے حاکم طبقے ہیں اور بیک وقت خدمت کے دعوے دار بھی ۔دعا ہے خدا کسی سچے خادم سے واسطہ کرائے نہیں تو عوام اپنے کام خود ہی کرتے بھلے....


ای پیپر