اخوت میں حصہ ڈالیں!
04 May 2021 2021-05-04

رمضان المبارک میں بے شمارفلاحی ادارے اپنے اپنے کارناموں کی بنیادپر یہ حکم دیتے ہیں ہم اُن پر لکھیں۔ فلاحی اداروں سے وابستہ ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے لوگ ہماری تحریروں پر اعتبار کرتے ہیں لہٰذا ہماری تحریریں پڑھنے کے بعد وہ اپنی زکوٰة اُن کے فلاحی اداروں کو دیں گے۔ اللہ نے ہم ایسے لکھاریوں کا بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے ہماری باتوں کا اب ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا لوگوں پر کیا ہونا ہے؟۔ البتہ یہ درست ہے انسانی فلاح کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دینے والے اداروں پر لکھنا کارثواب ہے۔ ہم چونکہ اب ”ثوابوں“ سے زیادہ گناہوں پر یقین رکھتے ہیں لہٰذا ہم زیادہ تر سیاسی موضوعات پر جھوٹ سچ لکھ کر اُس طرح گناہوںکے مرتکب ہوتے رہتے ہیں جس طرح ہمارے سیاستدان یا ہمارے حکمران جھوٹ سچ بول کر گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک سیاست کی غلاظت سے ہٹ کر کچھ اخلاقی و فلاحی موضوعات پر لکھنا اُن گناہوں کا کفارہ ہے جو ہم سیاست کی غلاظت پر لکھ کر کرتے ہیں، ایسے ادارے اور اُن سے وابستہ کچھ ایسی شخصیات جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیں اُن کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھ کر اصل میں ہم اپنے ہی دل کو پاک کرنے کی چھوٹی موٹی کوشش کرتے ہیں، میں بے شمار فلاحی اداروں سے کسی نہ کسی حیثیت میں وابستہ ہوں، میں پوری کوشش کے باوجود ان اداروں کے لیے وہ کچھ نہیں کرپاتا جو مجھے کرنا چاہیے۔ مجھے یاد ہے ایک بار کسی عزیز کی شادی پر میں اپنی امی جان کی گود میں بیٹھا تھا جب اُن کے ایک کزن نے مجھ سے پوچھا ” بیٹا آپ بڑے ہوکر کیا بنو گے؟ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا ” میں ”ایدھی صاحب“ بنوں گا“ .... میں اُن کے قدموں کی دُھول بھی نہیں بن سکا، پر میں جب اپنے بڑے بھائیوں پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز، ڈاکٹر امجد ثاقب، سید عامر محمود جعفری اور اُن جیسی کچھ اورشخصیات کو انسانیت کی خدمت میں مصروف دیکھتا ہوں ۔ میرا احساس محرومی تھوڑا کم ہو جاتا ہے کہ چلیں میں”ایدھی صاحب“ نہیں بن سکا، مگر کچھ ”ایدھی صاحبان“ کے ساتھ اللہ نے میرا تعلق ضرور جوڑ دیا ہے، میرا ایمان ہے روز حشر اِن ”ایدھیوں“ کا الگ ہی ایک مقام ہوگا اور وہ مقام جنت سے بڑھ کر ہوگا، یا یوں کہہ لیں یہ لوگ جنت کے اعلیٰ ترین مقام پر ہوں گے، پہلے میں ذرا ڈاکٹر امجد ثاقب کے ذکر سے اطمینان حاصل کرلوں۔ میرا اُن کے ساتھ تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، وہ کئی حوالوں سے میرے محسن ہیں۔ آج تو پھر چار لوگ مجھے جانتے ہیں جب کوئی مجھے نہیں جانتا تھا تب بھی ایسے ہی وہ مجھ سے محبت کرتے تھے، ایسے ہی مجھے عزت دیتے تھے جیسے آج دیتے ہیں، اُن کی محبتوں اُن کے احسانوں کے قرض چکانے کے میں قابل ہی نہیں ہوں، اور جو انسانیت پر اُن کے احسانات اورمہربانیاں ہیں اُن کا اجراللہ ہی اُنہیں دے گا، بلکہ اِسی صورت میں دے بھی رہا ہے کہ اُن کے ہاتھوں سے لگایا ہوا پودا (اخوت) اب ایسا پھل اور سایہ دار درخت بن گیا ہے جس کی چھاﺅں جس کا پھل دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے اخوت کے ابتدائی دنوں میں جب مستحقین کو چھوٹے چھوٹے قرضے مسجدوں میں بیٹھ کر دیئے جاتے تھے، اکثر میں بھی امجد ثاقب کے ساتھ ہوتا تھا، تب مجھے ذرا اندازہ نہیں تھا سول سروس جو پاکستان کی ”بادشاہت“ سمجھی جاتی ہے چھوڑنے والا یہ شخص وہ مقام حاصل کرلے گا سول سروس سے وابستہ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے لوگ جس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، سول سروس میں رہتے ہوئے وہ زیادہ سے زیادہ وفاقی سیکرٹری یا کسی صوبے کے چیف سیکرٹری بن جاتے، یہاں کئی وفاقی سیکرٹری کئی چیف سیکرٹری ایسے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد جن کی کسی کو کوئی خبر ہی نہیں وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟۔ ایک امجدثاقب ہیں اعلیٰ ترین سروس چھوڑ کر ایسے ایسے کارنامے کرچکے، اور کرتے جارہے ہیں، اُن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا، جیسے ہمارے ایدھی صاحب کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا.... میں جب اخوت کے کارنامے دیکھتا ہوں، اور امجد ثاقب کی اُن کارناموں کے لیے جدوجہد دیکھتا ہوں میں یہ کہنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتا اُن کی صورت میں اللہ نے ایک نیا ایدھی ہمیں بخش دیا ہے، میں اکثر سوچتا ہوں اخوت کے اس بانی نے کتنی سختیاں کتنی اذیتیں برداشت کی ہوں گی، کیسی کیسی سازشوں کا سامنا کیا ہوگا، کیسے کیسے مصائب سے گزرے ہوں گے جو اِس مقام پر پہنچے کہ کہاں دس ہزار روپے کا قرض حسنہ دینے سے شروع ہونے والا ادارہ آج مستحقین کے لیے اخوت کے نام سے باقاعدہ ایک یونیورسٹی قائم کرچکا ہے، جو عالمی معیار کی حامل ہے، اِس کے علاوہ دیگر کئی اہم فلاحی پروجیکٹس پر بھی کام جاری ہے، یوں محسوس ہوتا ہے اخوت کی بدولت ایک وقت پاکستان میں ایسا آئے گا جب اپنی ضروریات کی وجہ سے کسی کو بھیک یا قرض وغیرہ مانگنے کی ضرورت ہی شاید محسوس نہیں ہوگی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے جب سول سروس کو خیر باد کہنے کا ارادہ کیا، اس ارادے سے اپنے کچھ دوستوں کو اُنہوں نے آگاہ کیا میں نے سوچا اِس ”پاگل پن“ کا اللہ جانے کیا نتیجہ نکلے گا؟۔ اُن پر وسیع پیمانے پر انسانیت کی خدمت کا بھوت سوارتھا، یہ کارخیر کسی ایک عہدے پر رہ کر ظاہر ہے نہیں ہوسکتا تھا، اُنہوں نے سول سروس چھوڑنے کا جوفیصلہ کیا اُس وقت تو ہمیں وہ اچھا نہیں لگا کہ اُن کی سول سروس یا اُن کے مختلف عہدوں سے ہم ایسے اُن کے کئی دوست بے شمار جائز فوائد حاصل کرلیتے تھے۔ پر اب انسانیت کی خدمت کا ایک کٹھن سفر طے کرکے جس طرح کی منزلیں وہ پاچکے ہیں، جو مقام وہ عالم انسانیت میں حاصل کرچکے ہیں ہم اُن کے ساتھ اپنے تعلق پر فخرکرتے ہیں، اخوت اب عالمی سطح کی شہرت یا نیک نامی کا حامل ادارہ ہے، لوگ اِس ادارے پرویسے ہی اعتماد کرتے ہیں جیسے ایدھی صاحب کی زندگی میں ایدھی صاحب کے ادارے پر کرتے تھے، اِس کا کریڈٹ امجد ثاقب صاحب کے ساتھ ساتھ ان کی پوری ٹیم کو جاتا ہے، اور کچھ حکمرانوں کو بھی جاتا ہے۔ حکمران چاہے شہباز شریف ہوں چودھری محمد سرور ہوں علیم خان ہوں یا موجودہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہوں، امجد ثاقب کی ایمانداری اور جذبہ دیکھتے ہوئے اخوت میں حکومتی حصہ ڈالنے کے عمل کو ان سب نے ایک اعزاز ہی سمجھا۔ آئیے ہم سب بھی اخوت کی مددکریں!!


ای پیپر