کرونا، خوف کہ قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
04 May 2020 (22:01) 2020-05-04

کرونا وائرس دنیا میں اس وقت آیا جب دنیا میں الیکٹرانک میڈیا حیرت انگریز حد تک ترقی کر چکا ہے۔ میڈیا نے لوگوں کو اس قدر متاثر کیا کہ ماضی کی درخشندہ روایات ہی بدل کر رکھ دیں جیسے کہ قانون کی مشہور کہاوت ہے کہ جج بولا نہیں کرتے فیصلے بولتے ہیں مگر اب فیصلے تو مبہم ہیں البتہ جج بولتے ہیں۔یہاں تک کہ میڈیا نے جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ثاقب نثار کو کچھ ایسا متاثر کیا کہ وہ عدالت چھوڑ کر بازاروں، ہسپتالوں، جیلوں، تھانوں اور تھڑوں پر آ گئے۔ محض رات کو بیگم کے ساتھ خبرنامہ میں اپنی بریکنگ نیوز سننے کے لیے۔ لوگوں نے پرائیویٹ ویڈیو میں ایسی ایسی حرکتیں کر چھوڑیں کہ الایمان الحفیظ۔ ہمارے ہاں قومی میڈیا پر وہ لوگ آ گئے جن کی حرکتوں کی وجہ سے آئے روز سٹیج شو بند ہوا کرتے تھے۔

بھونچالی سیاست نے معاشرت کو ایسا تہ و بالا کیا کہ قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور والی بات ہو گئی۔ ایک سیاسی جماعت جو بنیادی طور پر تو مختلف جماعتوں کا مرکب ہے کا ووٹر اور سپورٹر جب اپنی موجودہ لیڈر شپ کو دیکھ کر متاثر ہوا تو ریت و رواج، آداب، اخلاقیات سب برباد ہو گئے ۔ ایسے میں دیکھتے ہی دیکھتے ایسے ’’دانشور‘‘ متعارف ہوئے کسی پر الزامات ثابت ہو نہ ہو بات کر کے اپنا راستہ لیتے رہے اور رب کعبہ کی قسم میں نے جن کو کوڑیوں کو ترستے دیکھا آج وہ کروڑوں کو کوڑی سمجھتے ہیں۔ یہ تو اپنے اس دیس کا حال ہے جس میں مڈل کلاس سرے سے مٹا دی گئی ہے۔ مسافر خانے ، چندہ، غیر اخلاقی کا م ذاتی مسئلہ ا ور یوٹرن یا جھوٹ کو پوری ڈھٹائی کے ساتھ بطور سلوگن اپنایا گیا۔

معاشرت میں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لڑائی جھگڑا، ناجائز فروشی کرنے اور خلاف قانون کام کرنے والوں نے خاندان کا ایک فرد قسم، حلف اور پنچائیت میں بٹھانے کے لیے رکھا ہوتا ہے۔ وہ بوسکی کے کرتے، پگڑی، اچکن، شیروانی، سوٹ، گاڑی، خرچہ ورچہ سب اپنے قبیلے کے ناجائز فروشوں اور جرائم پیشہ لوگوں سے ہی لیتا ہے۔ جب وہ مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو یہ معتبر ان کے مقدمات ختم کرواتا ہے ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ان جرائم پیشہ افراد کے بغیر وہ معتبر بالکل بے اثر ہے اور یہ جرائم پیشہ اس کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کو حکام کی آشیر باد حاصل ہوتی ہے جس سے حکام کا بھی نشہ پانی چلتا ہے۔ یہی حالت سیاست کی ہے اور یہی معتبر مقام موجودہ حکومت میں اب

عمران خان کا ہے۔ جس کو پنچائیت کی بجائے ٹی وی پر خطاب کے لیے رکھا ہوا ہے اور اس کو معتبر حکام کی آشیر باد حاصل ہے جنہیں یہ اشرافیہ کہتا ہے۔ یہی حالت ہمارے حکمران طبقات کی ہے جو جرائم اور کرپشن پروری کے بغیر معتبر نہیں ہو سکتے اور ان کے بغیر کوئی کرپشن اور جرائم نہیں کر سکتا۔ آج کی جمہوری حکومت میں شاید مشرف کے دور میں زیادہ عوامی نمائندگی تھی۔ اتنی مدد تو شوکت عزیز کو بھی حاصل نہ تھی۔

ہم آتے ہیں کرونا کی طرف جس نے دنیا کی تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ اخلاقیات بدل دیں اور بڑی بڑی سلطنتوں کی ترقی زمین بوس کر دی۔ ہمیں طعنہ دینے والے کہ جب شاہجہان تاج محل کی بنیاد رکھ رہا تھا تب گورا آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ آکسفورڈ کی بنیاد ہو یا تاج محل کی جس کی بنیادوں میں انسانیت اور اسلامیت نہیں وہ رب کے قانون کے خلاف بنیاد ہے جو منہ کے بل گرتی ہے۔

امریکہ میں بجلی کے بریک ڈاؤن پر انڈر گراؤنڈ سب ویز،ٹرینوں اور ریلویز سٹیشن پر ہزار ہا عزتیں تار تار ہو گئیں۔ دکانیں لٹ گئیں، بازار لٹ گئے۔ یہ بہت پرانی بات نہیں چند دہائیوں کی بات ہے اور یہ متعدد بار ہوا ہے۔ امریکہ میں کرونا نے اخلاقیات کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ انسانوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔ زمینی حقائق کچھ یوں ہیں کہ کرونا وائرس کے مشتبہ شخص کو ہسپتال داخل ہونے کے بعد کوئی دیکھ نہیں سکتا تا آنکہ وہ قبر میں نہ اتر جائے۔ اس کی بنیادی وجوہات کچھ اس طرح ہیں کہ امریکہ میں ہیلتھ سسٹم کا نظام پرائیویٹ ہے جہاں میڈیکل ٹریٹمنٹ انشورنس پر ہوتا ہے۔ اب امریکہ نے لوگوں کو اس آفت میں مبتلا دیکھ کر اس بیماری کا شکار ہونے والے لوگوں کے علاج کو Own کیا ہے اور ہسپتالوں کو ادائیگی کرنے کی ٹھانی۔ ہسپتالوں میں وہ فلور خالی ہیں جہاں معمول کے مطابق عام مریض جن میں دل، دماغ، کینسر، ہیپاٹائٹس و دیگر امراض کے مریض مبتلا ہیں۔ وہ کرونا کے خوف سے نہیں آ رہے لہٰذا ہسپتال کے مالکان کو جو کمائی عام مریضوں سے نہیں ہو پا رہی وہ حکومت کی طرف سے کرونا کے لیے پیسے دینے کی وجہ سے کرونا کی آڑ میں امریکیوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب ہر مرنے والے کی موت کا سبب کرونا وائرس بنا کر تعداد میں ہوشربا اضافہ کیا جا رہا ہے جو شاید آنے والے دنوں میں نئی انٹرنیشنل معاشی جنگ کی بنیاد بنے۔ ہمارے ہاں تو حکومت سے لے کر عام آدمی تک کرونا کاروبار بن گیا۔

امریکی ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق ٭ یہ بیماری نمونیہ نہیں اس کا علاج غلط ہو رہا ہے۔ ٭ مریض کو وینٹی لیٹر پر ڈال کر پھیپھڑوں پر پریشر ڈالتے ہیں جس سے ARDS سانس کی شدید بیماری پیدا ہو جاتی ہے جو نظام تنفس کو برباد کرتی ہے اور پھیپھڑے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ ٭ یہ صرف high attitudeہے جسے ماؤنٹ ایورسٹ پر جا کر ہو ،یہ علاج غلط ہو رہا ہے جیسی بات ہے ہمارے جیسے غیر ترقی یافتہ ممالک میں بھی پہلے روایتی آکسیجن پر آیا جاتا ہے پھر کہیں جا کر وینٹی لیٹر جیسے موت کے تختے کی باری آتی ہے جبکہ آکسیجن کے نارمل اقدام کو اس مرض کے پروٹوکول سے ہی نکال دیا گیا ہے ایک خوف ہے، لالچ ہے اور امریکیوں کا قتل عام ہے جو ہسپتالوں کے مالکان ، ڈاکٹرز کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ جب یہ کرونا ختم ہو گا پرانی تہذیب و تمدن ، روایت رواج سب رخصت ہو چکا ہوگا۔ اس بگاڑ کا اثر ہم جیسے ممالک پر بھی ضرور آئے گا جن کا تکیہ چندے، امداد، قرضے ،سازش ، آشیر باد ہو ،کو زیادہ ہوگا۔ ہمارے ہاں اس ایشو پر بھی صرف سیاست ہو رہی ہے اور جس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔ جس بیماری کا ابھی علاج نہیں، اس کے لئے ہسپتال بھرے پڑے ہیں گویا ہے قیامت کا کوئی دن اور۔


ای پیپر