ختمِ نبوتؐ پر کوئی کمپرومائز نہیں
04 May 2020 (22:00) 2020-05-04

نبی کریمؐ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں مسیلمہ کذاب نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کر دیا‘جس کی اطلاع نبی پاکؐ تک پہنچی تو آپ نے مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے لشکر روانہ کرنے کا حکم دیا تھا ۔معاملہ کچھ یوں تھا کہ مسیلمہ کذاب نے اپنے قبیلے بنو حنیفہ کے ساتھ آستانہ نبویؐ پر حاضر ہو کر بیعت اسلام کی مگر ساتھ یہ درخواست بھی کی کہ مجھے اپنا جانشیں یا خلیفہ مقرر کر دیں ۔اس وقت آنحضرتؐ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی ۔آپؐ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تم امر خلافت میں اگر مجھ سے یہ ایک شاخ بھی طلب کرو تو میں دینے کو تیار نہیں۔ یہاں مؤرخین کے مطابق مسیلمہ کذاب نے بیعت کے لیے خلافت یا نبوت میں شراکت کی شرط رکھی تھی،جب آپؐ نے قبول نہ فرمائی تو وہ بغیر بیعت کیے چلا گیا۔نبی کریمؐ کے آخری ایام میں اس نے( کھلم کھلا تو نہیں) نبوت کا دعویٰ کیا مگر جونہی آپ رحلت فرماتے گئے وہ سرعام اٹھ کھڑا ہوا اور خود کو نبی کہلوانے لگا۔یوں آپؐ کے وصال کے بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کے فیصلے کے مطابق مرتدین اور منکرین ختمِ نبوت کے خلاف باقاعدہ جہاد فرمایا اور اس وقت تک تلواتر نیام میں نہیں رکھی جب تک اس فتنے کا مکمل استیصال نہیں ہوا۔آنحضرتؐ کی اس دنیا سے تشریف بری سے چند دن قبل اسود عنسی نے جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا اور اہلِ نجران کو شعبدہ بازی اور کہانت کے چکروں میں ڈال کر اپنا پیروکار بنا لیا۔بعد ازاں اس نے یمن پر چڑھائی کی اور پورے یمن پر قبضہ کر لیا۔حضرت عمروؓبن حزم اور حضرت خالدؓ بن سعید نے مدینہ پہنچ کر نبی کریمؐ کو اس کی اطلاع پہنچائی جس پر آپؐ نے اہلِ یمن کے بعض سرداروںکو اہلِ نجران و یمن کے خلاف جہاد کے لیے خطوط تحریر فرمائے اور اسود عنسی کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔اس کے بعد بھی جس متنبی نے سر اٹھایا اسلامی حکومتوں نے اپنی دینی فریضہ ادا کرتے ہوئے اس پر حد ارتداد جاری کر کے اسے جہنم واصل کیا۔برصغیر میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں میں ایک نام مرزا غلام احمد قادیانی کا سرفہرست ہے جسے ہندوستان میں برطانوی عمل داری اور سپورٹ کی وجہ سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔مرزا نے ۱۸۱۹ء میں مسیح موعود اور ۱۹۰۱ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا،(اگرچہ مرزا نے درجنوں دعوے کیے جس کی تفصیل کی جگہ نہیں)۔علما ء کرام نے اس فتنے کے تعاقب و استیصال کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا مگر انگریزی سرپرستی کے باعث یہ

کسی نہ کسی طرح پھلتا پھولتا رہا ۔یہاں علمائے کرام کی محنتوں کا یہ فائدہ ہوا کہ تمام مسلمان،قادیانی دجل و فریب کی حقیقت سمجھنے لگے اور امت کے اجتماعی ضمیر نے انہیں ملت کے غداروں کی صف میں شمار کیا۔اب سارے واقعے کے بعد قادیانی خود کو غیر مسلم تو نہیں کہتے تھے بلکہ مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ کہلانے لگے حالانکہ یہ فرقہ نہیں ، ایک فتنہ تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ختم نبوت کے علم برداروں اور توحیدی جانبازوں کی نوے سالہ جدوجہد اور عظیم الشان تحریک کے بعد ۱۹۷۴ء میںپاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کے غیر مسلم قرار دے دیا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ غلام احمد قادیانی کے ماننے والو کے دو گروہ ہیں‘ایک لاہوری اور دوسرا قادیانی۔

یہ تو تھی مختصر تاریخ کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے ساتھ مختلف اداوار میں کیسا سلوک کیا گیا اور خود نبی کریمؐ نے بھی بعض موقعوں پران کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا مگر مرزا قادیانی کے ماننے والوں کو جب پاکستان کی اسمبلی میں متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دے دیا گیا اور یہ طے کر دیا گیا کہ یہ نہ تو اپنی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں‘نہ سرعام اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا لٹریچر سرعام فروخت کر سکتے ہیں ،اس کے باوجود یہ فتنہ اپنے آپ کو غیر مسلم ماننے کو تیار نہیں تھا بلکہ چھپ کر اپنے مذہب کی تشہیر بھی کر رہے ہیں اور خود کو اسلام کا ہی ایک فرقہ بتاتے اور لکھتے ہیں۔ دو روز قبل میڈٖیا پر یہ بیان جاری ہوا کہ عمران خان نے مرزائیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے ‘ جو یقینا ایک اہم کارنامہ تھامگر ساتھ ہی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا یہ ویڈیو بیان سامنے آ گیا کہ ایسا کوئی کام حکومت کی طرف سے نہیں کیا گیا اور عمران خان کا کہنا ہے کہ جب تک مرزائی خود کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے انہیں کسی بھی طرح کے اقلیتی حقوق نہیں دیے جائیں گے۔دونوں صورتیں یقینا قابلِ تشویش ہیں کیونکہ اگر قادیانی گروپوں کو قومی اقلیتی کمیشن (جو پشاور میں عیسائیوں پر حملے کے بعد بنایا گیا)میں شامل کیا جاتا ہے تو اس میں کیا حدود ہوں گی اور کس طرح کے حقوق دیے جائیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ عمران خان نے راتوں رات یہ فیصلہ کیوں تبدیل کیا،یہاںسننے میں آ رہا ہے کہ مذہبی جماعتوں اور علماء کرام کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار دیکھ کر یہ فیصلہ تبدیل کیا گیا۔مسئلہ جو بھی ہو مگرمیرا خیال ہے کہ جب تک غیر مسلم قادیانی خود کو اقلیت تسلیم نہیں کر لیتے‘اگر یہ فیصلہ ہو بھی جاتا تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوتا کیونکہ اصل مسئلہ ان کو تسلیم کروانا ہے کہ ان کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔مزید کمیشن میں شمولیت کے بعد ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی اجازت مانگتے ہیں تو کیا ہمیں وہ اجازت دینی ہوگی؟اگرچہ مغربی دنیا میں قادیانیوں نے اپنے بھرپور پنجے گاڑھے ہوئے ہیں اور دنیا کے کئی ممالک میں وہ اپنی عباد گاہیں بھی بنا چکے ہیں جن کی تصاویر گوگل پر دیکھی جا سکتی ہے۔میری عمران خان سے گزارش ہے کہ یہ فیصلہ اگرچہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس سے قادیانی کسی کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے، ان کے شناختی کارڈز پر و اضح پر غیر مسلم لکھا جائے گااور لکھا جانا چاہیے مگر ہمیں یہ فیصلہ انتہائی سمجھداری سے کرنا ہوگا کیونکہ قومی اقلیتی کمیشن میں شمولیت کے بعد قادیانیوں کی طرف سے جاری ہونے والے مطالبات کی فہرست کیا ہم پوری کر سکیں گے؟۔کیا ان غیر مسلموں کو سرِ عام عبادت گاہیں بنانے اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی اجازت دی جائے گی؟ یا جو بھی اقلیتی حقوق ہم اس مذہب کو دیں گے ان کی حدود کیا ہوں گی،اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے انہیں دوبارہ سے مزید کھلی چھٹی دے دی گئی ہے یہ دندناتے پھریں اور لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں۔


ای پیپر