معاشرتی نا انصافی تباہی کا باعث بنتی ہے
04 May 2020 (22:00) 2020-05-04

ایک رات سلطان محمود غزنوی کو کافی کوششوں کے بعد بھی جب نیند نہیں آئی تو اپنے غلاموں سے کہنے لگے کہ مظلوم پر آج کوئی ظلم ہوا ہے۔ تم لوگ گلیوں میں پھیل جاؤ اور اگر کوئی فریادی نظر آئے تو میرے پاس لے آؤ۔تھوڑی دیر بعد وہ سب واپس آ کر کہنے لگے: ’’سلطان، ہمیں کوئی بھی فریادی نہیں ملا، آپ آرام سے سو جائیں‘‘۔ سلطان کو جب پھر بھی نیند نہیں آئی تو وہ کپڑے بدل کر خود محل سے باہر نکلا محل کے پچھواڑے میں حرم سرا کے نزدیک انہیں کسی کی فریاد سنائی دی: ’’اے اللہ! سلطان محمود اپنے مصاحبوں کے ساتھ محل میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے اور محل کے عقب میں مجھ پر یہ ظلم توڑا جا رہا ہے‘‘۔ سلطان نے کہا : ’’کیا بات کر رہے ہو؟ میں محمود ہوں اور تمہاری فریاد رسی کے لیے آیا ہوں۔ مجھے بتاؤ کیا ظلم ہوا ہے تمہارے ساتھ؟‘‘ ’آپ کے خواص میں سے ایک شخص جس کا نام میں نہیں جانتا ہر رات میرے گھر آتا ہے اور میری بیوی پر ظلم و تشدد کرتا ہے‘‘۔ ’’اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ ’’شاید اب چلا گیاہو‘‘۔ ’’دوبارہ جب وہ آئے تو فوراً آ کر مجھے اطلاع کر دو‘‘۔ پھر سلطان نے محل کے دربان کو وہ شخص دکھایا اور کہا کہ جب بھی یہ دربار آئے اسے سیدھا میرے پاس پہنچا دو۔ اگر میں نماز کی حالت میں بھی ہوں تو پروا مت کرو۔ اگلی رات وہ شخص سلطان کے پاس آیا اور بتایا کہ وہ شخص اس وقت اس کے گھر میں ہے۔ سلطان اسی وقت تلوار ہاتھ میں لیے اس شخص کے ساتھ چل پڑا جب اس کے گھر کے قریب پہنچا تو اس سے کہا کہ گھر کے سارے چراغ بجھا دو۔ پھر اندھیرے میں ہی اس کے گھر میں گھس کر اس شخص کا سر تن سے جدا کر دیا۔ پھر سلطان نے حکم دیا کہ چراغ روشن کر دو۔ اس شخص کا چہرہ دیکھا اور سجدے میں گر پڑا۔ پھر گھر کے مالک سے کہا: ’’اگر کچھ کھانے کو ہے تو لے آؤ مجھے بہت سخت بھول لگی ہے‘‘۔ ’’آپ جیسا سلطان مجھ غریب کے گھر کا کھانا کھائے گا؟‘‘ ۔ ’’جو کچھ بھی ہے، لے آؤ‘‘! وہ شخص ایک سوکھی روٹی اٹھا لایا جسے سلطان نے بڑی رغبت سے کھایا۔ وہ شخص سلطان سے پوچھنے

لگا کہ چراغوں کو بجھانا، سجدہ کرنے اور روٹی طلب کرنے کے پیچھے آخر کیا ماجرا ہے؟ سلطان نے فرمایا: ’’میں نے جب تمہاری داستان سنی تو سوچا کہ میری سلطنت میں ایسا ظلم کرنے کی ہمت صرف میرے کسی بیٹے کو ہو سکتی ہے۔ اندھیرا کرنے کو اس لیے کہا تھا کہ پدرانہ شفقت میرے انصاف کے راستے میں حائل نہ ہو جائے۔ چراغ جلنے پر جب میں نے دیکھا کہ وہ میرا بیٹا نہیں ہے تو میں سجدۂ شکر بجھا لایا۔ کھانا اس لیے مانگا کہ جب سے مجھے تمہاری مصیبت کا علم ہوا، میں نے اللہ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ جب تک تمہیں انصاف نہیں مل جاتا میرے اوپر روٹی حرام ہے۔ اس وقت سے اب تک میں نے نہ کچھ کھایا تھا نہ پانی پیا تھا۔

ملک عزیز کی حکومتوں کے اس سفر میں انسانیت کی جس قدر تذلیل ہوئی ہے، اس کی چنداں مثال کسی ملک اور مذہب میں نہیں ملتی۔ اس ملک میں وزیر، مشیر، امیر طاقت ہے اور عوام غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو کر غلامانہ سوچ اور فکر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ یہاں غریبوں کے بچے روٹی کے ٹکڑے کے لیے مجبور ہیں اور امیر شہر کے کتے اور گھوڑے مربوں سے پال کر کرپشن کی جنگ کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ غریب شہر کی بیٹی لباس کو ترس رہی ہے اور امیر شہر کی کاٹن کی ملیں ریشم بن رہی ہیں۔ غریب کی بیٹی کے سر پر ڈوپٹہ نہیں ہے اور وزیروں کے دفاتر پر سیکڑوں گز کپڑے کے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں۔ غریب سادہ پانی سے روزہ افطار کرنے پر مجبور ہے۔ ملک کے وزیر بلکہ غریبوں کے لیڈر نہیں، غریبوں کے سرپرست بلکہ مائی باپ چینی ذخیرہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ غریب کے گھر آٹا نہیں ہے اور تاجر گندم ذخیرہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ غنڈہ راج اس قدر بڑھ چکا ہے جو بدمعاش چاہتا ہے دوسرے کی عزت تار تار کر دیتا ہے اور حوا کی معصوم جانوں کو گلا کاٹ کر موت کی کوٹھری میں دھکیل دیتا ہے۔ بد تہذیبی اس قدر بام عروج سے نکل گئی کہ امیر زادے، وزیر زادے اور مشیر زادے بلا دھڑک راہ چلتوں کی عزتوں سے کھیلتے ہیں۔ انہیں ٹھوکریں لگاتے ہیں۔ انہیں اپنی گاڑیوں کے نیچے کچلتے ہیں۔ اپنی گنوں سے ان کے بے تقصیر اور بے جرم سینے چھلنی کرتے ہیں مگر کوئی نکیل ڈالنے والا نہیں ہے۔ اب کہاں سے وہ محمود غزنوی ڈھونڈیں جو صرف اس نیت سے جائے کہ اگر بیٹا بھی ہوا تو اسے جرم کی سزا ضرور ملے گی۔

قارئین! یقین کیجیے کرونا جیسی وبا کے خوف اور اس سے ہونے والی موت نے ہمارے اندر کوئی خوف پیدا نہیں کیا۔ ہمارے اندر کوئی تبدیلی اور خدا خوفی کی لہر پیدا نہیں کی۔ ہم نے اپنا وتیرہ وہی رکھا۔ ہم نے تواتر سے جھوٹ، منافع خوری ، چور بازاری، لاقانونیت اور رشوت کا بازار گرم رکھا ۔ ہم نے اسی تسلسل سے لوٹ مار کا بازار گرم رکھا اور لمحے کے لیے نہیں سوچا کہ پل بھر میں ہم عدم سدھار جائیں گے اور ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ ہم تو اس عاشق نامراد کی طرح ہو گئے ہیں جس نے کسی سے پوچھا؟ جنت اور جہنم کیا ہے؟ اور قیامت کے دن کیا فیصلہ ہو گا؟ تو اس نے کہا جنت ہو کہ جہنم جو بھی ہو گا، فیصلہ ہو گا۔ یہ کیا کم ہے؟ کہ میرا اور ان کا سامنا ہو گا۔ ہمیں تو دعا کرتے ہوئے بھی شرم نہیں آتی کہ ہمارے دامن میں ہے کیا؟ ہم کس منہ سے مانگیں؟

قارئین! حکمران یہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ ریاست مدینہ کے داعی ہیں۔ حکمران گزرچکے ہیں۔ محمود غزنوی ، شہاب الدین غوری، محمد بن قاسم جیسے لوگ گزر چکے ہیں جو اپنی رعایا کے خیر خواہ تھے۔ جو اللہ کی مخلوق کے خادم تھے۔ جو بیت المال کے حساب کے ذمہ دار تھے۔ جو خزانے کے امین تھے۔ جو قول اور فعل کے صادق تھے۔ جو ریاست مدینہ کے قوانین و ضوابط پر عمل پیرا تھے۔ جو اپنے علماء اور دین کے پہرے داروں کا احترام کرتے تھے ۔ جو قرآن و حدیث کے وجود کو مانتے تھے۔ معاشرے صرف اس وقت مہذب اور تہذیب یافتہ کہلاتے ہیں جب حکمران انصاف کریں اور حکمران دیانت دار ہوں۔ جب معاشرے سے انصاف اٹھ جاتا ہے اور حکمران بے ایمان اور امانت میں خیانت کرنے لگیں تو پھر کرونا نہیں بہت بڑی تباہی اور عذاب اس معاشرے کا مقدر بن جاتا ہے۔ جہنم کا عذاب اور قہر ایسی قوموں کا مقدر بننے میں کوئی دیر نہیں لگاتا۔


ای پیپر