محنت کا سورج اور سیاستدانوں کا وعدئہ فردا
04 May 2020 (21:59) 2020-05-04

رکشے والا قبول صورت تھا وہ طلباء اور سکول ٹیچر زکو سکول چھوڑنے اور لانے جاتا تھا ایک ٹیچر اس پہ فریفتہ تھی ایک روز وہ موقع پا کر رکشہ ڈرائیور کو کہنے لگی میں تمہیں کیا دوں؟ رکشہ ڈرائیور نے کہا آپ مجھے صرف کرایہ دے دیں!۔ دن بھر محنت کا سورج پیٹھ پر ڈھونے والا مانگ بھی کیا سکتا تھا ہمارے حکمرانوں اور عوام کا حال بھی کچھ ایسا ہے عوام مشقت کا پہاڑ دن کاٹتی ہے اور پھر بھی دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے ہیں مزدور اس قدر مجبور ہوتا ہے کہ دن کی چکی میں پس کر بھی وہ اپنی محنت کا اتنا ثمر نہیں پاتا کہ اپنے بچوں کی بھوک مٹاسکے اور اسکے بچوں کی بھوک ہمارے حکمرانوں کی بھوک جیسی نہیں کہ سب ہڑپ کرکے بھی نہیں مٹتی غریب کے بچے تو ایک روٹی پر بھی گذارا کرلیتے ہیں روکھی سوکھی کھاتے ہیں اور حرف شکائیت لبوں پر نہیں لاتے ،پھٹے پرانے پہن لیتے ہیں ہنستے روتے جیون کرتے جاتے ہیں یہ زمین کے بستر پر اینٹ پتھر کا سرہانہ بنا کر سوجاتے ہیں ،یہ شاہانہ مزاج نہیں رکھتے کہ رات کی چپ میں قیمتی بستر پر کسی ہلکی سی آہٹ پر بھی چونک اٹھیں

ہمارے حکمران بھی اپنے عوام پر فریفتہ ہوتے ہیں لیکن صرف انتخابی موسم میں اس موسم میں سیاسی پرندے ہر منڈیر پر جابیٹھتے ہیں غریبوں کی بلائیں لیتے ہیں ان پہ صدقے واری جاتے ہیں ہر دہلیز کو چومتے ہیں گھر گھر محبتیں جتاتے تھکتے نہیں کسی کی بھی ضرور ت پر ہمہ وقت حاضر ہوتے ہیں یہ کسی کو چچا، خالہ، پھوپھو ، تو کسی کوبھائی ،بھانجا ،بھتیجے کے رشتوں سے باندھتے ہیں اور غریب بے چارے ان سیاسی لٹیروں کی چال کو سمجھ نہیں پاتے اور خود کو ایسے رشتوں سے تعبیر کئے جانے پر پھولے نہیں سماتے حالانکہ انتخابی موسم کے بدلتے ہی یہ سیاستدان پھر غریبوں سے’ کیا کیا رشتے نہیں جوڑتے ‘یہ سیاسی پرندے اقبالؒ کے شاہین نہیں جن کی پرواز بہت اونچی ہے یہ ہر منڈیر پر جا بیٹھتے ہیںیہ کوئی نظریات نہیں رکھتے نظریاتی سیاست انہیں راس نہیں آتی ۔

قلفی والا گلی گلی صدا لگاتا ہے قلفی کھوئے ملائی والی۔ وہ قلفی میں شامل اجزاء گنواتا ہے دودھ کے خالص ہونے کا یقین دلاتا ہے اور قلفی کے فوائد بتاتا ہے اسکی آواز میں یقین کی ایسی آمیزش ہوتی ہے کہ سننے والے کو اس کی آواز پر کان دھرنا پڑ جاتے ہیں اسکی سماعتوں میں قلفی کی حلاوتیں گھلنے لگ جاتی ہیں قلفی والا تو یہاں تک کہہ اٹھتا ہے مزہ نہ آئے تو پیسے واپس۔! سیاسی قلفی بیچنے والے بھی ایسے ہی اپنے سیاسی کرتب دکھاتے ہیں اور ووٹرز کو اپنی سیاسی قلفی کے خالص ہونے کا یقین دلاتے ہیں او ر اپنی خدمت کی سیاست میںسچے جذبات۔ دیانت ۔امانت کی قسمیں کھاتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اسکی کامیابی پر اگر ووٹرز کی امنگوں کی ترجمانی نہ ہو تو اگلی بار انہیں ووٹ نہ دئیے جائیں قلفی جیسی بھی ہو نہ قلفی والا پیسے واپس دیتا ہے نہ سیاسی قلفی بیچنے والا کسی ووٹر کی امنگوں کے مطابق چلتا ہے ۔

پھل فروش ۔پھل کے تازہ ۔ خالص اور میٹھے ہونے کی گردان پڑھتا جاتا ہے وہ گاہک کو خریداری کا ارادہ نہ رکھنے کے باوجود اپنی شیریں بیانی سے پھلوں کی فروخت کو یقینی بناتا ہے اگرچہ پھل میں کیڑا لگا ہے یا پھل پھیکا نکل آئے گاہک اسے اپنی قسمت سمجھتا ہے لیکن پھل فروش کی نیت پہ شک نہیں کرتا کہ پھل فروش جس محبت و اپنائیت سے گاہک کو پھل دیتا ہے گاہک اسی اپنائیت کا گرویدا ہو جاتا ہے سیاسی پھل بیچنے والا بھی اپنے ووٹرز کو کامیابی کے بعد آس امید کی ڈالیوں پر لگنے والے میٹھے میووں کا بتاتا ہے اور ووٹ لے نکلتا ہے اور فتح یاب ہونے کے بعد عوام کو بے وقوف بنانے پر اتراتا ہے ۔

بعض دکاندار اپنا سودا بیچنے کی غرض سے اس سودے کی بابت ایسے افسانے سناتے ہے کہ خریدار حیران ہو کر رہ جاتا ہے دکاندار کہتا ہے یہ فلاں چیز دیکھئے یہ ہے تو غیر معروف کمپنی کی لیکن آج یہ اِس قیمت پر ہے لیکن کچھ دنوں میں یہ اُس ملٹی نیشنل کمپنی کے ریٹ میں بکنا شروع ہوجائے گی جس کمپنی کی چیز خریدار ہمیشہ خریدتا ہے دکاندار بتاتا ہے اسے میں نے اپنے گھر استعمال کیا ہے اسکا معیار کسی صورت کم نہیں بس اب تو کئی گاہک مجھ سے اسی کی ڈیمانڈ کررہے ہیںخریدار سوچتا ہے یہ نہ ہو کہ اس کا ریٹ بڑھ جائے اور وہ سستی اشیاء سے محروم رہ جائے لہذا وہ اسے خریدے بغیر جاتا نہیں سیاستدان بھی انتخابی دکان پر وعدوں کا غیر معیاری سود اجھوٹے دوعووں کے بل بوتے پر بیچ نکلتاہے ۔

میں سوچتا ہوں ہمارے عوام کتنے بھولے ہیں سادہ ہیں کہ یہ روز انہ دکانداروں یا کچھ نہ کچھ بیچنے والوں کے ہاتھوں لٹتے ہیں اور پھر بھی کسی سے بدگماں نہیں ہوتے سیاستدان تو انکے مقابلے میں فرشتہ صفت ہیں جو صرف پانچ سال بعد ہی لوٹتے ہیں اور لوٹنے کے بعد پانچ سال تقریبا روپوش رہتے ہیں کبھی سال میں دو ایک بار عوام کا سامنا کرنا پڑجائے تو انہیں وعدہ فردہ پہ ٹال دیتے ہیں۔


ای پیپر