چیزیں نہیں نیکیاں ذخیرہ کریں…
04 May 2020 (21:58) 2020-05-04

نبی کریمؐ کا ارشاد پاک ہے کہ جس نے مہنگائی بڑھانے کی نیت سے چالیس دن غلہ روکے رکھاتو وہ اللہ کریم سے دور ہوگیا ،ذخیرہ اندوزی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول کریمؐ کی ناراضگی کا سبب ہے، اس طرح سے کمائے ہوئے مال سے برکت اْٹھ جاتی ہے،مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے ذخیرہ اندوزی کرنے والا حدیثِ پاک کے مطابق جْذام(کوڑ) کے مرض اور مْفِلسی کا شِکار ہوجاتا ہے،حضرت سَیِّدْنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ ذخیرہ اندوز شخص کا دل سخت ہوجاتا ہے،ایسے شخص کو قلبی بے چینی اور مالی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے،جب بھی ماہ رمضان کا بابرکت اور رحمتوں والا مہینہ آتا ہے ذخیرہ اندوزبے قابو ہو جاتے ہیں اوردو ماہ پہلے ہی اشیاء ذخیرہ کرنا شروع کردی جاتی ہیں جوماہ رمضان میں دنیاوی منافع کیلئے مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت بھی ان ہوس پرستوں کیخلاف برائے نام لنگوٹ کس لیتی ہے ہوتا کچھ بھی نہیں عوام لٹتے دکاندار لوٹتے رہتے ہیں ماہ رمضان گزر جاتا ہے نہ ذخیرہ اندوز قابو میں آتے ہیں نہ حکومت کچھ کر سکتی ہے سوائے اعلانات کے؟

الحمدللہ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی برکات تمام مسلمانوں کو نصیب فرمائے ،اسلام کے بنیادی پانچ ارکان ہیں ان میں سے روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے، شریعت اسلامیہ میں اس اہم رکن کی بہت ہی تاکید کی گئی ہے۔ روزہ کا انکار کرنے والا کافر ہے اور اس کا تارک فاسق ہوتاہے، روزے کی فضیلت کے متعلق حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرما یا کہ جب ماہ رمضان شروع ہو تاہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے ،اس ماہ مقدس کے شروع ہوتے ہی اللہ کریم کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور بندوں کے اعمال بغیر کسی رکاوٹ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو تے ہیںاور بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے،ماہ رمضان کی عظمت او ر فضیلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس ماہ میں قرآن کریم نازل کیا گیا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ رمضان کا مہینہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن

مجید نازل ہوا ،اس مہینہ میں مسلمان ہر ایسے کام کو اختیار کرتے ہیں جو اللہ کی خوشنودی کا باعث ہو اور ہر ایسے کام سے اجتناب کرتے ہیں جو اللہ کی ناراضگی کا سبب ہو ،مگر کچھ دنیا میں گم لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس مبارک ماہ میں بھی گناہ سے با ز نہیں آ تے ،ابھی چند سالوں سے ہمارے معاشرے میں اشیاء خورد و نوش کی ذخیرہ اندوزی کی صورت میں ایک نئے گناہ نے جنم لیا ہے، جب بھی ماہ رمضان آتا ہے تو یوٹیلٹی سٹوروں اور بازاروں سے روز مرہ کی غذائی چیزیں غائب کر دی جاتی ہیں اور اس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ غریب عوام کو تکلیف میںمبتلا کر کے مہنگے داموں اشیاء فروخت کریں،مخلوق خدا کو مہنگائی کے اس دور میں گراں فروشی کی غرض سے اشیاء خورو نوش کی ذخیرہ اندوزی کر کے تکلیف اور قحط میں مبتلا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے شریعت نے اس کی مذمت بیان کی ہے اور اس قابل نفرت فعل میں مبتلا ہونے والا شخص شریعت کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہے۔

اس بارے میں ایک حدیث شریف ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ ذخیرہ اندوزی صرف گنہگار ہی کرتا ہے اور دوسری روایت میں کچھ یوں کہا گیا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے ،اسی طرح حضرت عمر فاروقؓسے مروی ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ تاجر کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کہیں باہر سے شہر میں غلہ وغیرہ لاتا ہے کہ اسے موجودہ اور رائج نرخ پر فروخت کرے اور گراں فروشی کی نیت سے اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کرے تو اسے اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور اس کے رزق میں برکت دی جاتی ہے۔ لیکن جو شخص مخلوق خدا کو خاص طور پر مسلمانوں کو تکلیف و نقصان میں ڈالتا ہے تو اللہ اسے جسمانی اور مالی بلاؤں میںمبتلا کر دیتا ہے اور جو شخص انہیں نفع پہنچاتا ہے اللہ اس کے جسم و مال میں برکت عطا فرما تا ہے،یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ ایسے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں جو لا علاج ثابت ہو تے ہیں لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں ، ہسپتالوں کے چکر کاٹتے ہیں ہر ڈاکٹر کی دوا آزما لیتے ہیں مگر کوئی چیز کار آمد نہیں ہوتی ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہ رمضان میں ایسے کام اختیار کیے جائیں جن سے اللہ رب العزت کی رضا مندی حاصل ہو اور ایسے کام اختیار نہ کیے جائیں جو اللہ کی ناراضگی کا باعث بنیں ، ایک مسلمان ہونے کے ناطے رمضان میں عوام الناس کے ساتھ رحم اور ہمدردی کا معاملہ کرنا چاہیے اور ماہ رمضان میں گرانی کے اس زمانہ میں غذائی اشیاء کو سستے داموں مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کرنا باعث ثواب بھی ہے اور حصول برکت کا ذریعہ بھی ہے ، مہنگائی کے اس دور میں غرباء اور مساکین کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر سکتے، ماہِ رمضان کی فضیلت سے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے،ملک گیر لاک ڈاون کی وجہ سے عوام اضطراب کا شکار ہیں پھر بھی ایسی صورتحال میں ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور اشیائے ضروریہ کو مارکیٹ سے غائب کرکے معاشرے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ایسے عناصر ناصرف ملک و قوم کے لئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ اللہ کے عذاب کو بھی دعوت دے رہے ہیں،اس ناگہانی صورتحال میں خوراک اوردیگر اشیائے ضروریہ مخلوق خداکی پہنچ سے دورکرنا اور ناجائز منافع کمانے کی غرض سے عوام کو مزید تکلیف اور قحط میں مبتلا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،کرونا وباء کی وجہ سے ایک طرف حکومت ،عوام اور ریاستی ادارے پریشان ہیں، لاک ڈاون کی وجہ سے ملک کی ایک بڑی آبادی بیروزگاری کا شکار ہوچکی ہے جن کے پاس دو وقت کی روٹی کے لئے بھی وسائل نہیں ایسے حالات میں منافع کمانے کی غرض سے خوراک،دیگر اشیائے ضروریہ اور ادویات مارکیٹ سے غائب کرنا حرام ہے، گراں فروشوں نے رمضان شریف کے پہلے عشرے میں ہی روزہ داروں کو لوٹنا شروع کردیا اورسرکاری نرخ نامے کی بجائے من مانے نرخوں پر فروخت جاری رکھی، انتظامیہ ذخیرہ اندوزوں کے سامنے بے بس ہے،ذخیرہ اندوز باز آجائیں اور اس ناگہانی صورتحال میں اشِیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور کرنے کے بجائے انہیں سستے داموں فروخت کریں تاکہ وہ بھی اللہ کی رحمت کے طلبگار بن جائیں،اشیائے ضروریہ تک عوام کی رسائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے حکومت کو ہرحال میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا، جولوگ ایسے غیرمعمولی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں ایسے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کیخلاف سخت کریک ڈاون کیا جائے اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے۔


ای پیپر