اس شہر میں مزدورجیساکوئی دربدرنہیں…
04 May 2020 (21:56) 2020-05-04

چندروزقبل پیارے احساس پسند دوست شاہ جی کی حویلی میں ایک ساٹھ سال کے ایک بزرگ مزدورسے ملاقات ہوئی کھانستے ہوئے بولا میں نے نے جیلانی صاحب کاگھربنایا،میں نے گیلانی صاحب کا گھر بنایا میں نے کا گھربنا یا،میں نے ٹوانہ صاحب کا گھربنایاابھی اورگھرگنوانے شروع ہوا ہی تھا کہ دوست نے بابا جی کی بات کاٹتے ہوئے کہا … باباجی آپ سے اپنا گھرتوبنا نہیں آپ نے اتنے گھر گنوا دئیے…باباجی نے دوست کی طرف مسکرا کر دیکھا اور پھریوں گویا ہوا… بیٹا یہ بتااپنا گھربنانے کا شوق کسے نہیں ہوتا؟ انسان توانسان پر ندوں کوبھی اپنا گھر بنانے کا شوق ہوتا ہے… بس جتنا پیسہ کمایا جوڑ کر چار بیٹیوں کی شادی کردی اوردوبیٹوں کوآٹھ آٹھ جماعت پڑھالکھا دیا اور محنت مزدوری کرتے کرتے عمرگزرنے اور گھربنانے کا احساس ہی نہ ہوا…؎

اس شہر میں مزدور جیسا کوئی دربدر نہیں

جس نے سب کے گھربنائے اس کا کوئی گھر نہیں

یہاں مزدور کو مرنے کی جلدی یوں بھی ہے محسن

کشمکش میں کہ زندگی کفن مہنگا نہ ہوجائے

مجھ کوبھوک سے مارا جاتا ہے مزدور کہہ کر

انہیں ہیرے دیے جاتے ہیں باشعور کہہ کر

جس دن غریب مزدورکومزدوری نہ ملے توپھربقول شاعر

جوموت سے نہ ڈرتاتھابچوں سے ڈرگیا

اک رات خالی ہاتھ جب مزدورگھرگیا

یکم مئی کولیبرڈے کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے کچھ لوگ یکم مئی کومزدوروں کا عالمی دن بھی کہتے ہیں وطن عزیزپاکستان میں یکم مئی کوچھٹی کے دن کے طورپرمنایاجاتا ہے اخباروں میں سیاست دانوں کے مزدوروں کے حق کے میں دوچارشہ سرخیاں لگادی جاتی

ہیں ۔ وطن عزیزپاکستان میں سب سے مشکل کام کسی کے حق میں سچی گواہی دینااورحق کے لئے آوازبلندکرنا ہے ،الحمدللہ میں نے جودیکھا بلاخوف اسے لکھا اورروزنامہ نئی بات نے اسے چھاپ دیا…؎

حق بات پہ کٹتی ہے توکٹ جائے زباں میری

اِظہارپرحق توکرجائے گا جوٹپکے گا لہومیرا

کہنے کو توپاکستان پیپلز پارٹی غریب اورمزدورکی پارٹی ہے لیکن اس پارٹی کے ایک وزیرنے گوداموں میں رکھی ہزاروں ٹن گندم خوردبردکرلی ا ورصحرائی علاقے تھرمیں سیکڑوں عورتیں اورپیارے بچے گندم کی قلت کے باعث سسک سسک کربلک بلک کراللہ کو پیارے ہورہے ہیں۔…؎

گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب

بیٹی کسی مزدور کی فاقوں سے مر گئی

اب حالیہ حکومت پی ٹی آئی نے اگرلاک ڈائون سے متاثرہ بے روزگار مزدوروں کو احساس کفالت پروگرام کے ذریعے بارہ ہزارروپے دینا شروع کئے ہیں توان مزدوروں کے بارہ ہزارکی رقوم سے پانچ سوروپے سے لے کر ایک ہزارروپے تک کٹوتی کرنا شروع کردی…

مصیبت کی اس گھڑی میں بھی مزدوروں کے حق کوپی پی پی والے اپنا حق سمجھ کرپی گئے اللہ بھلا کرے پی پی پی کے ایک حاجی وزیرکاجس نے تین سال قبل تلخ ترین سچ بول کرسچاہونے کاثبوت دیا کہ گورنمنٹ کی دولت پرکرپشن کرنا ہماراحق ہے…

شرم بھی عجب شے ہے جہاں آنی چاہئے مگرنہیں آتی

میں صبح کی واک کرتے ہوئے واپسی پر جب بھی مزدوروں کے اڈے سے گزرتا ہوں تو ان مزدوروں کے بجھے بجھے چہرے دیکھ کر ذہن میں پیارے دوست یٰسین یاس کا شعر گردش کرنے لگتا ہے…؎

جس دے منہ تے رونق ہووے

اک وی اوہ مزدوروکھادے

میرے ان مزدوربھائیوں کے چہروں پررونق تونہیں ہوتی لیکن ایک بات پورے وثوق سے کہتا ہوں یہ رات کو میٹھی نیندلانے کے لئے حکمرانوں کی طرح نیندکی گولیاں کھا کرنہیں سوتے…؎

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بیچ کر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

جب سابق تاجرحکمران خوداپنی ہی فیکٹریوں میں مزدورکی مزدوری نہ بڑھا سکیں تووہ دوسر ے تاجروں سے کیا اُمیدکی جاسکتی ہے بقول علامہ اقبال…؎

زمان کاراگر مزدورکے ہاتھوں میں ہوں پھر کیا

طریق کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

بے چارہ مزدور سونے اورہیروں کی کانوں اوردُکانوں پردن رات ایک کرکے بھی اپنی بیٹی کوپتل کی بالیوں میں ہی بیاہ رہا ہے…؎

پیتل کی بالیوں میں بیٹی بیاہ دی

باپ کام کرتا تھا سونے کی کان میں

جب حضرت ابوبکرصدیقؓ ؓ جب خلیفہ بنے تو اُن کی تنخواہ کا سوال پیدا ہوا۔ آپؓ نے فرمایا، مدینہ میں ایک مزدور کو جو یومیہ اُجرت دی جاتی ہے اتنی ہی میرے لیے بھی مقرر کی جائے۔ ایک ساتھی نے کہا، اتنی کم اُجرت میںآپ کا گزارہ کیسے ہوگا؟ آپؓ نے فرمایا، میرا گزارہ بھی اسی طرح ہوگا جس طرح مزدور کا ہوتا ہے۔ ہاں اگر گزارہ نہ ہوا تو میں مزدور کی اُجرت بڑھا دوںگا۔ اس طرح میرا وظیفہ بھی بڑھ جائے گا…

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

’’غارِیار‘‘ کی اس قندیل کی روشنی میں وزیراعظم عمران خان کو بھی چاہئے کہ مزدوروں کے حقوق کا خیال اوراحساس رکھتے آنے والے بجٹ میں مزدور کی تنخواہ بیس ہزار روپے اور ریٹائرڈ ورکرز کی پنشنر کم ازکم پندرہ ہزار کرکے مزدوروں کی دُعائیں لے کرہمیشہ ہمیشہ کے لئے امرہوجائیں۔…؎

منزل تیری تلاش میں گھومے گی دَربدر

خلق خدا کی راہ سے روڑے ہٹاکے دیکھ


ای پیپر