ٹائیگر فورس کے حقائق سامنے آگئے ،اہم انکشافات
04 May 2020 (20:28) 2020-05-04

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے کہا ہے کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس پر تنقید کرنے والے پہلے ٹائیگر فورس ٹرم آف ریفرنس (ٹی او آرز) پڑھ لیں۔

عثمان ڈار نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی کال پر نوجوان ٹائیگر فورس کا حصہ بنے ہیں، ٹائیگر فورس کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہے۔عثمان ڈار نے کہا کہ صوبہ سندھ سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد نوجوان ٹائیگر فورس کا حصہ بنے ہیں، سندھ حکومت نے نوجوانوں کی خدمات لینے سے انکار کر دیا۔

عثمان ڈار نے سیالکوٹ میں پائلٹ پروجیکٹ کی آزمائش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ سے تقریباً 20 ہزار جوان 68 فیصد رجسٹر ہوئے تھے جنہوں نے دی گئی ذمہ داریوں پر عمل کیا۔ انہوںنے کہاکہ ہم الیکٹرانک کیو آر کوڈ کے ذریعے موبائل فون پر آئی ڈی دے رہیں اورڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے سٹیزن پورٹل کے تحت بتایا جائے گا کہ کس مقام پر پہنچنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع سیالکوٹ میں ایک فیلڈ ہسپتال بنایا 403 ہیلتھ ورکرز جن میں 71 ڈاکٹر تھے اور انہوں نے ایم ایس سے بات کرکے اپنی خدمات سونپ دیں۔ انہوںنے کہاکہ سیالکوٹ میں 3 ہزار مساجد ہیں جن کے لیے ہمیں سیکیورٹی اور ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لیے عملہ درکار تھا، ڈی پی او نے بتایا کہ ہمارے پاس 2 ہزار 600 جوان ہیں جن کے ذریعے ہمیں امن و عامہ بھی برقرار رکھنا پڑتا ہے اور تھانے بھی چلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 ہزار ٹائیگرفورس کے رضاکار مساجد میں کام کررہے ہیں اور یوٹیلٹی اسٹورز میں لوگوں کے درمیان فاصلہ کروا رہے ہیں۔عثمان ڈار نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ٹائیگر فورس خود سےکوئی کام نہیں کرسکتے بلکہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر جو کام دیں گے اس کو مکمل کرنا ہے اور اپنی ذمہ داریاں دوسروں کو بھی منتقل نہیں کرسکتے ہیں۔


ای پیپر