شہباز شریف کی نیب پیشی کی اندرونی کہانی
04 May 2020 (20:13) 2020-05-04

لاہور: نےب لاہورمےںڈےڑھ گھنٹہ سے زائد کی پےشی کے بعد نےب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ کے معاملہ پرقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو2 جون کو دوبارہ طلب کر لیا۔

تفصےلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف قومی احتساب بیورو(نیب)میں پیش ہوگئے ۔ زرائع کے مطابق نیب کی جوانئٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے شہباز شریف سے ایک گھنٹہ 45منٹ سے زائد تک سوالات کیے۔

شہباز شریف نیب کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے، شہباز شریف سے انکو وارثت میں ملنے والی جائیداد سے متعلق سوالات کیے، ایک سوال میں شہباز شریف سے پوچھا گیا کہآپ نے 2005سے 2007کے دوران بارکلے بینک سے کتنا قرض لیا۔نثار احمد گل اور علی احمد سے آپ کا کیا تعلق ہے، جبکہ گزشتہ 20سال کے دوران اثاثوں میں کروڑوں کا اضافہ ہوا انکے زرائع کیا ہیں۔ پارٹی فنڈز کا استعمال کب اور کہاں کہاں کیا؟ شہباز شریف اس متعلق بھی مناسب جواب نہیں دے سکے۔

شہباز شریف نے اپنے جواب میں کہا کہ تمام اثاثہ جات ڈکلئیر ہیں ہر چیز کا ریکارڈ جمع کرا چکا ہوں شہباز شریف منی لانڈرنگ سے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے بھی قاصر رہے شہباز شریف کی پیشی پر سماجی فاصلے کا مکمل خیال رکھا گیا تھا اور کمبائنڈ انوسٹی گیشن نے شہباز شریف کو 6 فٹ کے فاصلے سے بیٹھ کر سوالا ت کیے ۔ نیب نے شہباز شریف کو 2 جون کو دوبارہ طلب کر لیا ہے ۔یاد رہے کہ شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ کے معاملہ پر نیب کی جانب سے تیسری مرتبہ طلب کیا گیا تھا ۔

 


ای پیپر