سلیم ملک کا ویڈیو پیغام
04 May 2020 (17:07) 2020-05-04

سابق ٹیسٹ کرکٹر پابندیاں ہٹنے کے بعد پاکستان کرکٹ میں دوسری اننگز کے منتظر

اسد شہزاد

پاکستان کی کرکٹ ٹیم پر ایک ایسا دور بھی آیا جب بچے بچے کی زبان پر کھلاڑی کے نام اور ان کی کامیابیوں پر کھلاڑیوں کی تصویریں ہوا کرتی تھیں۔ وہ کرکٹ کا گلیمر دور تھا اور بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کے دورے پر آتی تھیں تو پورے پاکستان میں ایک میلے کا سماں ہوتا۔ سٹیڈیمز بھرے ہوتے، وہ ایک خوبصورت اور سنہرا دورہ تھا۔ پھر ایسی نظر لگی کہ نہ وہ دور آسکا نہ اس دور کے کھلاڑی جنم لے سکے اور نہ کرکٹ، کرکٹ رہی۔

اسی دور میں نامور کھلاڑیوں کے سکینڈلز بھی ایک نگاہ رکھتے تھے، خاص کر ان دنوں جواء کرکٹ کے بڑے چرچے تھے جہاں دُنیا بھر کے کھلاڑی ملوث پائے گئے وہاں ہمارے کھلاڑیوں نے بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ راج بھاگڑی سے کرکٹ میں شروع ہونے والے جواء نے پوری کرکٹ کی دُنیا کو جہاں کروڑپتی بنا دیا، وہاں بدنامیاں بھی ان کی شہرت کو داغ دے گئی، ایسے داغ جو آج بھی نہ مٹ سکے۔ پاکستان میں جن کھلاڑیوں نے جواء کرکٹ سے خوب مال کمایا وہاں اس کے اہم کردار سلیم ملک نے گزشتہ روز ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کرکٹ بورڈ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس کو معاف کرتے ہوئے کرکٹ کوچنگ سکیموں میں شامل کرے بلاشبہ سلیم ملک کا نام پاکستان کی کرکٹ میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ اس نے بہت شاندار کرکٹ کھیلی، بہت شاندار فتوحات کا حصہ رہا، بہت شاندار اننگز کھیلیں، کہیں بلا بہت تیز چلا تو کہیں صفر پر اننگز کا خاتمہ ہوگیا۔

کیا سلیم ملک کے ساتھ واقعی ناانصافی ہوئی کہ جب بورڈ نے جوئے میں ملوث تمام کھلاڑیوں کو جنہیں عدالت سزا دے چکی تھی ان کو کلیئر قرار دے کر بورڈ کے اندر بڑے بڑے عہدوں سے نواز رکھا ہے تو سلیم ملک کو کیوں نہیں کلیئر کرتے، یہ ایک سوال ہے اور بورڈ اس کو چاہے عہدہ دے یا نہ دے، اس کی معافی کی درخواست مانے یا نہ مانے، یہ الگ مسئلہ ہے مگر اس کو یہ وضاحت دینا ہو گی سلیم ملک کے ساتھ ہی ناانصافی کیوں کی جارہی ہے، کم ازکم ہماری کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتائوں سے درخواست ہے کہ وہ ایک بڑے کھلاڑی کی ماضی کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرے، یہی حالات کا تقاضا ہے۔

سابق ٹیسٹ کپتان سلیم ملک نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپیل کی کہ جیسے دوسرے کرکٹرز کو کرکٹ میں واپسی کا موقع دیا گیا ہے، انھیں بھی کھیل میں واپس آنے کا ایک موقع دیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب ان کے ساتھ کھیلنے والے سابق کرکٹرز انضمام الحق اور ثقلین مشتاق نے بھی سابق کپتان کے حق میں ویڈیوز جاری کی ہیں اور ان کے موقف کی تاید کی ہے۔

گزشتہ دنوں میڈیا کو جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں سلیم ملک کا کہنا تھا کہ وہ یہ ویڈیو اس لیے بنا رہے ہیں کیونکہ ایسی چند ویڈیوز ان کی نظر سے گزری ہیں جن میں کچھ سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور اسپورٹس اینکر ڈاکٹر نعمان نیاز نے ان کے کھیل کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سلیم ملک کو دوسرا موقع ملنا چاہیے۔

یاد رہے کہ سلیم ملک پر 2000ء میں میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن نے تاحیات پابندی اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سفارش کی تھی، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عملدرآمد بھی کیا تھا۔

سلیم ملک کے علاوہ فاسٹ بولر عطا الرحمن پر تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ کمیشن سے عدم تعاون پر وسیم اکرم، مشتاق احمد، وقاریونس، انضمام الحق، سعید انور اور اکرم رضا پر بھی جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

سلیم ملک نے اپنی حالیہ ویڈیو میں کہا کہ 2008ء میں انھیں عدالت نے کلیئر کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے جب بھی کوچنگ میں آنے کی کوشش کی تو ان کا نام زیرغور نہیں آیا اور ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کی کسی نہ کسی حیثیت میں خدمت کریں اور اپنا ہنر نوجوان کرکٹرز کو منتقل کرسکیں۔

سلیم ملک نے چند ایسے کرکٹرز کا بھی ذکر کیا جو میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ میں سزا مکمل ہونے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم میں واپس آئے یا پھر ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ کھیلے جن میں محمد عامر، سلمان بٹ، محمد آصف اور شرجیل خان شامل ہیں۔ تاہم سلیم ملک کے مطابق وہ واحد کرکٹر ہیں جنھیں یکسر نظرانداز کیا گیا۔

واضح رہے کہ سلیم ملک نے اپنی تاحیات پابندی کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اکتوبر 2008 میں لاہور میں سِول کورٹ کے جج ملک محمد الطاف نے ان پر عائد پابندی ختم کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

سلیم ملک کو بہت زیادہ رگڑا لگ چکا، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دو سابق کرکٹرز انضمام الحق اور ثقلین مشتاق نے بھی کھل کر سلیم ملک کی حمایت کی ہے۔

آف سپنر ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ سلیم ملک کو بہت زیادہ رگڑا لگ چکا ہے لہٰذا وہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی سے گزارش کرتے ہیں کہ ان پر عائد پابندی اٹھا لینی چاہیے اور انھیں اب کرکٹ میں شریک کرنا چاہیے۔

ثقلین مشتاق سمجھتے ہیں کہ جب بھی سلیم ملک کو موقع دیا جائے گا وہ جان لڑا دیں گے اور کرکٹ کی خدمت کریں گے۔

سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سلیم ملک کو دوسری اننگز کھیلنے کا موقع دیا جانا چاہیے جیسا کہ انڈیا میں سابق کپتان اظہرالدین کو دیا گیا ہے ان پر بھی اسی طرح کی پابندی عائد تھی تاہم اب وہ حیدرآباد دکن کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔

انضمام کے مطابق سلیم ملک کا بھی وہ وقت گزر چکا ہے اور انھیں بھی گراؤنڈ میں یا کسی ٹی وی چینل پر نظر آنا چاہیے۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سلیم ملک کے پاس اتنا تجربہ ہے جو وہ نوجوان کرکٹرز سے بانٹ سکتے ہیں اور کوچنگ کرسکتے ہیں۔ ان کی دعا ہے کہ وہ سلیم ملک کو دوبارہ کرکٹ گراؤنڈ میں دیکھیں کیونکہ جو کچھ ماضی میں ہوا وہ اب ختم ہو چکا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر