شاندار آغاز ،شاندار کیر ئیر ،شاندا ر اختتام ،ثنا میر
04 May 2020 (17:04) 2020-05-04

میگزین رپورٹ

کھیل کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ہر کھلاڑی کی زندگی میں دو بڑے اہم دن ہوتے ہیں، جب اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو قومی ٹیم میں شامل کرلیا جاتا ہے اور وہ ایک دن جب وہ اپنی کھیل کی زندگی کی طویل اننگز کھیل کر جب وہ اپنے کیریئر کے اختتام پر پہنچتا ہے اور کھیل سے ریٹائرمنٹ لیتا ہے۔ بات ہو گی پاکستان کرکٹ ٹیم (خواتین) کی کپتان ثناء میر کی جنہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ ثناء میر نے 2005ء سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 2020ء میں پندرہ سال کی طویل ترین اننگز اور کپتانی کی، بجا طور پر خواتین کی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ پاکستان کے لیے بھی ایک اعزاز ہے۔ جہاں ثناء کو پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز ملا وہاں پاکستان کو بھی ثناء میر کی قیادت میں شاندار فتوحات دیکھنے کو ملیں۔ ثناء میر نے پاکستان کی کرکٹ کو پندرہ سال دیئے، ان کی کھیل کی بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے کبھی ٹیم کو بکھرنے نہیں دیا۔ اپنی بھرپور صلاحیتوں سے مینجمنٹ کا بہترین کردار ادا کرتے ہوئے ٹیم کو یکجا رکھا اور جہاں ناکامیاں ملیں وہاں کامیابیوں نے بھی نوید دی … ایک کامیاب اور بہترین کھلاڑی نے گزشتہ دنوں کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا، بروقت اور بہترین فیصلہ کرنے میں ثناء نے دیر نہیں کی اور کرکٹ اور اس کے میدان کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔ الوداع ثناء میر۔ اُمید ہے کہ آنے والے کرکٹ کے موسموں میں آپ کے تجربات سے نئی کھلاڑیوں کو بہترین کوچنگ ملے گی۔پاکستان کی ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان، کرکٹر ثناء میر نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق ثناء میر نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران انھیں اپنے اس فیصلے کے بارے میں سوچنے کا بھرپور موقع ملا اور وہ یہ سمجھتی ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کا یہی بہترین وقت ہے۔ ان کے مطابق اس بات کی خوشی ہے کہ وہ اس کھیل کے ذریعے اپنے ملک کے لیے اپنا بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ثنا ء میر نے دسمبر 2005 میں اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل سری لنکا کے خلاف کراچی میں کھیلا تھا جبکہ اپنے ٹی ٹوئنٹی کریئر کی ابتدا مئی 2009 میں آئرلینڈ کے خلاف کی تھی۔ انہوں نے اپنے 15 سالہ بین الاقوامی کیریئر میں 120 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جن میں تین نصف سنچریوں کی مدد سے 1630 رنز بنائے اور اپنی آف سپن بولنگ سے 151 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اس کے علاوہ انہوںنے 106 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 802 رنز بنائے اور 89 وکٹیں حاصل کیں۔ یاد رہے کہ اس سال آسٹریلیا میں منعقد ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ پاکستانی ٹیم میں انھیں شامل نہیں کیا گیا تھا اور اس کی وجہ ان کی خراب فارم بتائی گئی تھی لیکن نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پس پردہ اس کا سبب ان کے اور چیف سلیکٹر عروج ممتاز کے درمیان شدید اختلافات تھے۔

ثناء میر نے کہا کہ اپنے کریئر کے دوران وہ ویمنز کرکٹ کی چند بہترین کھلاڑیوں سے ملیں جن کی سوچ اور کارکردگی نے انھیں بھی ایک مضبوط کھلاڑی بننے میں مدد دی۔ ثناء میر اب تک 72 ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کر چکی ہیں جن میں سے 26 میچ انہوںنے جیتے۔ اس کے علاوہ وہ 65 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں بھی کپتان رہیں جن میں سے 26 میچ جیتے۔ ثناء میر نے 2013ء اور 2017ء کے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ اور 2009ء، 2010ء، 2012ء ،2014ء اور 2016ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔انہوںنے کہا کہ وہ جب اپنے کیریئر پر نظر ڈالتی ہیں تو انھیں یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے عمل کا حصہ رہی ہیں جس کے نتیجے میں خواتین کی کرکٹ نے دو بڑے مناظر دیکھے ہیں جو خواتین کی کرکٹ کی بڑی کامیابیاں کہی جاسکتی ہیں جیسا کہ لارڈز میں 2017ء کے ویمنز ورلڈ کپ کا فائنل اور اس سال میلبورن میں ویمن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل جو کہ 87 ہزار افراد کی موجودگی میں کھیلا گیا۔ثناء میر نے کہا کہ ان کے لیے پاکستان کی نمائندگی کرنا کسی اعزاز سے کم نہ تھا لیکن وہ مستقبل میں بھی کسی نہ کسی حیثیت میں ملک کی خدمت جاری رکھیں گی۔ وہ ان نو خواتین کرکٹرز میں شامل ہیں جنھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں ایک ہزار سے زائد رنز اور سو سے زائد وکٹیں ایک ساتھ مکمل کیں۔

ثناء میر نے اکتوبر 2018ء میں آئی سی سی کی خواتین عالمی رینکنگ میں نمبر ایک بولر کی پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ کرکٹ کے معتبر جریدے وزڈن نے انھیں اپنی ایک دہائی کی بہترین ٹیم میں منتخب کیا تھا۔ وہ انڈیا کی متھالی راج کے ساتھ آئی سی سی کی ویمنز کرکٹ کمیٹی کا حصہ بھی ہیں۔ وہ ان دو پاکستانی ٹیموں میں بھی شامل تھیں جنھوں نے 2010ء اور 2014ء کے ایشین گیمز مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔

ثناء میر خواتین کی کرکٹ کی دنیا میں ایسی 29ویں کھلاڑی ہیں جنھوں نے ایک سو ون ڈے میچز کھیلے۔ پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کی رکن اور سابق کپتان ثناء میر آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون بولر بن گئی ہیں۔ 32 سالہ ثناء میر نے یہ اعزاز آئی سی سی ویمن چیمپئنرٹرافی کے دوران آسٹریلیا کے خلاف میچ میں حاصل کیا۔ سپنر ثناء میر بولروں کی آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔ثناء میر نے 2017ء سے اس وقت اپنی زندگی، کیریئر اور کرکٹ کے شوق کے بارے میں تفصیلی بات کی تھی جب وہ پاکستان کی ویمن کرکٹ کی تاریخ کی پہلی کھلاڑی بنی تھیں جنھیں ایک سو ایک روزہ میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔

ثناء میر کا کہنا تھا کہ ’’جب کرکٹ کھیلنا شروع کیا تو سال میں صرف چار انٹرنیشنل میچ کھیلنے کو ملتے تھے۔ اس لیے کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہاں تک پہنچ جاؤں گی۔ لیکن اب جب ورلڈ کپ کھیلنے یہاں آ رہی تھی تو اندازہ تھا کہ ایک سنگ میل حاصل کرنے جا رہی ہوں۔ جن مشکلات اور وسائل کی کمی سے پاکستان کی ویمن کرکٹ دوچار رہی اس کے بعد یہ لمحہ میرے لیے قابل فخر ہے۔‘‘

ثناء میر کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کو آج بھی جو سہولیات مل رہی ہیں وہ ٹیلنٹ دکھانے کے بعد ملی ہیں جبکہ باقی ملکوں میں پہلے کھلاڑیوں پر محنت کی جاتی ہے اور پھر نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔’’بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تب تک کھلاڑیوں کی بہتری کے لیے پیسے نہیں خرچ کیے جاتے جب تک وہ اچھے نتائج نہ لے کر آئیں۔‘‘ثناء نے کرکٹ کا آغاز دو ہزار پانچ میں 19 برس کی عمر میں کیا۔ اس وقت لڑکیاں ملکی یا ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس وقت ثناء کراچی میں ڈیفنس کالج میں ایف ایس سی کی طالبہ تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’کرکٹ نے مجھے لڑکیوں کے بارے میں لوگوں کی رائے بدلنے کا موقع فراہم کیا۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ لڑکیاں کرکٹ کھیل سکتی ہیں اور اپنے آپ کو منوا سکتی ہیں‘‘۔ثناء میر نے اب تک اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر میں 17 کی اوسط سے 1306 رنز بنائے ہیں اور ان کا بہترین سکور 52 رنز ہے جبکہ وہ 109 وکٹیں حاصل کر چکی ہیں۔ ان کی بہترین بولنگ وہ تھی جب انھوں نے 32 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

کپتان کے طور پر ثناء میر ویمن کرکٹ میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ میچ کھیلنے والی پانچویں کھلاڑی ہیں۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے کل 69 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 26 جیتے اور 42 ہارے۔31 سالہ ثناء میر کے والد ریٹائرڈ کرنل ہیں۔ لاہور میں مقیم ثناء میر نے 2015ء میں گریجویشن کی اور کرکٹ کھیلنے کے لیے انھیں گھر والوں کی جانب سے بھرپور مدد حاصل رہی۔ ثناء میر کے بقول انھیں ریاضی اور سائنس دونوں مضمون بہت پسند تھے اور ورزش وغیرہ کا بھی شوق تھا۔

’’کرکٹ ایسا کھیل ہے جو ان سب چیزوں کو اکھٹا کر دیتا ہے۔ ہر وقت کیلکولیشنز (حساب کتاب) کرنی پڑتی ہے، جسمانی طور پر فٹ رہنا ہوتا ہے اور سائنٹیفک (سائنسی) اس لیے ہے کہ اپنا بولنگ ایکشن سمجھنا، فالو تھروز کو دیکھنا، فلائیٹ تھرو کرنی ہے یا نہیں کرنی اور کرکٹ ان تمام چیزوں پر مبنی کھیل ہے‘‘۔کرکٹ کی ابتداء کے بارے میں بات کرتے ہوئے ثناء میر کا کہنا تھا کہ وہ جب آٹھویں جماعت میں تھیں تو انھوں نے خود ہی سکول کی لڑکیوں کو جمع کر ایک ٹیم بنا لی تھی۔ پھر ایک میچ رکھا اور خود ہی آپس میں انعام تقسیم کیے۔ پچپن میں بھائی کے ساتھ گلیوں میں کرکٹ کھیلتی تھی مگر آٹھویں جماعت سے ایف ایس سی تک یعنی چار سال میں کرکٹ نہیں کھیلی کیونکھ سکول یا کالج کی سطح پر کوئی مواقع ہی نہیں تھے‘‘۔

ثناء میر کا کہنا تھا کہ جب انھیں 2009ء میں کپتان بنایا گیا تو ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے دو مرتبہ ایشیائی کھیلوں کے مقابلوں میں سونا کا تمغہ جیتا۔ ان کے بقول اس وقت پاکستان میں لڑکیوں کے کرکٹ کھیلنے کا کلچر بالکل نہیں تھا اور کسی کو یقین ہی نہیں تھا کہ لڑکیاں بھی کرکٹ میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔’’تب ہم نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا، ویسٹ انڈیز کو ہرایا لیکن اصل معنوں میں ٹرننگ پوائنٹ تب آیا جب ہم نے 2010ء میں ایشیائی گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا۔

ثناء میر نے بتایا کہ وہ ورلڈکپ کے بعد ایک ماہ کی چھْٹی پر جا رہی ہیں تا کہ وہ اپنے مستقبل کے اہم فیصلے کر سکیں۔’میں کرکٹ چھوڑنے کے بعد بھی کوشش کروں گی کہ کسی نہ کسی صورت میں کرکٹ کے ساتھ جْڑی رہوں کیونکہ کرکٹ میرا پہلا پیار ہے۔‘

نوٹ: یہ انٹرویو پہلی بار 8جولائی 2017 میں شائع کیا گیا تھا۔

٭٭٭


ای پیپر