تیل نے تیل والوں کو تیل لگا دیا ،کالے سونے کا دھندا
04 May 2020 (16:59) 2020-05-04

امریکہ کی تیل کمپنیوں کے مروجہ معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مطابق تیل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ آپ کو یہ بات پسند آئے یا نہ آئے لیکن تیل اب بھی دنیا کی سب سے اہم چیز ہے۔ عالمی منڈی میں اس کی قیمت سے یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت عالمی معیشت میں کیا ہو رہا ہے اس کے علاوہ مستقبل میں جو ہونے والا ہے اس پر بھی اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔

اس وقت تیل کی قیمتوں سے ہمیں یہ معلوم ہو رہا ہے کہ عالمی معیشت شدید مندی کا شکار ہے ایک ایسا بحران جس کی سنگینی ابھی شرح نمو کے منفی اعداد و شمار سے پوری طرح ہمارے سامنے نہیں آئی ہے۔ گذشتہ ہفتے اس وقت دنیا بھر کو ایک شدید دھچکا لگا جب تیل کی قیمتیں منفی 40 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئیں۔ سب اس پر حیران رہ گئے لیکن یہ ایسا نہیں تھا جیسا نظر آ رہا تھا۔

عالمی سطح پر تیل کی تجارت پہلے سے طے شدہ معاہدوں کی صورت میں ہوتی ہے جو کسی متعین کردہ دن کو اپنی مدت پوری کرتے ہیں۔ جس کے پاس بھی یہ معاہدے اور سودے ہوتے ہیں انھیں ان کی مدت پورے ہونے پر تیل وصول کرنا یا اٹھانا ہوتا ہے۔ بہت سے افراد جو تیل کے سودے کرتے ہیں انھوں نے نہ کبھی ایک بیرل بھی تیل دیکھا ہوتا ہے نہ کبھی دیکھتے ہیں اور ایسے میں تیل وصول کرنا تو دور کی بات ہے۔

تیل کے سودے زیادہ تر فضائی کمپنیاں اور بڑے بڑے صنعتی ادارے اور کمپنیاں استعمال کرتی ہیں تاکہ تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ جانے کی صورت میں نقصان سے بچا جا سکے۔

امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کی ایک دائمی کمی کی وجہ سے تیل کے سودوں کی مدت ختم ہونے پر اچانک قیمتوں میں کمی یا اضافہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کیونکہ تیل کے بیوپاری نہیں چاہتے کہ ان کے پاس ایک بھی گیلن تیل بچ جائے۔

تیل کی عالمی تجارت میں آنے والی اس تاریخی، غیر معمولی اور تکنیکی بے قاعدگی کے پیچھے اصل مسئلہ بڑا حقیقی ہے۔ تمام تجارتی اشیا کی قیمت اس کی رسد اور طلب کی بنیاد پر ہی طے ہوتی ہے۔

تیل کی طلب عالمی معاشی سرگرمی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس وقت سب یہ بات کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث طلب بالکل تباہ ہو گئی ہے، جہاز کھڑے ہو گئے ہیں، شہروں میں سڑکیں گاڑیوں سے خالی ہیں اور فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔ اس صورت حال میں جب دنیا میں کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی تھی سعودی عرب اور روس میں تیل کی قیمتوں پر جاری تجارتی جنگ بھی شروع ہو چکی تھی۔

تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں کی طرف سے تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان بھی کیا گیا۔ لیکن طلب میں کمی اس قدر شدید تھی کہ وہ اپنی پیداوار میں اس تیزی سے کمی نہیں کر سکے اور برینٹ خام تیل کی قیمتیں مسلسل گرتی رہیں اور بدھ کی صبح یہ گذشتہ 20 برس میں اپنی کم ترین سطح 16 ڈالر فی بیرل پر تھی۔ گذشتہ برس آج کے دن تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تھی۔

تیل کی کم قیمت کیا کوئی اچھی بات ہے؟ یہ ایک بہت سیدھا سادا سوال ہے۔ جس طرح آسمان کو چھوتی تیل کی قیمتوں سے معیشتیں سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں تو تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے معیشت میں بہتری آتی ہے۔ بڑے پیمانے پر تیل کی قیمتوں میں کمی دنیا بھر میں چھوٹے بڑے کاروبار پر ایک عالمی ٹیکس کی طرح ہوتا ہے۔

اگر کسی فضائی کمپنی کو اپنا کاروبار بچانا ہے اور لوگ سفر کرنا شروع کرتے ہیں تو وہ اپنے سب سے بڑے خرچے تیل کی قیمتوں کو کم سے کم رکھنا چاہیں گی۔

اس طرح سے تجارتی مال لانے لے جانے والی کمپنیاں، سپرمارکیٹس، پھول بیچنے والے سب کاروباری ٹرانسپورٹ پر ہونے والے خرچے میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور تیل کی کم قیمت کی وجہ سے ان کے گاہکوں کی قوت خرید بھی بڑھ جاتی ہے۔

پیٹرول کی قیمت گذشتہ ایک دہائی میں پہلی مرتبہ ایک پاؤنڈ فی لیٹر یا اس سے بھی کم ہونے جا رہی ہیں۔ لیکن ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں وہ اپنے منافع کی شرح میں اضافہ کر دیں تاکہ وہ تیل کی فروخت میں کمی سے ہونے والے نقصان کو پورا کر سکیں۔

یہ ممکن ہے کہ تیل کی انتہائی کم قیمت کی وجہ سے معیشتیں تیزی سے بحال ہو جائیں اور موجودہ معاشی سست روی کسی کساد بازاری میں تبدیل نہ ہو۔

لیکن یہ بچت کرنے والوں کے لیے بری خبر ہے۔ تیل کی کمپنیاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ پیسہ بنانے والی مشینوں کی مانند ہیں اور اس پیسے کا بڑا حصہ پینشن سکیموں میں لگایا جاتا ہے۔ برطانوی کمپنیوں کی طرف سے کھاتے داروں کو جو منافع ادا کیا جاتا ہے اس کا پانچواں حصہ تیل کی دو کمپنیوں شیل اور برٹش آئل کی طرف سے آتا ہے۔

ان کی طرف سے کسی بھی بری خبر سے ریٹائرمنٹ کی آمدن خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ کمپنیاں بہت زیادہ ٹیکس بھی ادا کرتی ہیں۔

یہ صورتحال عالمی ماحول کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ جب تیل اتنی کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے تو توانائی کے دوسرے ذرائع حاصل کرنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دنیا بھر کے ملکوں اور کمپنیوں کے مفاد کے لیے انتہائی نازک اور اہم معاملہ ہے اور اس لیے ان کی خواہش رہتی ہے کہ تیل کی فی بیرل قمیت 40 سے 60 ڈالر کے درمیان میں رہیں۔

اس وقت یہ توازن بُری طرح بگڑ گیا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ اگر ہمیں اس بارے میں ابھی تک نہیں پتا تو ہمیں بہت بری معاشی خبریں ملنے والی ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر