فیض ،آرٹ اور مصورِ ،مشرق
04 May 2020 (16:49) 2020-05-04

شائستہ اسد

آج سے نصف صدی پہلے کی بات ہے جب چغتائی مرحوم سے پہلے پہل ہمارا غائبانہ تعارف ہوا۔ ہم نویں جماعت میں پڑھتے تھے اور ہمارے شہر سیالکوٹ میں ’’نیرنگِ خیال‘‘ کا پہلا یا دوسرا پرچہ وارد ہوا تھا۔ اس کے اوراق میں چغتائی صاحب کی ایک تصویر شامل تھی اور ڈاکٹر تاثیر مرحوم کا ایک تعارفی مقالہ ’’ہلکے پیازی اور نارنجی رنگوں کی دُھندلی فضا میں لیلیٰ، سگِ لیلیٰ کی زنجیرتھامے، کسی موہوم منزل کی جانب محوِخرام تھی۔ جب غالبؔ کا شعر ’’میں اور اندیشہ ہائے دوردراز‘‘ اپنی نظر میں نہیں تھا لیکن اب گمان ہوتا ہے کہ مرزا غالبؔ کے لیے ’’آرائشِ خم کا کل‘‘ کا نظارہ کسی ایسی ہی کیفیت کا حامل ہو گا جو یہ تصویر دیکھ کر اپنے دل پر وارد ہوئی۔ اس کے بعد ’’نیرنگِ خیال‘‘ کے کچھ اور پرچے دیکھنے میں آئے، چغتائی صاحب کی چند اور تصاویر دل کی دیوار پر نقش ہوتی رہیں اور پھر ہم اس سحر کار مصور کا ایک خیالی ہیولیٰ ذہن میں لیے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے۔

ایک دن میرے دوست آغا عبدالحمید (جو بعد میں آئی سی ایس بنے اور کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے) بہت اِتراتے ہوئے میرے کمرے میں آئے اورکہا:

’’دیکھو کیا لائے ہیں۔‘‘

یہ نقش چغتائی کا برلن ایڈیشن تھا اور پہلے صفحے پر چغتائی صاحب کے قلم سے ’’محبت سے، چغتائی‘‘ … رشک اور حسد سے کلیجہ کباب ہو گیا۔ میں نے پوچھا:

’’یہ کیسے اُڑایا ہے؟‘‘

کہنے لگے ’’کچھ بھی نہیں کیا۔ بازار سے ایک نسخہ خریدا اور کوچہ چاہک سواراں میں چغتائی صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ ان سے آٹوگراف کی درخواست کی تو آپ نے نہ صرف بہت خندہ پیشانی سے یہ لکھ دیا بلکہ بہت دیر ہم سے باتیں بھی کیں۔ تم بھی چلے جائو‘‘۔

جی تو بہت للچایا لیکن اس دیدہ دلیری کی ہمت نہ ہوسکی۔ اس کے بعد جب ہم ’’سیکھے ہیں مہ رُخوں کے لیے ہم سخن وری‘‘ کی منزل میں داخل ہوئے تو اس وسیلے سے اپنے مشفق اساتذہ تاثیر مرحوم، پطرس بخاری مرحوم اور محترم صوفی تبسم کے دربار میں بھی رسائی ہوئی۔ چغتائی مرحوم بھی ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے لیکن وہ تھے کچھ ایسی قسم کے بزرگ کہ شعر وادب کی مجالس تو کجاہ، محفل احباب میں بھی شاذونادر ہی نظر آتے تھے اور عمر بھر اسی وضع پر قائم رہے۔ دوست، احباب، مداح اور شائقین میں سے جسے بھی طلب ہوتی، انہی کے خلوت خانے میں حاضری دینے جاتا۔ اوّل اوّل کوچہ چاہک سواراں میں اور اس کے بعد راوی روڈ پر۔ کوچہ چاہک سواراں میں چغتائی صاحب تک رسائی نسبتاً زیادہ آسان تھی کہ اس زمانے میں ہمارے دوست اور ان کے برادرِ عزیز رحیم نے ابھی ان کی دربانی کے فرائض اپنے ذمے نہیں لیے تھے۔ چنانچہ کافی انتظار کے بعد اس تنگ ونیم تاریک گلی میں تاثیر مرحوم کی وساطت سے پہلی بار ان کا دیدار نصیب ہوا۔ اتفاق سے اسی گلی کی نکڑ پر اُن دنوں عبداللہ ملک رونق افروز تھے، چنانچہ اس گلی کا پھیرا کرنے میں ’’حج اور ونج‘‘ دونوں طرح کے مزے تھے جن سے لذت یاب ہونے کا وقتاً فوقتاً اتفاق ہوتا رہا۔ اس پہلی ملاقات سے لے کر جب ہماری حیثیت طفلِ مکتب سے زیادہ نہ تھی اور چغتائی مرحوم برصغیر کے برسرآوردہ مصور تسلیم کیے جاچکے تھے، آج سے چند برس پیشتر کی اس آخری ملاقات تک، جب ہم بھی بزرگوں کی صف نعلین میں شامل ہوچکے تھے، ’’دیکھا ہے اس کو جلوت وخلوت میں بارہا‘‘ … اور ہمیشہ یہی محسوس ہوتا رہا کہ ’’وہ جب ملے ہیں تو ان سے ہر بار کی ہے اُلفت نئے سرے سے‘‘۔ نہ ابتداء میں کبھی اپنی کم عمری کا احساس ہوا اور نہ بعد میں کبرسنی کا۔ اگر ہم نے طالب علمی کے زمانے میں عدم واقفیت کے باوجود ان کے فن کے بارے میں بقراطی چھانٹنے کی کوشش کی تو بھی مسکرا کر سنتے رہے اور اگر بڑھاپے میں اپنی جہالت کا اعتراف کیا تو کبھی پیٹھ تھپکتے رہے۔

’’اوچھڈو جی صاحب! فن اور حقیقت کا اَنت کس نے پایا ہے۔ اللہ کی یہی دین کیا کم ہے کہ اس نے ہم لوگوں کو اس کی لگن دی ہے‘‘۔

بعض ایسے اساتذہ سے بھی ہماری نیازمندی رہی ہے جنہیں ابنائے وطن نے منصب، عزت، شہرت اور دولت ہر شے سے نوازا لیکن ان کی تمام عمر اپنے معاصرین سے جلتے بھنتے گزری۔ اگر چغتائی صاحب ’’ہم چوما دیگرے نیست‘‘ کا دعویٰ کرتے تو بھی یہ ہر اعتبار سے صحیح تھا اور اگر بعد کی پود کی کم نگہی کا گلہ کرتے تو بھی بجا لیکن ہم نے چالیس پینتالیس سال کے طویل عرصے میں نہ ان سے اپنی ذات کے بارے میں تعلیٰ کا کوئی حرف سنا، نہ کسی اور مصور یا فنکار کے بارے میں تلخی یا تحقیر کا۔ اگر فن وادب میں کسی کج رو رُجحان کا تذکرہ بھی کرتے تھے تو درشتی یا کبیدگی سے نہیں بلکہ شفقت وملاطفت سے۔ ’’ اور خیالِ خاطرِ احباب‘‘ کے بارے میں تو ان کے بیسیوں قصے ذہن میں ہیں۔ اپنی ذات پر ان کی نوازشات کا ذکر مناسب نہیں کہ اس میں خودستائی کا پہلو نکلتا ہے۔ مجید ملک مرحوم کی زبانی، جو دوست داری کے بارے میں خود بھی انتہائی وضع دار تھے، صرف ایک واقعے کا بیان کافی ہوگا۔

چغتائی مرحوم کی رحلت سے کچھ ہی عرصے پیشتر مجید ملک لاہور تشریف لائے اور چغتائی صاحب سے ملنے گئے۔ اسی شام جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو بہت افسردہ بیٹھے تھے۔ کہنے لگے: ’’مولانا تم نے مجھے چغتائی کے ہاں جانے سے روکا کیوں نہیں۔ تمہیں تو اس کی علالت کا حال معلوم ہونا چاہیے تھا۔ واللہ مجھے عمر میں ایسی ندامت کا سامنا نہیں ہوا جو آج اُٹھانی پڑی‘‘۔

میں نے پوچھا ’’خیریت؟‘‘

کہنے لگے ’’بھئی میں نے اُن کے ہاں پہنچ کر گھنٹی بجائی۔ اوپر سے رحیم نے جھانکا اور کہا ’’آجایئے‘‘۔

تم جانتے ہو میں بھی دل کا پُرانا مریض ہوں۔ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچا۔ تھوڑی دیرکے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ چغتائی گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے اوپر کی منزل سے اُتر رہے ہیں اور ایسے ہی گھسٹتے ہوئے مجھ تک پہنچے۔ ایسا دل خون ہوا کہ کیا بتائوں‘‘۔

لیکن میں نے بات تو چغتائی صاحب کی کم آمیزی سے شروع کی تھی۔ جہاں تک مجھے علم ہے اس میں کاہلی یا سہل انگاری کو دخل نہیں تھا بلکہ اس کے برعکس چغتائی صاحب تخلیقِ حسن اور تکمیل فن وصناعت میں ہمہ وقت ایسے غرق رہتے تھے کہ اس ریاضت نے راہبانی استغراق کی سی صورت اختیار کرلی تھی۔ پُرانے راہب، زاہد اور رشی منی اپنے جذب وشوق کی تسکین چاہتے تو علائقِ دُنیا سے منہ موڑ کر پہاڑوں اور جنگلوں میں جادھونی رماتے، لیکن چغتائی نے کوہ ودشت سے بھی زیادہ دور درازایک اپنی خیالی دُنیا، کوچہ چابک سواراں اور راوی روڈ کے شور وشغب اور دھکم پیل کے عین بیچوں بیچ لابسائی تھی۔ اس دُنیا میں کبھی سرزمین ہند کے دیومالائی اوتار اپنا روپ دکھاتے، کبھی صفاہان وسمرقند کے شہزادے شہزادیاں جلوہ آراء ہوتیں، کبھی بلخ وبخارا کے شیوخ اور فلسفی غوروفکر میں دکھائی دیتے اور کبھی ارضِ لیلیٰ یا ارضِ شیریں کے عشاق اور محبوبائیں ’’اندیشہ ہائے دُوردراز‘‘ یا آرائش ’’خم کا کل‘‘ میں مصروف نظر آتیں۔ چغتائی صاحب کا کمالِ ہنر اور نزاکت فن اپنی جگہ ایک دفتر چاہتے ہیں لیکن عصرِ رواں پر ان کا یہی احسان کیا کم ہے کہ آپ کے قلم نے ہماری تہذیب وثقافت کے گمشدہ طلسمات کے وہ سارے در وا کردیئے جن سے حرف وسخن کی صورت میں تو ہمارا کچھ رشتہ باقی تھا لیکن جن کے مرئی خدوخال قدیم عمارتوں کے خدوخال کی طرح محو ہوتے جارہے تھے، اس اعتبار سے آپ گفتۂ غالبؔ اور نقشِ چغتائی میں ایک گونہ مماثلت پائیں گے اور اگر چغتائی نے نقشِ چغتائی کو لوگوں سے روشناس کرانے کے لیے سب سے پہلے دیوانِ غالبؔ کا انتخاب کیا تو شاید یہ محض اتفاقی امر نہ تھا۔ جس طرح مرزا غالب نے اُردو شاعری کے عروقِ مردہ (مردہ نہ سہی، افسردہ سہی) میں فارسی کا خون دوڑا کر اپنے قومی ادب کے رشتے کلاسیکی روایت سے دوبارہ استوار کیے، اسی طور چغتائی مرحوم نے روایتی کلاسیکی فنون کے پری خانے کو رنگ وخط کے شیشے میں اُتارنے کی کوشش کی۔ ہندی مبصر عام طور سے چغتائی آرٹ کو رابندر ناتھ ٹیگور کے بنگالی سکول سے منسوب کرتے ہیں جو کسی طرح صحیح نہیں لیکن ٹیگور سکول اور چغتائی آرٹ میں ایک قدر مشترک ضرور ہے۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب انیسویں صدی کے وسط میں انگریز حکمرانوں کے شعروادب کے ساتھ نقاشی اور مصوری کو بھی مشرف بہ انگریزی کرنا چاہا تو اس غرض سے کچھ آرٹ سکول بھی قائم کیے اور عام مدارس میں بھی طلبہ کو یورپی طرز پر ڈرائنگ وغیرہ کی تعلیم دی جانے لگی۔ یہ زمانہ ملکہ وکٹوریہ کا تھا، جب انگلستان میں بھی فن وہنر کے انحطاط کے دن تھے اس لیے کہ صنعتی انقلاب کے بعد یہ جنس لطیف گھٹیا بکائو مال ہو کر رہ گئی تھی اور اس کے خلاف وہاں کے صاحبِ نظر ناقد بھی واویلا مچا رہے تھے۔ ہمارے ہاں کے سرکاری اداروں میں تربیت یافتہ اور گھٹیا مال کے گھٹیا نقالوں نے تو بالکل لٹیا ہی ڈبو دی۔ اس کا ردعمل یہ ہوا کہ برصغیر کے مشرقی اور مغربی خطوں میں دانا وبینا اہلِ ہنر نے اس تحکم کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ ہماری تاریخ میں بیشتر سیاسی اور سماجی بغاوتوں کا آغاز بھی انہی خطوں سے ہوا ہے اور اپنے روایتی ورثے کے چراغ لے کر اپنی فنی تشخص کی تلاش شروع کی۔ اُدھر ٹیگور سکول نے اجنتا کے غاروں اور مختلف منادر کے دیوار میں نقوش، پرانی پستکوں اور پوتھیوں کی تصاویر اور مختلف پہاڑی اور راجستھانی دبستانوں سے رجوع کیا تو اِدھر چغتائی نے مغلئی، ایرانی اور وسط ایشیائی خزائن پر نگاہ مرکوز کی لیکن ان کی نقالی یا محض صورت گری پر اکتفا کرنے کے بجائے ان کے ہر Motif، علامت اور ہر استعارے … یوں کہیے کہ ان کے جگرِ لخت لخت کو یکجا کر کے ایک ایسا نیا اور انفرادی نسخۂ فن تالیف کیا جس میں ہماری قدیم مصوری کے علاوہ سبھی آرائشی فنون یعنی عمارت گری، سنگ تراشی، کاشی کاری، قالین بافی، کشیدہ کاری اور ظروف سازی وغیرہ کا حسن سمٹ آیا۔ اگر بنگال اور وسط ہند میں رابندرناتھ ٹیگور کے تتبع میں ایک باقاعدہ دبستان کھل گیا اور ہمارے ہاں کوئی چغتائی سکول پیدا نہیں ہوا تو غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طبعی ہنرمندی کے علاوہ جس وقت نظر اور تن دہی سے چغتائی نے ان فنون کی باریکیوں اور نزاکتوں کا مطالعہ کیا تھا، بعد میں کسی کو اس کی توفیق میسر نہیں آئی۔

ایک دوسری بات لے لیجئے، شاید آپ کے ذہن میں ہو کہ مولانا حالیؔ نے ہماری روایتی شاعری کے حوالے سے اُردو فارسی شعراء کے محبوب کا ایک بہت ہی مضحکہ خیز سراپاکھینچا تھا۔ چغتائی صاحب نے رنگ وخط کی صورت میں انہی علامتوں اور استعاروں کو ایسا سجایا کہ چشم غزال، صراحی گردن، زلف دوتا، موئے کمر، سرو رواں، لب لعلیں، ساق سیمیں اور دست نگاریں عالم وجود میں عالم تصور سے کہیں زیادہ حسین دکھائی دینے لگے۔

کہتے آئے ہیں کہ عظمت فن کا راز محض ہنرمندی یا کسی ایک گوشۂ فن میں دسترس سے وابستہ نہیں بلکہ اس کی اصل کُنجی تو وہ ذہنی اور جذباتی صفت ہے، وہ ذوق ووجدان ہے جو حسن وخوبی کے کسی ایک مظہر تک محدود نہیں، ان کے سبھی شواہد پر محیط ہے، یہی وہ شے ہے جسے اقبال خونِ جگر کا نام دیتے ہیں، معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود۔

چغتائی مرحوم کی ذات اس صفت کی مجسم مثال تھی۔

٭٭٭


ای پیپر