کورونا وائرس پر گھناؤنے کھیل!
04 May 2020 (16:43) 2020-05-04

کوئی بھی ایسی خبر شیئر نہ کریں جس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے

منصور مہدی

پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ رو بروز تیز ہوتا جارہا ہے اور 28اپریل تک مزید کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد14 ہزار504 ہوگئی تھی جبکہ 312 افراد وائرس کے باعث انتقال کرچکے تھے۔ ملک میں 26 فروری کو پہلا کیس سامنے آیا اور 31 مارچ تک تعداد تقریباً 2 ہزار تک پہنچی تاہم یکم اپریل سے لے کر اب تک اس تعداد میں 7 ہزار سے زائد مریضوں کا اضافہ ہوا۔اسی طرح اموات کی تعداد بھی اسی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ملک میں ہونے والی مجموعی اموات میں پہلے 100 اموات 28 دن میں ہوئیں جبکہ باقی 100 سے زائد اموات صرف 7 دن میں ریکارڈ کی گئیں۔اگرچہ اس وائرس کے پہلے کیس کے سامنے آنے کے ساتھ ہی ملک میں مختلف طرح کی پابندیاں اور بعد ازاں جزوی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔تاہم اس کے باوجود کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور جس طرح ٹیسٹ بڑھ رہے ہیں متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس گنجان علاقوں اور ان آبادیوں میں پھیل رہا ہے جہاں لوگ سماجی فاصلے کا خیال نہیں کر رہے ہیں، لہٰذا ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے صوبے میں کورونا وائرس کے کیسز کی صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ 24 گھنٹوں میں مزید 2097 ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد اب تک مجموعی طور پر ٹیسٹ کی تعداد 30 ہزار 346 ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مزید 320 نئے کیسز مثبت آئے جس کے ساتھ ہی مجموعی مثبت کیسز کی تعداد 3 ہزار 373 ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مقامی طور پر منتقلی کے سب سے زیادہ کیسز ہیں، 320 کیسز میں 12 تبلیغی جماعت کے اراکین کے کیسز ہیں جبکہ 308 کیسز مقامی طور پر منتقلی کے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یہ تعداد اب تک کورونا وائرس کے کیسز کی مقامی طور پر منتقلی کی سب سے بڑی تعداد ہے اور مثبت افراد کی شرح آج 15.2 فیصد ہے، اس سے پہلے آج تک کی شرح 11.1 فیصد تھی۔

آج پوری دنیا اس عدم علاج بیماری کے لپیٹ میں ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا کی عظیم طاقتوں نے تقریباً دو 2 ماہ اس بیماری کے حل میں لگا لئے۔ اس بیماری کے احتیاطی تدابیر میں پہلے نمبر پر ایک انسان کو دوسرے انسان سے دور رہنا چاہیئے۔ اور اگر ضرورت کے مطابق ایک دوسرے سے ملنا ہو تو فیس ماسک ماسک اور گلوز کا استعمال ضرور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہینڈ سینیٹائزر سے ہر دو تین گھنٹے بعد ہاتھ دھونا لازم سمجھا گیا۔ پاکستانی سرجیکل کاروباری لوگوں نے یہ سن کر اپنے اپنے گوداموں کو تالے لگا کر بند کردئے۔ اور ذخیرہ اندوزی کی چکر میں پڑ گئے۔ یکم جنوری کو فیس ماسک کا ایک ڈبہ 80 روپے کا تھا۔ جبکہ کچھ دنوں بعد فیس ماسک کا ایک ڈبہ 2600 روپے تک جا پہنچا ہے۔ اور اب یہی کھیل گلوز اور سینیٹائزر پر کھیلا جاتا ہے۔ حکومت وقت سے یہ شکایت کررہا ہوں۔ کہ کرونا وائرس سے بچنے کیلئے عملی اقدامات کر کے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ اور عوام کو اس بیماری سے نجات دلانے کیلئے سینی ٹائزرز ماسک اور دستانے وغیرہ جیسی سہولیات مہیا کرے۔

دنیا میں تیزی سے پھیلنے والی اس وبا نے جہاں دنیا بھر کے ممالک میں روزانہ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں دنیا بھرکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔تمام ممالک اس وبا کو ایک چیلنج سمجھ کر اس سے نمٹنے کی جہاں انفرادی کوششوں میں لگے ہوئے وہاں اجتماعی طور پر بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جہاں معاشرے میں اس وبا کے پھیلنے کے بعد متاثرہ لوگوں کو دوسرے لوگ اچھوت سمجھنے لگے وہاں مل بیٹھنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ مل بیٹھنے کا رجحان بیشتر ممالک میں حکومتی سطح پر دیکھنے میں آ رہا ہے، حکومت اور اپوزیشن جماعتیں مل کر اس وبا سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنا رہی ہیں، تا ہم پاکستان شاید واحد ملک ہے کہ جہاں اس شدید پیچیدہ اور مشکل وقت میں بھی حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں اپنی اپنی سیاست میں مصروف ہیں، وبا کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں، وفاق اور صوبے من مانی کر رہے ہیں اور ایک ملک پالیسی کے طور پر مشترکہ اقدامات اٹھانے کی بجائے اپنے اپنے مفادات کے تحت کام کر رہے ہیں، حالانکہ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ انسانیت بچانے کا ہے، مگر خدا جانے یہ بات ہمارے حکمرانوں اور اپوزیشن کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ پھر صوبوں اور وفاق کی جانب سے مستحق لوگوں کو راشن سپلائی کرنے اور مالی امداد دینے کے کے بڑے بڑے دعویٰ کیے جا رہے ہیں، مگر ان میں شفافیت نہیں ہے، اور جو اعلان کیے جا رہے ان کے مطابق امداد نہیں مل رہی۔ عوام حکمرانوں اور اپوزیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس مشکل گھڑی میں مل بیٹھ کر مشترکہ پالیسی بنائی جائے اور عوام کو اس عذاب سے نکالنے کی کوئی سبیل بنائی جائے۔

شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لے ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شیئر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔

کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناونا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کروناوائرس زیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔

دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں بھی مرض بڑھتا جا رہا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے مرکز اور صوبے بے بس ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو مختلف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی مہلک کرونا ( کورونا) وبا کے باوجود کئی جمہوری ملکوں میں منتخب عوامی نمائندے بدستور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے مشاورت اور اہم فیصلے کر رہے ہیں۔ جرمنی جہاں کووڈ۔19 کے 50 ہزار کیس سامنے آئے اور 285 اموات ہوئیں، کی پارلیمان بنڈسٹیگ نے موجودہ صورتحال میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 814 ارب ڈالرز کے پیکج کی منظوری دی۔اسی طرح لاک ڈاؤن کے شکار سپین (3500 اموات اور 50 ہزار سے زیادہ کیسز) کی کانگریس آف ڈپٹیز میں تعلیمی اداروں کو 12 اپریل تک بند رکھنے کے سوال پر اہم بحث ہوئی۔

برطانیہ (495 اموات، تقریباً 15 ہزار کیسز) کی پارلیمان کے ایوان زیریں (ہاؤس آف کامنز) میں کرونا وبا کے بارے میں حکومتی پالیسیوں پر بحث کے لیے مخصوص اراکین کا اجلاس ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔کینیڈا (39 اموات، چار ہزار سے زیادہ کیسز) کی پارلیمان کے ایوان زیریں میں کئی روز سے جاری اجلاس میں کرونا وبا پر بحث ہوئی اور پیر کو اجلاس 21 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔جبکہ جنوبی کوریا (139 اموات، نو ہزار سے زیادہ کیسز) کی پارلیمان کے ایوان زیریں میں حکومتی پالیسیوں پر بحث جاری تھی، جب دو روز قبل اجلاس ملتوی کیا گیا۔اعداد و شمار سے واضح ہے کہ مندرجہ بالا ملک دنیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں کے منتخب نمائندے آخری لمحات تک اپنی اپنی حکومتوں کی کرونا وائرس سے متعلق پالیسیوں پر بحث اور رہنمائی کرتے رہے۔

ان تمام مثالوں کے برعکس پاکستان کی پارلیمان میں کرونا وبا سے متعلق کوئی موثر اور بامعنی بحث نہیں ہوئی۔پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس نو مارچ کو شیڈول کے مطابق شروع ہوا، جو 20 مارچ تک چلنا تھا۔تاہم حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین کی ایما پر یہ اجلاس 13 مارچ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔اس آخری اجلاس میں کرونا وبا سے متعلق بمشکل دو گھنٹے بحث ہوئی تھی۔اس وقت پاکستان میں کرونا وبا سے متعلق تمام اہم فیصلے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کی سطح پر ہی کیے جا رہے ہیں۔ ایسا کیوں؟

٭٭٭


ای پیپر