'کورونا کیخلاف یکساں پالیسی مرتب دینے کیلئے وفاق کو ایک ہفتے کی مہلت'
04 May 2020 (15:39) 2020-05-04

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کیخلاف یکساں پالیسی مرتب دینے کیلئے وفاق کو ایک ہفتے کی مہلت دیدی۔

کورونا وائرس از خود نوٹس کیس میں چیف جسٹس گلزاز احمد نے ریمارکس دیئے کہ یکساں پالیسی نہیں بنائی تو عبوری حکم جاری کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ ماسک اور دستانوں کے لئے کتنے پیسے چاہیے، پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں، لگتا ہے کہ سارے کام کاغذوں میں ہی ہو رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پورے ملک میں حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں، جن کا روزگار گیا ان سے پوچھیں کیسے گزارا کر رہے ہیں؟ سندھ حکومت کہتی ہے 150 فیکٹریوں کو کام کی اجازت دیں گے، سمجھ نہیں آتی ایک درخواست پر کیا اجازت دی جائے گی، لاکھوں دکانیں ہیں ہر کوئی کام کیلئے الگ الگ درخواست کیسے دے گا؟ ایک دکان کھلوانے والے کو نہ جانے کتنے پیسے دینا پڑتے ہوں گے۔

ایک وزیر کچھ کہہ رہا ہوتا ہے تو دوسرا کچھ کہتا ہے، ایک صوبائی وزیر کہتا ہے وزیراعظم کیخلاف پرچہ درج کرائیں گے، سمجھ نہیں آرہا کیا ہو رہا ہے، دماغ بالکل آؤٹ ہے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا پنجاب میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ الارمنگ ہے، وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تعاون نہ ہونے کی وجہ غرور اور انا ہے۔ چاہتے ہیں معاملہ اس حد تک نہ جائے کہ عدالت کو مداخلت کرنا پڑے۔

عدالت نے قومی رابطہ کمیٹی کے 14 اپریل کے فیصلوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں صرف ایس او پیز بنائے گئے۔ جبکہ کیس کی مزید سماعت 18 مئی کو ہوگی۔


ای پیپر