کراچی کے ڈاکٹر پر وینٹی لیٹر کے بغیر آخری لمحات میں کیا گزری؟
04 May 2020 (15:12) 2020-05-04

کراچی: کراچی میں کرونا سے متاثرہ ڈاکٹر فرقان کو کسی بھی ہسپتال میں علاج کیلئے داخلہ نہ مل سکا اور وہ بغیر علاج کے گھر میں اپنی بیوی اور بیٹیوں کے سامنے وفات پا گئے۔

تفصیلات کے مطابق جنرل فزیشن ڈاکٹر فرقان کچھ عرصہ قبل ہی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے، تاہم انھیں وقت پر وینٹی لیٹر نہ ملا اور انھوں نے بے بسی کی حالت میں جان دے دی، کرونا مثبت آنے پر ڈاکٹر فرقان کچھ دنوں سے گھر میں آئیسولیٹ تھے، وہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سے ریٹائرڈ تھے۔

ڈاکٹر کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ طبیعت بگڑنے پر انھیں پہلے ایس آئی یو ٹی اور پھر انڈس ہسپتال لے جایا گیا، مگر کہیں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر خالی نہیں تھا،

سرکاری ہسپتال کے کئی وینٹی لیٹرز خراب پڑے ہیں، کوئی ایک ٹھیک ہوتا تو ڈاکٹر فرقان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ ڈاکٹر فرقان دو گھنٹے تک ایمبولینس میں رہے، دو بڑے ہسپتالوں سے واپس بھیج دیا گیا تو ڈاکٹر فرقان کو لے کر ڈاو اوجھا ہسپتال لائے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی، ڈاکٹر فرقان انتقال کر چکے تھے۔


ای پیپر