تبدیلیاں، چھیڑ چھاڑ اور کرونا
04 May 2020 (14:07) 2020-05-04

کرونا وائرس پھیل رہا ہے لوگ مر رہے ہیں۔ عالمی معیشتیں تباہ، اپنے ملک میں کھربوں کا نقصان لاکھوں افراد بیروزگار مگر ہم کرونا سے کھیل رہے ہیں۔ لاک ڈائون پر دست بگریباں ہیں۔ سخت لاک ڈائون، نرم لاک ڈائون، کرنا بھی ہے نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی بچانے کیلئے سخت لاک ڈائون مزدور اور غریب کو فاقہ کشی سے بچانے کے لیے نرم لاک ڈائون، مزدور کہاں جائے سخت لاک ڈائون سے بھوک نرم لاک ڈائون سے موت، پریشانی میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا نوکری یا پھر راشن بیگ دونوں میں سے کچھ نہ ملا۔ ایک گاڑی رکی۔ چار کھجوریں جوس کا ڈبہ، اس سے کیا ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا لاک ڈائون اشرافیہ نے لگایا فورا سوال ہوا حکمران آپ ہیں تو اشرافیہ کون ہے۔ یکم مئی پر اسی اشرافیہ کے عالی شان اور دل خوش کن پیغامات لیکن مزدورکے حالات اتنے ہی تلخ’’ ہر بلاول ہے قوم کا مقروض، پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے‘‘۔ رات گئے روزانہ دفتر سے واپسی پر مزار قائد کے قریب پیپلز چورنگی سے 100 گز دور ایک برقع پوش خاتون سڑک کنارے بیٹھی نظر آتی ہے دو بچے گلے میں تھیلے لٹکائے کسی سخی داتا کے انتظار میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ برقع پوش خاتون راشن بیگ کے لیے پریشان، بھوک نے ہر خوف سے آزاد کردیا۔ عزت، غیرت سب رخصت بس راشن بیگ چاہیے۔’’ اے مائوں، بہنوں، بیٹیوںقوموں کی عزت تم سے ہے‘‘۔ کرونا نے زندگیاں خطرے میں ڈال دیں، ہر گھر میں بھوک اگ رہی ہے۔ آپ عزت کی فکر میںگھلے جا رہے ہیں۔ فرمایاپاکستان میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد کم ہے۔ ’’مقروض‘‘ بلاو ل نے پوچھ لیا ’’کتنی ہلاکتوں سے آپ کی تسلی ہوسکتی ہے‘‘۔ ہلاکتوں کی پروا نہیں باہر سے نہ ملنے والی امداد کی فکر ہے۔ ہلاکتیں دونوں طرح ہوں گی۔ نرم لاک ڈائون سے کرونا مارے گا۔ سخت لاک ڈائون سے بھوک، سندھ نے لاک ڈائون سخت کیا تو 18 ویں ترمیم یاد آگئی۔ 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کا فیصلہ، کرونا کی تباہ کاریوں کی موجودگی میں چھیڑ چھاڑ کی کیا ضرورت، سڑک چھاپ زبان میں اسے چھیڑ خانی کہہ لیجیے۔’’ چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد‘‘ ورکنگ ریلیشن شپ ممکن نہیں۔ سیاسی مصلحتیں قریب نہیں آنے دیتیں۔ بقول غالب، ’’نفرت ہی سہی‘‘ صدر مملکت نے کراچی میں وزیر اعلیٰ ہائوس جانے کا ارادہ کیا ،کیسے آتے راستے میںبیرئرہی بہت ہیں۔ پہلے گورنر کا بیان آیا۔ میں سی ایم ہائوس نہیں جائوں گا۔’’ سبک سربن کے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سرگران کیوں ہو‘‘، چند گھنٹوں میں فیصلہ ہوگیا صدر سی ایم ہائوس نہیں جائیں گے۔ کرونا سے سماجی اور سیاست میں سیاسی فاصلے برقرار رکھنے ضروری، مشکل وقت میں سیاست، کرونا وائرس کی بجائے 18 ویں ترمیم کی موت کی آرزو، عجیب ترمیم ہے جس نے صوبوں کو امیر اور وفاق کو کنگال کردیا۔ صوبائی خود مختاری کے حامی لیکن 18 ویں ترمیم کے مخالف، ترمیم میں ترمیم، آئین تار تار ٹانکے پہ ٹانکے، ترامیم کا مجموعہ، سیاست دان ہر دور میں رفوگری کے لیے بے چین۔

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

سنجیدہ مزاج لوگوں نے مشورہ دیا۔ چھیڑ خانیاں

مناسب نہیں، مگر ذہن رسا 18 ماہ سے کسی ایک چیز پر فوکس نہیں کر پایا پانچ سالوں میں سبھی کچھ کرنے کا عزم، ویژن لیکن کچھ بھی کرنے نہیں دیتا، ابتدائی پانچ سالوں میں صرف کمیٹیوں اور کمیشنوں کی تشکیل اگلے پانچ سالوں میں ان کی سفارشات پر غورو خوض جبکہ ان سے اگلے پانچ سالوں میں ان پر عمل درآمد، ملکی ترقی کے لیے عمر خضر چاہیے جاناں۔ ابھی تو ترامیم اور تبدیلیوں کے دن ہیں۔ سب کچھ بیک وقت ہو رہا ہے کرونا کے دوران ہی آٹا، چینی اسکینڈل منظر عام پر آیا، کیا کیا دعوے سننے کو ملے، عوام کی جیبوں سے اربوں روپے تجوریوں میں ڈالنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ لوگ سمجھے کہ چینی مافیا جیلوں کی ہوا کھائے گی۔ نادان سمجھ نہ سکے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ منہ پھٹ سیاستدان نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ آٹا، چینی اسکینڈل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو حکومت کیخلاف مسائل پیدا ہوجائین گے۔ مصلحتوں کے اسیر سیاستدان جانتے بوجھتے ہوئے بھی نہیں جانتے کہ اپنوں کو نہیں ’’چھوڑا ‘‘جاتا بندہ تنہا رہ جاتا ہے، سیاست میں اپنوں اور غیروں میں امتیاز ضروری، آنکھیں بند کر کے کارروائی کردی جائے تو کچھ نہیں بچتا۔مسائل کیا پیدا ہوں گے؟ منہ پھٹ سیاستدان بھی جانتے ہیں کہ سیاں بھئی کو توال پھر ڈر کاہے کا‘‘ دور دور کہیں افق پر دراڑ نظر نہیں آتی اپوزیشن پارٹیوں میں کہیں اتحاد دکھائی دیا ؟آثار نظر آئے؟ نہیں تو کس برتے پر مسائل پیدا ہوں گے، 25 اپریل گزر گیا۔ منہ پھٹ سیاستدان اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۔ اس دن کچھ بھی نہ ہوا۔ بلکہ سیدھے سبھائو ایک اور کمیشن بنا دیا گیا جس کے مطابق اس اسکینڈل سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ایک ایک کے بارے میں تحقیقات ہو گی، بے نامی خریداروں کا سراغ لگایا جائے گا۔ ہزاروں دن چاہیے زلف کے سر ہونے تک ’’تم سلامت رہو ہزار برس، ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار‘‘، اسکینڈل کسی بھی حکومت یا پارٹی کی مقبولیت کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ 18 ماہ میں کتنے اسکینڈل آئے حال ہی میں آٹا چینی کے بعد توانائی اسکینڈل غیر ملکی قرضوں کا اسکینڈل لیکن مقبولیت برقرار، مہارت اسی کا نام ہے لیکن اسکینڈلوں سے جان چھڑانے اور عوام کی توجہ بٹانے کے لیے مضبوط ٹیم کی ضرورت چنانچہ 18 ماہ میں 18 تبدیلیاں، ہر دم چوکس ہر دم الرٹ، جس نے مطمئن نہ کیا وہ آئوٹ دوسرا ان، جانے والے پر کوئی الزام؟ پتا نہیں بس اچھا نہیں لگا، آپا فردوس عاشق اعوان دو دفعہ معاون خصوصی بنیں اور منظر سے ہٹیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات تھیں تو ما شاء اللہ 24 گھنٹے 42 انچ کی ٹی وی اسکرین پر چھائی رہتی تھیں۔ کسی اور کی گنجائش ہی نہیں ہوتی تھی۔ جب تک رہیں اپوزیشن کا ناطقہ بند کیے رکھا۔ وہ پھلجھڑیاں چھوڑیں کہ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے اور کان بند کرلیتے حکومت اور اپوزیشن کو ایک انچ آگے نہ بڑھنے دیا۔ وہ نفرتیں پھیلائیں کہ العیاذ باللہ ،جانے کے بعد الزامات کے تمغے سجانا پرانی روایت لیکن لگتا ہے کہ ناشتے کی میز پر آپا کا کوئی تبصرہ طبع نازک پر گراں گزرا ہوگاچنانچہ آپا کو آئوٹ کردیا گیا غیر منتخب تھیں کہتے ہیں پارٹی نے انہیں کبھی اون نہیں کیا۔ فضول بات 50 رکنی کابینہ میں اکثریت غیر منتخب وفاقی وزرا تو صرف 27، 4 وزرائے مملکت 5 مشیر اور 14 معاونین خصوصی کیا سارے منتخب ہیں کام چلانے کیلئے ادھر ادھر سے ادھار لیے گئے اپنوں نے مطمئن نہیں کیا تو کیا کرتے 18 نام جنہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا حسرت موہانی نے کہا تھا ’’ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی، اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی‘‘ کیاطرفہ تماشا ہے، ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ۔بھوک اور موت کے تماشے میں وقفہ کے دوران چھیڑ خانیاں اور تبدیلیاں لیکن ٹھہریے کرونا وائرس کے بارے میں بھی شکوک و شبہات ابھر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر محمد اقبال عادل کی ویڈیو وائرل ہے جس میںان کا کہنا ہے کہ میں نے ٓج تک کسی کو کرونا وائرس سے مرتے نہیں دیکھا عالمی سازش ہے جس میں بل گیٹس سمیت 13 خاندانوں نے سرمایہ کاری کی ہے اس کھیل میں جو ڈاکٹر کسی مریض کو کرونا سے متاثر قرار دیتا ہے اس کو یومیہ 4 ہزار ڈالر، تشویشناک حالت ظاہر کرنے پر 13 ہزار اور وینٹی لیٹر پر لے جانے والے کو 40 ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔ مقصد 30 ممالک کا خاتمہ یا ایک دوسرے میں انضمام ہے یہودی سازش، یہودی گیم، جون میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی مالیاتی ادارے قرضوں کے منہ کھول دیں گے اور زندگی بھر کے لیئے ملکوں کو اپنا غلام بنا لیں گے شنید ہے کہ ہم نے ایڈوانس بکنگ کے طور پر بل گیٹس سے رابطہ بھی کرلیا ہے۔


ای پیپر