ہد ہد کا بیا ن اور بھا رتی ایڈونچر کا خد شہ
04 May 2020 (14:06) 2020-05-04

مشہو ر وا قعہ ہے اور یہا ں دہرا نے کی ضرورت نہیں کہ کس طر ح ایک ہدہد نے خدا پا ک کے بر گزید ہ پیغمبر حضر ت سلیما نؓ کو ملکہ صباء بلقیس کی عا لی شان مملکت کی اطلا ع دی تھی۔ آ ج یہا ں ایک اور ہد ہد کا ذکر مقصو د ہے ۔ وہ جو کچھ بتا ر ہا ہے ، وہ اسی کی زبا نی سنیئے۔تو وہ کچھ یو ں گو یا ہو تا ہے کہ میں ایک ہدہد ہوں جو عصر حاضر میں ساری دنیا کا جائزہ لینے نکلا ہوں۔ میں پرواز کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ میرے بازو شل ہوچکے ہیں، میرا وجود ٹوٹ چکا ہے، میرے جسم پر گرد جمع ہے، میرے کانوں میں سسکیوں کی آوازیں ہیں۔ آہ و فغاں، گریہ و زاری سے میرے کان کے پردے پھٹ چکے ہیں، میرا دل پھٹا جارہا ہے۔ میری ناک میں شام کا گرد وغبار ہے، میری آنکھوں میں عراق کا ہولناک منظر ہے، میری نظروں میں ملبے کے نیچے ٹکڑوں میں پڑے افغانی بچے میں، میں نے لیبیا لٹتے دیکھاہے، میں نے فلسطینی خواتین کی بے پردہ نعشیں دیکھی ہیں۔ میں نے روہنگیا بچے سے پوچھا جس کے گلے کو پشت سے کاٹا جارہا تھا کہ تمہیں کوئی ان ظالموں سے کیوں نہیں بچا رہا؟ بچے نے روتے ہوئے جواب دیا کہ اے ہد ہد اب اسلام امن کا درس دیتا ہے، اب اسلام ہتھیار اٹھانے کا درس نہیں دیتا۔ میں نے ایک بچے کے گوشت کے ٹکڑوں سے پوچھا کہ یہ تیری حالت کس نے کی؟ گوشت کے ٹکڑوں میں جنبش ہوئی اور وہ زور سے چیخا کہ میری حالت کا ذمہ دار وہ ہے جو کہہ رہا ہے کہ اسلام مذہبی رواداری کا درس دیتا ہے۔ میں وہاں سے اڑ کر ایک اور بستی میں پہنچا جہاں ایک خاتون کو درخت سے بے لباس باندھ کر اس کی عصمت دری کی جارہی تھی۔ میں چلایا اور اس عورت سے گویا ہوا کہ اے مظلوم خاتون تجھے ان درندوں سے بچانے والا کوئی نہیں؟ وہ خاتون کہنے لگی نہیں کوئی نہیں کیونکہ اب اسلام صرف تبلیغ کا درس دیتا ہے۔ میں شدت غم سے نڈھال ہوگیا اور روتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔ راستے میں میری نظر ایک گھر پر پڑی جہاں کچھ لوگ خنجروں، تلواروں سے کچھ انسانوں کا قیمہ بنا رہے تھے۔ میں نے اس انسانی قیمے سے روتے ہوئے دریافت کیا کہ اے قیمے میں بٹے انسانو! تمہاری یہ حالت کیسے ہوئی؟ تو ان گوشت کے پرزوںمیں حرکت ہوئی اور دبی دبی سسکیوں میں الفاظ میرے کانوں میں یوں آنے لگے: کہ اے طائر لاہوتی اب ہمیں بچانے کون آتا ہے کیونکہ اب اسلام ہمیں قیمہ بنانے والے ان بدبختوں کی اصلاح کا درس دیتا ہے۔

میں اراکان سے نکل کر فلسطین کی طرف کوچ کر گیا جہاں کچھ عمارتیں زمین بوس ہوئی تھیں اور گرد و غبار کے بادل چاروں طرف چھائے ہوئے تھے۔ ملبوں سے انسانی چیخوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میر اوجود کپکپا اُٹھا۔ میں زمین پر اترا تو وہاںانسانی اعضا بکھرے پڑے تھے۔ ایک زور دار چیخ کی آواز آئی۔ میری نظر ایک گرے ہوئے ستون کے نیچے ایک شخص پر پڑی جس کا سینہ ستونوں کے نیچے دب کر کٹ گیا تھا اور کٹے ہوئے سینے سے دل باہر پڑا تھا۔ میں نے اس مرے شخص کی نعش سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ اے مظلوم کوئی نہیں تھا جو ان ظالموں کے حملے سے تمہیں بچاتا؟ مرے ہوئے شخص کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ، اس نے زیرلب کہا

کے اے طائر لاہوتی اب ہمیں نہیں کوئی بچانے والا، اب اسلام صرف امن کا دین ہے، اب اسلام صرف نماز پڑھنے کا دین ہے، اب اسلام حکومت کا دین نہیں۔ اب اسلام صرف اصلاح کا دین ہے، اب اسلام صرف روزے رکھنے کا دین ہے، اب اسلام صرف اعتکاف میں بیٹھنے کا دین ہے، اب اسلام صرف میلاد منانے کا دین ہے۔ اب اسلام اختلاف رائے کو احسن طریقے سے ڈیل کرنے کا دین ہے۔ اب اسلام صرف بدمذہب کے رد کرنے کا دین ہے۔ اب اسلام صرف نعتیں پڑھنے کا دین ہے۔ اب اسلام صرف عرس منانے کا دین ہے۔ اب اسلام صرف نوافل پڑھنے کا دین ہے۔ اب اسلام صرف مناظروں کا دین ہے۔ اب اسلام صرف مدارس چلانے کا دین ہے۔ اب اسلام صرف تبلیغ و اصلاح کا دین ہے۔ اب اسلام سیاست سے کنارہ کشی کا دین ہے۔ اے طائر لاہوتی اُڑ جا، چلا جا ورنہ تو بھی دہشت گرد کہلائے گا، تو بھی جنونی کہلائے گا۔ یہ دنیا تجھے اب ایسے سوالات کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اب اسلام صرف اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی اجازت دیتا ہے۔ اب کا اسلام صرف مذاکرات کی دعوت دیتا ہے۔ اب کا اسلام صرف بات چیت کی اجازت دیتا ہے۔ جا او طائر لاہوتی! جا تیری پرواز میں ہماری وجہ سے کوتاہی ہورہی ہے۔

ہد ہد کی یو ں درد بھری رخصتی کے بعد اسی تنا ظر میں جب مجھے مقبو ضہ کشمیر کے مظلوم مسلما نو ں کا خیا ل آتا ہے تو میں دیکھتا ہو ں کہ وہا ں اب کم و بیش نو ماہ سے جاری لاک ڈائون کی وجہ سے عالمی برادری کا تحمل جواب دیتا جارہا ہے۔ پھر مودی حکومت کو متنازع قانون کی وجہ سے اپنے عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اب تو اس حوالے سے بیرونِ ملک سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں۔ مثلاً امریکی کمیشن نے بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹ میں امریکی کمیشن نے متنازعہ بھارتی شہریت بل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کیے جانے پر بھی تنقید کی گئی۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے کہ جب بھی اسے کسی قسم کے دبائو کا سامنا ہوتا ہے تو وہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیتی ہے یا پھر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں شروع کردیتی ہے۔ ہماری قیادت لائن آف کنٹرول پر مسلسل بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی ہے اور اس بارے میں عالمی برادری کو خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر یا لائن آف کنٹرول پر کوئی واقعہ سٹیج کرکے اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایک جانب یہ سرگرمیاں جاری ہیں تو دوسری جانب الٹا پاکستان کو مطعون کیا جاتا ہے کہ اس کی جانب سے در اندازی ہورہی ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی پاکستان نے دراندازی کی کوششوں کے بے بنیاد الزامات اور لائن آف کنٹرول کے پار لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنانے کے من گھڑت احمقانہ دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع پروپیگنڈا مشین نے جھوٹ بولنے کی اپنی رفتار بڑھا دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی دفاع کے حالیہ بے بنیاد دعوے اور اشتعال انگیز بیانات کو بھی مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ہم دشمن پر غالب آچکے ہیں۔ ان حالات میں پاک فوج کے سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا لائن آف کنٹرول کے علاقوں کا دورہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان بھارت کی شر انگیزیوں سے لاعلم یا بے خبر نہیں ہے اور مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت پوری دنیا ایک وبا ء کے خلاف جنگ میں مصروف ہے او رتمام ممالک کی توجہ اس عفریت سے نجات حاصل کرنے کی جانب مبذول ہے لیکن ان حالات میں بھی بھارتی حکمران شر انگیزیوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ بار بار کے بھارتی الزامات کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹائی جائے۔ چنانچہ اس خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاکہ بھارت کوئی ایڈونچر کرنے کی مذموم کوشش کرے۔ عالمی برادری خصوصی طور پر اقوام متحدہ کو اس تشویشناک صورت حال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی بھارتی ایڈونچر حالات اور معاملات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا اور ظاہر ہے کہ اس سے تبا ہ کن وبا کے خلاف عالمی سطح پر جاری کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔


ای پیپر