کورونا، کشمیر اور پاک فوج
04 May 2020 (14:06) 2020-05-04

بھارت ہر روز اپنی نئی حکمتِ عملی سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے اور کشمیر میں اپنے ظلم و ستم میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔شاید وہ بھول رہا ہے کہ کشمیر جسے جنت کی کلی کہا جاتا ہے یہ جاگیر اور اس میں بسنے والے لوگ اللہ کو کتنے پیارے ہیں ۔ بھارت پر کشمیر ی قبضہ امریکہ کی ایماء پر کیا گیا اور اس مسئلے میں امریکہ کی بھارت کو مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔اللہ کو یہ ناانصافی سخت ناگوار گزری۔بھارت نے کشمیر میں لاک ڈاؤن کیا تو اللہ تبارک تعالیٰ نے پوری کائنات میں لاک ڈاؤن کرا دیا۔ کشمیر میں جب بھی ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں تو کشمیر کے لوگوں کے دلوں سے یہ ترانے گونجتے ہیں ــ’’اے دنیا کے منصفو، سلامتی کے ضامنو‘‘۔دنیا کے منصف امریکہ میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں اور اللہ کی قدرت ہے کہ کورونا کا بھی زور بھی زیادہ امریکہ کی طرف ہی ہے اور وہیں سب سے زیادہ لاک ڈاؤن ہے۔امریکہ کو چاہیئے کہ اپنے لے پالک بچے کو حکم دے کہ وہ کشمیر کو آزاد کر دے ۔ معصوم بچوں اور پردے دار عورتوں کی دعائیں لے تو کوروناکے لئے بہترین ویکسین ان مظلوموں کی دعائیں ہی ثابت ہونگی۔بھارت ، کشمیر سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور سول آبادی پر بھی ہر روز بمباری کر رہا ہے۔ کوئی ایسا دن نہیں ہے کہ جب لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی نہ ہو۔یہ الگ بات ہے کہ ہر روز بھارت کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔لیکن اس کے باوجود اس نے نہتے اور اپنی زمینوں پر کام کرنے والے بچوں اور خواتین پر گولہ باری

کرنے کا وطیرہ بنا رکھا ہے۔میں سلام پیش کرتا ہوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی فہم و فراست کو ، جو اپنی عقل و دانش سے نہ صرف بھارت کے ہر ہر حربے پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے اوچھے ہتھکنڈے سے مقابلوں کے لئے اپنے جوانوں اور افسروں کی حوصلہ افزائی کے لئے اگلے مورچوں پر بنفس نفیس جاتے ہیں اور احکامات جاری کرتے ہیں ۔جب شفقت کی ضرورت تھی گود چھن

گئی۔سہارا تلاش کیا بیساکھیاں ٹوٹ گئیں ۔اس ذاتِ کریم نے پاؤں میں سکت، ہاتھوں میں طاقت اور خون میںحرارت دے دی۔معاشرتی رشتوں کا سہارا ڈھونڈا تو منافقت اور خود غرضی سے واسطہ پڑا۔تو اس وقت ذاتِ اقدس نے جرأت نمو دے دی۔خودداری کا ذوق دے دیا۔جدوجہد کی ٹھانی تو عزتِ نفس پر حملے ہوئے۔ ٹانگیں کھچی تو خود اعتمادی نے اپنا رنگ دکھایا۔خون کی گرمی نے کروٹ لی تو تکبر کا منظر دیکھا۔فوراً احساس ندامت کے جذبے نے اپنی نفی کاجذبہ ابھارا۔جھوٹ، مکاری اور منافقت کے اس دور میں شرافت ، دیانت اور خلوص کے مذاق اڑاتے دیکھا۔انتقامی جذبے ابھرے۔اس انداز کو اپنانے کی ٹھانی تو شان کبریا کی جھلک نے شرارت اور شیطانی ارادے کافور کر دئیے۔انسانیت کے دشمن خودغرض و چالاک کھوٹے سکوں کی جھنکار دیکھی تو رزق حرام، بددیانتی اور مکاری کی بو آئی جس سے جذبہ نفرت ابھرا۔سب کچھ کیوں ہوا۔اس خاک کے پتلے میں یہ اندھیرے ، یہ روشنیاں کہاں سے پھوٹیں ۔کون ہے جو انسان کو اس گندگی اور دلدل سے نکالتا ہے۔کس کے قبضہ ٔ قدرت میں عفوودرگزر کا میزان ہے۔وہ کس طرح انسان کے اندر انسان کو چوکس رکھتا ہے۔وہ کس طرح مشکلات اور آسانیوں میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔وہ کس طرح جذبات کی مضبوطی ، احساسات کی درستگی اور پختگی انسانی سوچ میں ابھارتا ہے۔ وہ کس طرح نیتوں کی درستگی میں اپنی رہنمائی فرماتا ہے۔صبر کی توفیق دیتا ہے۔ عمل کی سوچ دیتا ہے۔یہ اس ذات قدوس کی خصوصی عنایت ہے کہ انسان اپنے ضمیر کی آواز سے واقف ہو اپنا احتساب خود کرے۔ انسانی حقیقت کا احساس ہر وقت اس کی زندگی کا ساتھ دے۔ شیطانی عمل کو پہنچاننے کی کوشش کرے۔اپنے اندر جھانکے۔ گردونواح میں تاریکیوں اور ظلمتوں کے تلخ جھونکوں کو محسوس کرے۔استقامت کی راہ میں جدوجہد کو شعار بنائے۔مقابلے کے مثبت رویے اپنائے۔کانٹوں میں الجھ کر زندگی کی خو پیدا کرے۔انسانوں میں اتفاق اور اتحاد کی روشنیاں جلائے۔نفرتوں کے جھنکوں سے کنارہ کشی اختیار کرے۔دست قدرت کو تھامے، اپنے آپ پر بھروسہ کرے۔کسی کے مٹانے سے انسان کبھی نہیں مٹتا۔میں تحریر کے وقت اپنی آواز کی بے بسی سے غافل نہیں ، مجھے اس دہر میں انسانیت کی بے حسی کا بھی احساس ہے۔ مجھے معاشرتی ستم ظریفیوں کا بھی ادارک ہے۔ مجھے سوچو فکر سے خالی مصنوعی اور نمائشی جادوگری کے پیچ و تاب بھی نظر آ رہے ہیں ۔مجھے مصنوعی ماحول میں آسروں کے دھوئیں بھی منڈلاتے نظر آ رہے ہیں ۔مجھے اپنی سوچ اور فکر کے دائروں کی ہلچل کا انجام طوطی کی آواز نقار خانے میں گم ہوتی نظر آرہی ہے۔لیکن جو دھڑکن اس مادروطن کے زخم خوردہ لاشے پر آ ہ و فغاں میں سرگرداں آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرنے کی فکر میں بے چین ہے۔بے حسی کے عالم میں درد اور تڑپ میں پگھل رہی ہے۔اسے روائتی سوچ کے حوالے کرنا اور ڈوبنے کے خدشے سے آنکھیں بند کرنا زندگی دینے والے کی مہربانی سے روگردانی ہے۔ارباب اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے پیچیدہ راستے اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ۔میں خودداری کے آداب سے بھی ناواقف نہیں۔حاضریوں کے شوق سے اپنی فطرت ناآشنا، اخلاص کی بھٹی میں سلگتی ہوئی سوچ سب اسی راستے کی رکاوٹیں ہیں ۔ مگرروشنیوں کے وہ جذبات جو اس وطن کے دکھ درد میں اپنے ساتھ ہیں، کبھی کبھی خود بخود پھوٹنے پر مجبور کرتے ہیں اور کچھ کہنے اور لکھنے پر مجبور کرتے ہیں ۔


ای پیپر