ملت کے گناہ
04 May 2020 (14:05) 2020-05-04

مادی نقصان کو تو رکھئے ایک طرف لیکن حرمین شریفین، عباد ت گاہوں کی بندش سے امت جس کرب اور دکھ سے دوچار ہے، وہ ناقابل بیان ہے، کرونا وائرس نے پوری دنیا کی’’ فیبرکس‘‘ ہی بدل کر رکھ دی ہے۔بعض اس جرثومے کو اللہ کے عذاب سے تعبیر کر رہے ہیں، کچھ کے خیال میں یہ شام، یمن، کشمیر، فلسطین کے بچوں پر ظلم ڈھائے جانے کا نتیجہ ہے،مسلم ممالک میں بے حیائی، غیر فطری کاموں کو اللہ کی ناراضگی کا سبب مانا جارہا ہے، غالباً امکان یہ ہے کہ جب اس ناسور سے چھٹکارا ملے گا تو دنیا بہت بدل چکی ہوگی۔ اس وقت سب کی نظریں اس ویکسین کی طرف لگی ہوئی ہیں جس کو نجات دہندہ سمجھا جارہاہے، وہ کمیونٹی بھی اہل مغرب کی جانب دیکھ رہے ہیں جس نے ہزار سال تک اس سرزمین پر حکومت کی ہے، درخشاں تاریخ گواہ ہے جن علوم کی بنیاد مسلم مفکرین نے رکھی مغربی دنیا نے اسے ہی آگے بڑھایا، سائنس، طب، علم جراح، فلسفہ، تاریخ، فنون لطیفہ کے علوم سے استعفادہ کیا ہے،امت مسلمہ کے سائنسدان تاریخ کے اوراق میں گم ہیں، اور کتابیں مغرب کے حسد کی بدولت دریائے دجلہ کی نذر ہو گئیں۔

عالمی آبادی کا ہر پانچواں فرد مسلمان ہے،ایک یہودی کے مقابلہ میں کم وبیش ایک سو سات مسلمان ہیں،شرح خواندگی کے اعتبار سے ہمارا تناسب چالیس فیصد ہے جبکہ عیسائی کا نوئے فیصد ہے،پرائمری میں زیر تعلیم مسلمان بچے پچاس اور عیسائی 98% ہیں، ہمارے ہاں صرف دو فیصدمسلمان یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں،دس لاکھ مسلمانوں میں سے صرف 230 جبکہ امریکہ میں پانچ ہزار سائنسدان ہیں،عیسائی دنیا تحقیق اور ترقی پراپنے جی ڈی پی کا پچاس اور مسلمان صرف دو فیصد خرچ کرتے ہیں ، عالمی تجارت میں اسلامی برادری کا حصہ صرف آٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے ایسا نہیں کہ ہمارے پاس دولت کی کمی ہے، دینا کی دس امیر کبیر بڑی بادشاہتوں کا تعلق بھی مسلم دنیا ہے، لیکن گذشتہ تین سو سال سے ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں۔

اس وقت ہم ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزماء ہیں، شام کے معصوم بچوں پر بم گرانا ، یمن پر راکٹ برسانے والوں کا کوئی اور مذہب ہے؟ وہ بھی کلمہ گو کہلاتے ہیں، قاتل بھی وہی مقتول بھی ایک والا معاملہ ہے۔کیا ہم افرادی قوت میں کمزور ہیں ، مقام شکر ہے نوجوانان اسلام کی بڑی تعداد تنو مند، توانا،متحرک ہے،ہماری ایک آرگنائزیشن بھی ہے، دنیا اسے او آئی سی کے نام سے جانتی ہے،57 ممالک کی یہ بیٹھک محض بیان بازی ہی کو اپنا اولین فریضہ خیال کرتی ہے،اسکا ایک سیکرٹریٹ بھی ہے، اس کا فنڈ بھی مختص کیا جاتا ہے اس کے ناتواں کندھوں پر اسلامی دنیا میں سائنسی علوم کا علم بلند کرنا تھا، برادر ممالک کے مابین اختلافات کو کم کرنا تھا، امت کے دیرنیہ مسائل کے حل میں مدد دینا تھا،مگر یہ تنظیم نشستند، گفتند، برخواستند سے آگے نہ بڑھ سکی ہے۔عام فرد کے ذہن میں یہ خیال تو آ ہی سکتا ہے کہ اس کے ذمہ داران کشمیر، فلسطین، برما، عراق، یمن، شام میں جاری مظالم سے بے خبر ہیں، ہر گز نہیں۔ ان میںاحساس زیاں جاتا رہا ہے، غالب زعماء کو اپنی بادشاہت کی فکر لاحق ہے، نسل نو نے اپنی مصروفیات ڈھونڈ لی ،ریاست کی بلا شرکت غیرے دولت نے انکے مزاج بدل دیئے ہیں۔

عرب کی سرزمین پر اچھے اداروں کے فقدان نے انھیں مغرب میں زیر تعلیم رہنے کا موقع فراہم کیا ہے،وہیں سے انکی آنکھیں خیرہ ہوئیں یہ مشرق اقبالؒ تونہ تھے ،جو مغرب کا دہراچہرہ دنیا کو دکھاتے، سونے کا چمچہ منہ میںرکھنے والا کیا جانے کہ غیرت، حمیت کیا ہوتی ہے۔ یہ عربی شہزادے اب شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں، خلافت کے بعد’’ نیشنل ازم‘‘ کا نعرہ انھیں ہی تو راس آیا ہے، ایک طرف برما ،کشمیر،افریقہ،

افغانستان کے بچے دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں دوسری طرف شاہی اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھا کراپنی خواہشات کی تکمیل کی جارہی ہے، دوبئی، سعودی عرب، قطر، برونائی ممالک سے وابستہ شاہی خاندانوں کے چشم وچراغ غریب امت کا مذاق اڑانے میں مصروف ہے،ان کے پاس گاڑیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، چالیس سے زائد چارٹر طیارے ذاتی ملکیت ہیں۔ بڑے بڑے محلات اس کے علاوہ ہیں،مہنگے اونٹ،باز،گھوڑے ان کے’’فلیٹ‘‘ میںشامل ہیں، انکے’’ لچھن‘‘ اب زدعام ہیں

۔نسل نو نے اپنے بڑوں کے نقش پر قدم بقدم چلنا سیکھا ہے، اس بحرانی کیفیت میں نجانے اب اس دولت کا کیا ہوگاجو سنہری مستقبل کے نام پرامریکی اور سوئس بینکوں میں شاہی خاندانوں نے محفوظ کی ہے، شاہی ریاستوں میں اب یہ فکر پروان چڑھ رہی جب’’ بادشاہ ‘‘کھا رہا تو ہم کیوں ہاتھ روک کر بیٹھ جائیں۔چشم فلک نے یہ بھی دیکھا جب مودی اہل کشمیر پر عرصہ حیات تنگ کر کے دوبئی پہنچے تو اسکا’’سواگت‘‘ ایک میڈل دے کر کیا گیا، نجانے مظلوم کشمیریوں پر کیا بیتی ہوگی؟ اس سے کس کو غرض ؟مشرق وسطیٰ میںاسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے بعض ورکرز غلامانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کو اچھوت بنا کے رکھ دیا گیا ہے یہی حکمرانوں کی ناانصافیوں کے خلاف صدا احتجاج بلند کرتے تھے،ان کی قیادتوں نے زندان میں رہ کر جان تو دے دی مگرمصلحت اختیار نہیں کی ہے۔

حضرت عمرؓ جب ایمان لائے،خلیفہ بنا دیئے گئے تو جواب دہی دامن گیر تھی،پیوند لگے کپڑے پہن کر اینٹ پر سو جاتے، بیت المقدس فتح کرنے جارہے تھے تو کبھی خود سوار ہوتے اور کبھی غلام اونٹ پر سواری کرتا، یہ اسی کا فیض تھا کہ22 لاکھ مربع میل پر حکومت کرکے بہترین حکمرانی کا اعزاز پایا۔دستیاب عدل وانصاف کی بنیاد پر آج کا کوئی متقی حکمران اس وباء کو روکنے کا اس طرح رسک لے سکتاہے؟، عرب سرزمیں سے مسلمانوں کو عروج قرآن نے دیا، قیصرو کسریٰ کی حکومتوں کو شکست فاش دے کر اسلامی حکومتیں قائم کیں جس میں غیر مسلم بھی خود کو محفوظ خیال کرتے تھے، آج تو اپنے ہی شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔اسلامی ممالک کی بہادری اتنی ہے کہ عرب کے قلب میں اہل فلسطین غلامانہ زندگی بسر کر رہے ہیں، قبلہ اول پر صہیونی قابض ہیں۔ارباب اختیار کو مسلکی، فروعی معاملات، عیاشیوں اورکاسہ لیسی ہی سے فرصت نہیں ہے۔معروف سنیئر سیاستدان چوہدری شجاعت نے اس لئے مسلم حکمرانوں کو حرمین شریفین حاضری دینے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا صائب مشورہ دیا ہے ،امت کے عروج کا راستہ قرآن کی راہنمائی سے ہو کر گذرتا ہے، ممکن توبہ سے آیندہ بھی امت ہر وباء سے محفوظ ہو جائے، افراد اور ملت کے گناہ قادر مطلق کی نظر میں ایک جیسے نہیں، بقول شاعر

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف


ای پیپر