’’کورونا … اور معصوم دعائیں …؟؟‘‘
04 May 2020 (14:04) 2020-05-04

پانچ سالہ معیظ اپنی فیملی کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بچھی صف پر بیٹھا تھا کہ افطاری سے پہلے سب گھر والے دعا مانگ رہے تھے … معیظ ایسے موقع پر با آواز بلند دعا مانگنے کا عادی ہے اور دعا میں دولت کا حصولِ امتحان میں (اگرچہ توجہ سے پڑھائی نہیں کی ہوتی) اعلیٰ کامیابی اور گیم میںکزنز کے بری طرح پٹ جانے کی دعا بھی شامل ہوتی ہے …

آج پانچ سالہ معیظ … افطاری سے پہلے دعا مانگی اور وہ دعا مانگتے ہوئے ایک تو ہشاش بشاش نہیں لگ رہا تھا دوسرا اُس نے دعا آہستہ سے مانگی یعنی بلند آواز میں پروردگار کے حضور التجاء نہیں کی … خاموشی سے کچھ مانگا اور انداز سے لگ رہا تھا کہ جو بھی مانگا ہے … جذبات اُس میں غالب ہیں …

پوچھا گیا … بیٹا … آج کیاخاموش دعا مانگی گئی … ہم سب کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی …؟

’’بس سمجھا کریں‘‘ … اُس نے آہستہ سے کہا اور بڑے سے گرم سموسے کی طرف ہاتھ بڑھا دیا … افطاری کے ابتدائی دنوں میں مجھ جیسا شخص ہی (جسے ڈاکٹروں نے سموسے پکوڑے سے منع کیا ہوتا ہے ) دبا کے پکوڑے سموسے کھا پی جاتا ہے اور جب کھا کھا کے تھک جاتا ہے … اُٹھا بھی نہیں جاتا … تو یاد آتا ہے کہ لالچ ابھی تک طبیعت میں موجود ہے…!

نماز سے فراغت کے بعد معیظ سے پوچھا گیا …

’’چھوٹے … کیا مانگا آج دعا میں …؟ ذرا تفصیل ہو جائے …‘‘

معیظ کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے … اور جذبات نے اُس کی زبان پر تالا لگا دیا تھا …

پھر بھی اُس نے ہمت کی اور آہستہ سے محبت سے بولا …

’’پاپا … آج جب میں افطار سے پہلے دعا کے حوالے سے سوچ رہا تھا کہ … آج اللہ پاک سے کیامانگوں …؟ کیا طلب کروں …؟ کیونکہ سنا ہے کہ افطاری سے پہلے پروردگار کے حضور جو بھی التجاء کی جائے، دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے … پہلے تو میں نے سوچا کہ بہت سی دولت مانگوں، گیم میں کھڑے مخالف گروپ کے لیے ناکامی مانگوں … عید کے لیے نئے کپڑے اور دو بڑے سائز کی بندوقیں ہی کیوں نہ مانگوں …؟

ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ یکدم میرا خیال ہمسائے میں موجود اُس گھر کی طرف چلا گیا … جہاں سے 1122 کی دو عدد ایمبولینس گذشتہ روز دو سگے بھائیوں کو سفید مخصوص لباس پہنا کر لے گئیں تھیں … جس کا مطلب تھا کہ وہ دونوں بھائی ہی کورونا کے مریض نکلے ہیں اور بعد میں پتہ چلا کہ بڑے بھائی کی بیوی نے خود ہی 1122 والوں کوفون کر کے بلایا تھا اور معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا تھا …؟

میں نے سوچا … آج کچھ نہیں مانگوں گا آج صرف اور صرف ان محلے میں موجود دو کورونا کے مریضوں کی صحت یابی کے لیے پروردگار سے دعا مانگوں گا کہ باقی سب دعائیں تو تیس دن مانگی جا سکیں گی آج کے لیے یہ دعا ہی ضروری تھی …!

اس وقت میں نے پاکستان میں مساجد کے بڑے اسپیکروں سے پاکستان اور پاکستان میں رہنے والوں کے لئے تو دعائیں سنی ہیں … اللہ والے پورے خشوع و خضوع سے کل جہان میں موجود کورونا جیسی وباء میں گرفتار لوگوں کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں پروردگار کے حضور التجائیں کر رہے ہیں … فروری سے کہا جا رہا ہے کہ گرمی پڑے گی تو شاید اس وباء میں کمی آ جائے … یا شاید اپریل کی بیس تک یہ وباء کچھ کم ہو جائے مگر مئی کا آغاز ہے اور مرض بڑھتا ہی جا رہا ہے … پانچویں مہینے کا آغاز ہو چکا ہے اور …؎

وہ دیکھو لائو لشکر لے کے آیا

کرونا مست ہے اپنی ہی دُھن میں

اُدھر کورونا مست ہے اپنی دُھن میں … ادھر ہمارے سیاستدان اپنی روش نہیں بدل رہے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں … سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام بھی اپنی ’’علمیت‘‘ کا ثبوت بڑی بے دردی سے پیش کر رہے ہیں … بڑے بڑے شکل و صورت سے سلجھے ہوئے دکھائی دینے والے گاڑیوں میں چھ چھ فیملی ممبرز بغیر ماسک بٹھائے سڑکوں پر بلا مقصد گھوم پھر رہے ہیں اور پولیس والے محض چالان کرنے پر اکتفاء کر رہے ہیں لیکن لگتا ہے عمران خان بھی اس قوم کی اصلاح کرنے سے قاصر ہے کیونکہ مجھے خود اپنی جان عزیز نہیں یا اپنی معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرنے کا احساس نہیں تو بے چارے حکمران کیا کریں … بلاشبہ غربت بڑھ رہی ہے اور ہم نے اپنی جیبوں کو زپ لگا رکھی ہے …؎

کیوں منہ چھپانا پڑ گیا انساں کو ہر جگہ

سب ہی گنہگار تھے مجرم نہ تھے سبھی

یہ شعر جب میں نے لکھا تو میں نے اپنے گریباں میں بھی جھانکا … سوائے شرمندگی کے کچھ دکھائی نہ دیا … سوائے پریشانی کے کچھ سجھائی نہ دیا …

میری یہ چھوٹی سی نظم ملاحظہ کریں شاید ہر انسان کے دل کی آواز بن جائے … مختصر سی نظم …؎

’’دفاع اپنا کریں گے‘‘

سوچا تو بہت ہے

بڑے مضبوط انساں

طاقت کے گھمنڈ پر

سر کے بل گرے تو

بے بس ہو کے بولے

قبر میں تو اتارو

گڑھے میں تو نہ پھینکو…!

وبائیں… روحی کنجاہی


ای پیپر