KNOW THY JUDGE
04 May 2019 2019-05-04

چیف جسٹس آف پاکستان عالی مرتبت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے سابق اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں… حکم نامے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ رہائی علاج کے لیے دی ٹیسٹوں پر ضائع کر دی، فیصلے سے قبل جو کہا وہ عدالتی آبزرویشن تھی ، ہر بات میں عدالت کی تضحیک کر کے سیاست کا رنگ دیا جاتا ہے… دوسری جانب نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو گردوں اور ڈپریشن کا بھی مسئلہ ہے، صحت ایسی نہیں کہ جیل جا سکیں، ڈاکٹر وں نے بیرون ملک علاج کا کہا ہے… ظاہر ہے ہمارے ذی وقار چیف جسٹس نے اپنے دو برادر ججوں کے ساتھ مل کر جو حکم نامہ صادر کیا ہے، اُس کی بنیاد مضبوط قانونی نکات پر ہو گی… سابق وزیراعظم اگر واقعی سخت ترین سزا کے مستحق ہیں تو انہیں بھگتنا ہو گی… چیف جسٹس کے ارشاد گرامی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی زیر سماعت مقدمے کے ملزم یا جیل میں بند مجرم کو ضمانت دے کر علاج کے لیے بیرون ملک بھیج دیا گیا تو اس سے ایک نئی نظیر قائم ہو جائے گی (جو ظاہر ہے پسندیدہ بات نہ ہو گی)… اس بارے میں بھی ہم عامی جو آئین و قانون کی باریکیوں کا ادراک نہیں رکھتے اور مختلف نوعیت کے مقدمات میں ان کے اطلاق اور نفاذ کے بارے میں اعلیٰ درجے کی قانونی سمجھ بوجھ سے عاری ہیں ، کچھ عرض نہیں کر سکتے لیکن دنیا میں بے شمار مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ عدالتوں نے غیر معمولی حالات میں فیصلے صادر کرتے وقت نئی نظیریں قائم کی ہیں جو اس سے قبل قانون یا فیصلوں کا حصہ نہیں بنی تھیں… دیکھا جائے تو قانون اور عدل کی دنیامیں ہر نظیر کا جب پہلی دفعہ اطلاق کیا جاتا ہے تو وہ نئی ہوتی ہے… اس لیے کسی مقدمے میں متعلقہ جج کی قانونی صوابدید کے مطابق نئی نظیر قائم کرنا چنداں اچنبھے کی بات نہیں ہوتی… الاّ یہ کہ وہ قانون کی روح اور اس کے الفاظ سے متضاد نہ ہوں… یہاں ہم عالی مرتبت چیف جسٹس کی خدمت میں ماضی قریب کی نظیر پیش کرنے کی جسارت کریں گے… جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ چل رہا تھا، تب انہوں نے بھی بیماری کا عذر پیش کیا لیکن مرض کا تعین بہرصورت نہیں ہو سکا تھا، اس کے باوجود ملک کے چوتھے فوجی حکمران کو اٹھا کر علاج کے نام پر دبئی پہنچا دیا گیا جہاں انہوں نے ہر طرح کی صحت مندانہ سرگرمی میں حصہ لیا… درجنوں سے زائد ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو انٹر ویو دیئے… اپنے اشغال پسندیدہ جاری رکھے اور ایک انٹرویو میں یہاں تک کہہ دیا کہ عدالتوں میں پیشیوں سے ان کی جان چھڑانے اور غداری کے مقدمے سے عملاً نجات دلانے کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی خاطر اس وقت کے آرمی چیف اور چیف جسٹس سپریم کورٹ دونوں کا کردار تھا جس کے لیے وہ ہر دو کے شکر گزار ہیں… ممکن ہے کہ محترم آصف سعید کھوسہ اسے قانونی نظیر کے طور پر تسلیم کرنا پسند نہ کریں تاہم یہ ہماری حالیہ تاریخ کے اہم تر واقعات میں سے ہے جسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا…

تاہم نواز شریف اگر اپنی ضمانت کی توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست کے بارے میں ہماری سب سے بڑی عدالت انصاف سے کوئی توقع وابستہ کیے ہوئے تھے تو اُنہیں اور اُن کے قانونی مشیروں کو ایک بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے تھی… عدالت جب فیصلہ صادر کرتی ہے یا اس کا جج اسے رقم کر کے باقاعدہ حکم کی شکل میں نفاذ کا اعلان کرتا ہے تو اس کے پس منظر میں اور فیصلے کے اندر نہ صرف متعلقہ قانون اور اس کی جزویات کی مکمل طور پر جانچ پرکھ کی جاتی ہے، اس کے اطلاقی پہلوؤں کا ماہرانہ جائزہ لیا جاتا ہے، اور اس کا بھی پوری طرح پاس و لحاظ کیا جا تا ہے کہ فیصلے کی شکل میں کسی بھی فریق کے ساتھ نا انصافی کا شائبہ تک پیدا نہ ہو کیونکہ جج ہر لحاظ سے غیر جانبدار ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ دنیا بھر کے ماہرین قانون اس رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ فیصلے کے آخری نتیجے تک پہنچنے میں ایک جج کے لیے جہاں متعلقہ قانون اس کا تشریحی لٹریچر اور اس کے اطلاقی پہلو رہنما کا کام دیتے ہیں، وہیں وہ اپنی قانونی سوچ اور صلاحیتوں کو روبہ عمل لاتے ہوئے زیر بحث مقدمے اور فریقین دونوں کے معروضی حالات کو بھی پیش نظر رکھتا ہے، اس

کے ساتھ یہ بھی حقیقت بھی کہ ایک اعلیٰ تر مقام پر فائز اور لمبا تجربہ رکھنے والا فاضل جج پہلی مرتبہ کسی خاص نوعیت کے فیصلے کا حکم صادر نہیں فرما رہا ہوتا، اس کی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی ملتے جلتے مقدمے ایسے ہوتے ہیں جو جوہری لحا ظ سے ایک نوعیت کے ہوتے ہیں… لہٰذا ایک اچھا وکیل اور اس کا مؤکل بڑے جج کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرتے وقت اس بات کو سامنے رکھتا ہے کہ اسی طرح کے کسی مقدمے میں اس محترم جج نے ماقبل کوئی فیصلہ صادر کیا تھا، اگر ایسا ہوا ہے تو وکیل اپنے مؤکل کے مؤقف کو مضبوط تر بنانے کی خاطراس نوعیت کے ایک یا زیادہ مقدمات کا بھرپور جائزہ لیتا ہے، اُنہیں سامنے رکھتا ہے یوں جج صاحب کی خاص قانونی اپروچ کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بھی فاضل جج اپنے ماضی کے فیصلوں کے فریم ورک سے بالکل باہر آ کر حکم صادر کرے… اسی لیے وکلاء اور ان کے مؤکلوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ Know thy Judgeیعنی اپنے جج کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کرو… اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نواز شریف اور اُن کے وکیل کو عالی مرتبت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بارگاہ میں اپنی درخواست پیش کرتے وقت ان کی عدالت میں پیش ہونے والے سابق مقدمات اور فیصلوں کو ضرور سامنے رکھنا چاہیے تھا… خود نواز شریف کے معاملے میں محترم المقام جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پہلے مقدمے کا فیصلہ نہیں سنایا، اس سے ماقبل موصوف پانامہ کے حوالے سے ایک مقدمے پر آبزرویشن دیتے ہوئے شریف خاندان پر سسلین مافیا کی پھبتی کس چکے ہیں… اس کے بعد آپ نے پانامہ کی جگہ اقامہ کا فیصلہ سناتے وقت، وقت کے وزیراعظم کو اپنے کاغذات نامزدگی میں ’یو اے ای‘ میں قائم شدہ بیٹے کی کمپنی سے اس تنخواہ کا ذکر نہ کرنے کی پاداش میں منصب کے لیے زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا، جو تنخواہ انہوں نے کبھی وصول نہ کی تھی اس کی خاطر ملک کے مروّجہ انکم ٹیکس قوانین کی بجائے بیرونی دنیا میں شائع شدہ ’’بلیک ڈکشنری‘‘ میں درج شدہ تعریف کا سہارہ لیا تھا… یہ یقینا اپنی نوعیت کا منفرد فیصلہ تھا لیکن ظاہر ہے عالی محترم جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کا سینئر جج ہونے کے ناتے چند ٹھوس قانونی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی اس کا اجراء کیا ہو گا، ایسا فیصلہ جس کے صادر ہوتے ہی پاکستان کے تین مرتبہ منتخب شدہ وزیراعظم کو گھر کی راہ لینا پڑی اور بعد ازاں زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے… یہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا جس نے پاکستان کے جسد سیاست اور نظم مملکت پر گہرے اثرات مرتب کیے اور آئندہ کئی دہائیوں تک اس عدیم المثال نظیر کا تذکرہ جاری رہے گا… اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ عالی مرتبت چیف جسٹس آف پاکستان کا قانونی دماغ نواز شریف کے تازہ ترین مقدمے میں کیا فیصلہ عطا فرمائے گا…

ہماری اعلیٰ عدالتیں مملکت پاکستان کے اندرآئین و قانون کی حرمت کی سب سے بڑی محافظ ہیں… اس ضمن میں انہوں نے ماضی میں خاص کردار ادا کیا ہے اور اہم فیصلے لکھے ہیں… اسی تناظر میں راقم کی موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے کہ ایک اہم عدالتی معاملے میں ملک اور خاص طور پر ہمارے قانونی حلقوں میں خاصا ابہام (کنفیوژن) پایا جاتا ہے… جسے دور کرنا از بس ضروری ہے… کیونکہ اس کی وجہ سے کئی آئینی پیچیدگیاں اور غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں… یہی وجہ ہے کہ کراچی، اسلام آباد اور دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والی بار ایسوسی ایشنز نے باقاعدہ قراردادیں منظور کر کے مطالبہ کیا ہے کہ ابہام جلد از جلد دور کیا جائے اور اس حوالے سے جو بھی اصل حقیقت ہو اسے بے نقاب کیا جائے تاکہ آئینی اور عدالتی معاملات کی انجام دہی میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے اور اگر اس وقت کوئی پایا جاتا ہے تو اسے دور کر دیاجائے… جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ گزشتہ برس 21جولائی کو راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی نے برملا کہا تھا کہ کچھ سکیورٹی ایجنسیاں خاص مقدمات کی سماعت کی خاطر اعلیٰ عدالتوں کے بنچوں کی تشکیل میں مشورہ دیتی ہیں، اُن پر عمل بھی کیا جاتا ہے… جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ مشاورت اعلیٰ تر سطح پر بھی ہوتی ہے… ظاہر ہے یہ نہایت درجہ سنجیدہ نوعیت کا الزام ہے… سپریم کورٹ کی جانب سے اسے فوری طور پر مسترد کر دیا گیا تھا… جسٹس شوکت صدیقی بھی اسی کی پاداش میں فارغ ہو گئے تھے مگر ان کا اب تک اصرار ہے کہ معاملے کی کما حقہٗ تحقیق و تفتیش نہیں کی گئی اور ان کے الزامات کا اعلیٰ عدالتی سطح پر جائزہ لے کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی نہیں ہوا… شوکت صدیقی بار بار یہ پیش کش بھی کر چکے ہیں کہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے کسی بھی اعلیٰ اور کھلے عدالتی فورم کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہیں… اگر اس کے بعد انہیں قصوروار سمجھا جائے یا اُن کی طرف سے عائد کردہ الزام غلط ثابت ہو جائیں تو وہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں… جیسا کہ آئین اور قانون کی معمولی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص واقف ہے کہ جسٹس صدیقی کے الزامات کی نوعیت غیر معمولی حد تک نازک اور ہماری اعلیٰ عدالتوں کے نظام میں زلزلہ پیدا کرنے والی ہے… اعلیٰ عدالتیں اس ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں… ان کے وقار، مرتبے اور حرمت کا پاس و لحاظ ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور موجودہ چیف جسٹس عالی محترم جسٹس آصف سعید کھوسہ سے ان کے طویل تر قانونی تجربے اور عدالتی کیریئر کی وجہ سے اس امر کی توقع رکھنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیق و تفتیش کے لیے فوری قدم اُٹھائیں گے… انہیں کسی اعلیٰ تر عدالتی فورم کے سامنے طلب کریں گے… ان سے ثبوت مانگیں گے… اگر وہ ایک کھلی عدالت کے اند راپنے الزامات کو ثابت نہ کر سکے تو جیسا کہ خود بار ہا کہہ چکے ہیں وہ ہر طرح کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں… لہٰذا میری درخواست ہے کہ جناب چیف جسٹس ملک کے اعلیٰ تر آئینی و عدالتی وقار کا بھرم قائم رکھتے ہوئے اس معاملے کو ہاتھ میں لیں گے اور جو ابہام ملک کے ہر آئینی و قانونی سوچ سمجھ رکھنے والے ذہن میں پایا جاتا ہے، اسے دور کرنے میں کوئی کسر روا نہ رکھیں گے…


ای پیپر