صیدِ زبوں
04 May 2019 2019-05-04

ایک طرف پکوڑا ٹیکس، چھلّی ٹیکس، ٹینڈا ٹماٹر ٹیکس کے مژدے سنائے گئے آئی ایم ایف کے وزارتِ خزانہ سنبھالنے کے پس منظر میں۔ دوسری طرف اخبار میں، راولپنڈی میں انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران ضبط کی گئی غریبوں کی ریڑھیوں کی ڈھیر لگی تصویر تھی۔ ان گنت روزگار سے محروم کئے گئے، بجھے چولہوں کی سسکتی تصویر! راولپنڈی شہر تجاوزات سے پاک ہو گیا! خوبصورت، کھلا، روشن ہو گیا۔ غریب پسماندہ ریڑھیوں پر ٹیکس کی ماری مرجھائی سبزیوں اور ان کے بیچنے والے میلے کچیلے لوگ، مدقوق چہرے اپنے آنسو اپنے چھپر نما گھروں میں میلی چادروں میں جذب کرتے جا چھپے۔ ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنے کے لئے غربت سے چھٹکارہ پانے کا یہی فارمولا ہمارے چمکتے دمکتے حکمرانوں کے پاس ہے۔ غریب کو تجاوزات میں شمار کر کے منظرِعام سے ہٹا دو۔ موبائل کمپنیوں نے بھی خاموشی سے کال اور میسجز مہنگے کر دیئے۔ اسی خاموشی سے اوگرا نے پٹرول مہنگا کرنے کی (14 روپے 37 پیسے اضافہ۔ 3 پیسے عوام کی بہبود کے لئے چھوڑ دیئے) سفارش کر دی تھی۔ مگر بلبلاتے عوام کو خبر مل گئی۔ چنانچہ عوام کی فوتیدگی اور رمضان کی بددعائوں کے خوف سے مؤخر کر دیا۔ (معطل نہیں) یعنی آگے چلیں گے دم لے کے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے ہم جیسے عوام اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید یہ قیمتوں کو ہمارے مفاد میں منضبط رکھنے والی اتھارٹی ہے۔ لیکن اب سمجھ آئی کہ ہر اتھارٹی کی طرح یہ بھی معاشی مالکوں کے مفاد ملحوظِ خاطر رکھنے کو بنائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کو 600 ارب کے نئے ٹیکسوں کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ ان محصولات (ٹیکسز) پر اسلام کیا کہتا ہے، اس کی تفصیلات تو علماء کے ذمے ہیں۔ ملکی قومی سطح پر یوں بھی اسلام سے ہمارا واسطہ رہ ہی کتنا گیا ہے۔ لبرل سیکولر حکومتیں۔ آخرت سے بے غم، بے بہرہ… ’اسی مرنا ناہیں‘ بہ اندازِ دگر کہنے والے۔ لیکن ہم نے تو جو ایک حدیث پڑھ رکھی ہے وہی اس کی شدت و حدّت سمجھانے کو کافی ہے۔ غامدیہ جب رجم کی سزا سے انتقال کر گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نمازِ جنازہ پڑھائی۔ جب کسی نے ذکر برائی سے کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اپنی زبان روکو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ظالمانہ محصول وصول کرنے والا بھی وہ توبہ کرتا تو بخش دیا جاتا۔‘ گویا یہ اتنا بھاری گناہ ہے کہ اتنی بڑی سزا منہ مانگے لینے والی جیسی توبہ درکار ہے۔ کرسیوں، مناصب کی چکاچوند قبر میں اترنے کا دن بھلا دیتی ہے۔ برسرِ زمین ہمارے امتحان کی خوفناکی یہ ہے کہ اداروں تنظیموں، حکومتوں کی صورت کام کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ تنہا تنہا مٹی تلے اتر کر پوری پوری آبادیوں بستیوں کے غموں، دکھوں، فاقوں، آنسوئوں، آہوں کا حساب چکانا پڑے گا۔ جس کے خوف نے سیدنا عمرؓ جیسے جری کو پہروں رلایا۔ عمر بن عبدالعزیزؒ جیسا فائیو سٹار شہزادہ منصبِ خلافت پر بیٹھ کر خوف سے سوکھ کر کانٹا بن گیا! ہم پوچھتے ہیں تُسی مرنا ناہیں؟ اپنے اوپر رحم کریں اعیانِ حکومت اور پسِ پردہ حکمران سبھی۔ ’ریاست مدینہ‘ کا نام لیتے سٹی گم ہو جائے اگر ریاستِ مدینہ کے پہلے حکمران (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی جلالتِ قدر، مقام ومنصب کا ادنیٰ سا ادراک بھی ہو۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ ’جہالت بھی خوش باشی اور مسرتِ کامل دیتی ہے‘۔ یعنی لاعلم اپنی کھال میں خوب مست رہتا ہے۔ جن غموں پر خلفائے راشدین کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ 22 لاکھ مربع میل پر حکمران روتے رہے اس کے مقابل ہمارے والوں کو دیکھ لیجئے۔ علمِ حقیقی سے، دین سے جاہل کس اطمینان سے رہ بس رہے ہیں عوام کی چٹنی بنا کر۔ اگر جانتے ہوتے تو روتے ہوئے جنگلوں میں نکل جاتے۔ ملک کو مہنگائی بے روزگاری میں دھکیل کر خود۔؟ جتنی گاڑیاں بیچنے کا بھاری ڈرامہ سجایا تھا۔ عوام کی توجہ بٹ گئی تو اب ان سے کہیں زیادہ نئی گاڑیاں (ہمارے ٹیکسوں سے) خرید لی ہیں! یہ ہیں کنٹینروں اور دھرنوں میں دکھائے خوابوں کی بھیانک تعبیریں! ہر طرف بدنظمی، انتشار کا دور دورہ ہے۔ خود PTI میں گروپ بندی تارے دکھا رہی ہے۔ ایسے میں کیا ہوا کرتا ہے؟ جو سوڈان میں ہوا۔ سوڈانی عسکری کونسل نے فرمایا: ’ملک میں سیاسی گھٹن کا ماحول پیدا ہونے کے بعد فوج کو اقتدار مجبوراً ہاتھ میں لینا پڑا۔ مسلح افواج کی مداخلت کا مقصد شہریوں کو درپیش مشکلات کم کرنا تھا۔‘ اگرچہ عقل و دانش کا تقاضا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ کرسیوں پر سویلین اشرف غنی رہنے چاہئیں فرنٹ مین کے طور پر! اب ان حالات میں جبکہ ہمارا نظامِ تعلیم تلپٹ ہے۔ کردارسازی کا مکو ٹھپا جا چکا ہے۔ تعلیمی اداروں کے نام پر ہر سطح پر لوٹ مار، علمیت کا فقدان بحران، نرے کھیل تماشے (اختلاط نے رہی سہی کسر نکال دی) بوٹی مافیا، جعلسازیاں، نتائج میں فیل ہونے والوں کے مایوس کن اعدادوشمار۔ اس سب کے باوجود اب حکومت کی بجائے آئی ایس پی آر کا اعلان کہ ’مدارس وزارتِ تعلیم کے ماتحت لائے جائیں گے۔ تاکہ تعلیم، تعلّم کا واحد بچا کھچا سہارا (دنگے فساد ہڑتالوں، شیشہ منشیات، دادِ عیش دیتی تقریبات اور عشق عاشقی کے بکھیڑوں سے پاک) جو سر جھکائے پاکیزہ تعلیم حاصل کر کے انسان پیدا کر رہا ہے، اس کا گلا بھی گھونٹ دیا جائے؟ ہر کچھ دن بعد گُھرکا جاتا ہے۔ مدارس کے فنڈنگ کے ذرائع کی جانچ پڑتال کی جائے‘۔ فنڈنگ۔؟ جنابِ والا۔ یہ کروڑوں بنانے والے پنج ستارہ تعلیمی اداروں کی چین (chain) نہیں ہے۔ جنہیں یو ایس ایڈ جیسے ادارے اپنے مفادات، ایجنڈوں کے تحت تجوریاں بھر نوازتے ہیں۔ یہ مسکین ادارے وہ ہیں جو عوام الناس (امراء نہیں) کی حق حلال کی محدود کمائیوں سے حصہ پاتے ہیں۔ صدقات، خیرات، زکوٰۃ۔ بکرے کی کھالوں سے کچھ دال دلیہ ہو جاتا تھا۔ دجالی ایجنڈوں نے مدارس کے لئے کھالوں کے سارے دروازے بند کر دیئے۔ محروم رکھنے کو کیا کیا جتن نہ کئے۔ اب بکرے کی کھال صرف شوکت خانم کی۔ (عوام کی کھال آئی ایم ایف کی!) مدارس میں مدرس کمترین تنخواہ پر۔ مسجد میں مولوی شرمناک حد تک کم ماہانہ پر گزارہ کرتا ہے۔ ڈرائیور چوکیدار سے بھی کم! مدارس کے بچے مفت پڑھنے ہیں کوئی ٹیوشن فیس ان کی جیب نہیں کاٹتی۔ ان کے اخراجات مدرسے کے ذمے ہوتے ہیں۔ خوراک، یونی فارم، رہائش۔ جب کھانے کو نہیں ہوتا تو یہ بچے، بڑے روزہ رکھ لیتے ہیں اپنے معلمِ اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر! (جب گردوپیش کی آبادیاں ضرورت سے زیادہ کھانے کی بنا پر بیمار پڑ رہی ہوتی ہیں!) یہ نرالا اقدام مدارس ختم کرنے کے مغربی ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے ہے۔ جبکہ عیسائی مدارس (مشنری سکول) پھل پھول رہے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی زوال، انسان سازی کے بحران کے تابوت کی آخری کیل۔ واحد مقام جہاں ایثار، قربانی، صبرتحمل، اخلاق، تہذیب، حفظِ مراتب، اردو زبان، قرآن، علوم دینیہ کی تعلیم و تربیت ہو رہی ہے۔ خودکار نظام جو قومی بجٹ پر ادنیٰ ترین بار کے بغیر، اعلیٰ ترین خدمت کسی دعوے ہنگامے کے بغیر سرانجام دے رہا ہے۔ مولانا سمیع الحقؒ کی شہادت، مفتی تقی عثمانی پر حملے کے بعد موجودہ اعلان، (انتشار اور چپقلش کے ماحول میں) ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اسلام کی ہر سطح پر بیخ کنی ہماری معاشی مجبوریوں کے پیکیج کا بھی حصہ ہے۔ ان کی ’ریاستِ مدینہ‘ میں جو رمضان طلوع ہونے کو ہے اس میں خبر یہ ہے کہ اداکارہ ماریہ واسطی (کھلے سینے اور سر کے ساتھ تصویر) رمضان پروگرام میں نجی چینل پر میزبانی فرمائیں گی۔ قرآن کا سوال ہے: ’کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی تھی؟‘ (التوبۃ۔65)

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

یہ نتائج ہیں الحاد اور بے دینی کی راہ پر گامزن تعلیمِ جدید کے! ہمارے نوجوان ہی نہیں قیادت پر بھی اقبال کی یہ آہ صدر آتی ہے! ساحرِ افرنگ کا صیدِ زبوں (مغربی آقائوں کا سستا شاہکار!)


ای پیپر