سندھ اور آسٹریلیا کا انٹرنیشنل کرکٹ میچ
04 May 2019 2019-05-04

سندھ کی کرکٹ ٹیم بنا کر آسٹریلیا سے اس کا انٹرنیشنل میچ کروانے کا مطالبہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے دبئی سپورٹس سٹی میں واقع ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے افسران فروکش کو اگر غیر معقول لگے تو انہیں یونائیٹڈ کنگڈم آف گریٹ بریٹن اینڈ ناردن آئرلینڈ نامی ملک کی ہئیت ترکیبی پربھی غور کرنا چائیے جس کی چار ذیلی ریاستیں ہیں جنہیں سواہلی زبان میں انگلینڈ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور ناردن آئر لینڈ نہیں کہتے۔اگر انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے کھلاڑی ایک ہی ملک کے سرخ پاسپورٹ پر کرکٹ ورلڈ کپ میں دو ٹیمز لے کر پہنچ سکتے ہیں تو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان سے پنجاب اور سندھ کی ٹیمز کو یا آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت سے آندھرا پردیش، آسام، بہار، کیرالہ، ہریانہ یا مہاراشٹر کی ٹیمز کو ورلڈ کپ میں بھیجنا کیوں خارج از بحث ہے،اس سوال کا جواب فلسفۂ مابعدالسیاسیات سے تعلق رکھتا ہے۔ 1909ء میں کرکٹ کی گورننگ باڈی کو امپیریل کرکٹ کانفرنس کے نام سے قائم کیا گیا جب برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔بعد میں ابن خلدون اور اوسولڈ سپینگلر کے فلسفۂ تاریخ کی لاج رکھنے کے لئے سورج نے تو اپنی خو بدل لی مگر جس طرح مہاجر قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) نے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کا روپ دھار لیا تھا اسی طرح 1965ء میں امپیریل کرکٹ کانفرنس (آئی سی سی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کا روپ دھار لیا مگر مرے ہوئے ہاتھی یعنی تاج برطانیہ کو سوا لاکھ کا ثابت کرنے اور انگلش سپرمیسی کو قانونی جواز مہیا کرنے کے لئے یونائیٹڈ کنگڈم کی جگہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو تسلیم کیا گیا اور خاندان کی ناراض خالہ سکاٹ لینڈ کو بھی علیحدہ ٹیم بنانے کی اجازت دے دی گئی۔چار کو دو سے

تقسیم کرنے کے فارمولے کے علاوہ آئی سی سی کی پٹاری میں اعشاریوں کو ضرب دینے کا فارمولہ بھی موجود ہے جس کا ثبوت ویسٹ انڈیز کی ٹیم ہے جو کیریبین کے مختلف ممالک مثلاً سینٹ کٹس اینڈ نیوائس،سینٹ لوشیا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو کا چوں چوں کا مربہ ہے مگر آج تک کسی مائی کے لال کو اس روایت پر چوں کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 1991ء تک سوویت یونین اور اس کی ذیلی ریاست یوکرائن سوویت سوشلسٹ ریپبلک کی دو الگ الگ نشستیں بھی چیخ چیخ کر اعلان کرتی تھیں کہ دنیا رچرڈ ڈاکنز کی جدوجہد الحاد کے باوجود مذہبی ہو چکی ہے اور اس مذہب کانام طاقت ہے۔یہ اسی مذہب کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہی اعجاز ہے کہ اگر ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ ایٹم بم برسائے تو وہ ٹھیک ہے مگر اگر ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش کرے تو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تنخواہ دار انسپکٹرز کی چھٹیاں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منسوخ ہو جاتی ہیں اور ان کا سامان باندھتے ہوئے ان کی بیویاں فارس کے حسن سے اپنے سہاگ کی سلامتی مانگتی ہیں۔ایٹمی کلب کی محدود رکنیت کے بعد ختم جوہریت کا اعلان ہو چکا ہے جن معصوم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ قانون کا بنیادی مقصد کمزوروں کا تحفظ ہے تو انہیں جان لینا چاہیے کہ قانون پرچون میں عدل اور تھوک میں جدل کا بیوپاری ہے جس کا بنیادی مقصد طاقت کو اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے۔اجداد کی پیروی کو طاقت سمجھنے والے پاکستانی پی آئی اے کی پروازوں کو بحفاظت منزل تک پہنچانے کے لئے معصوم بکروں کا خون بہاتے ہیں مگر اس کے باوجود سفر کے لئے قطر،ایمریٹس اور اتحاد ائیر ویز کی ٹکٹس خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ وہ ائیر لائنز ہیں جو اپنے مسافروں کو بحفاظت منزل تک پہنچانے کے لئے بکروں کا خون نہیں بہاتیں۔بکروں کے لہو میں شامل ہیموگلوبن کس طرح بوئنگ اور ائیر بس کے رولز رائس اور جنرل الیکٹرک کے انجینئر کی کارکردگی میں اضافہ کرتی ہے یہ جاننے کے لئے ان کمپنیز کے ماہرین نے پی آئی اے کے انجینئرز کو اپنی فیکٹریز میں مدعو کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔اتار کھنڈ میں دریائے گنگا پر میشا سکرانتی کے تہوار پر نہانے والے ہندو خود کو پوتر سمجھ کر یہ بھول جاتے ہیں کہ فیکٹریوں سے بہنے والا زہریلا آرسینک،لیڈ اور مرکری ابھی تک بھگوان نے فلٹر نہیں کیا جو جلدی امراض کے علاوہ کینسر اور رحم مادر میں حمل کی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہیے۔ 2015ء میں امریکہ میں بے گھر افراد کی تعداد 564708 تھی جو زیادہ تر فٹ پاتھ پہ وائلن بجا کر ڈالر ڈالر اکٹھا کر کے سانس سانس زندگی گزار رہے تھے جب کہ 320000 چرچز، 2106 مساجد اور 3727 Synagogues (یہودی عبادت گاہیں)ملک میں موجود تھیں لیکن خدا کی مخلوق کھلے آسمان تلے مذہبی رہنماؤں کو تکتی ہی رہ گئی اور رہ رہی ہے۔تقلید کو طاقت قرار دینے والے خیبر پختونخوا میں ایف ایس سی(پری میڈیکل) سیکنڈ ائیر کی بیالوجی کی کتاب میں نظریۂ ارتقا جیسی اٹل سچائی کو جھٹلاتے ہیں۔ ارباب بست وکشاد سے درخواست کر کے اگر احسان مانی کسی ایک سیاستدان کو کرکٹ ٹیم کا فیلڈنگ کوچ مقرر کر دیتے تو روپے کی طرح کیچ نہ چھوڑنے میں پاکستانی کھلاڑی طاق ہو کے ورلڈ کپ جیت جائیں مگر اگر تقلید طاقت نہیں ہے تو طاقت کیا ہے۔ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے سوال پوچھنے والے کی آنکھوں میں جھانکئے اور پھر اسے بتائیے کہ علم طاقت ہے۔دانش طاقت ہے۔سائنس طاقت ہے۔فلسفہ طاقت ہے۔ انسانی ہمدردی طاقت ہے اور ایسا کوئی بھی نظریہ جو دنیا کے سات ارب چالیس کروڑ انسانوں کو ایک دوسرے سے نفرت پر اکسائے، صرف اور صرف غلاظت ہے اور طاقت کو لازم سمجھنے والوں کے دن بھی تقلید کو طاقت سمجھنے والوں کے دنوں کی طرح گنے جا چکے ہیں۔چھوڑیں آپ سندھ اور آسٹریلیا کے مابین انٹرنیشنل کرکٹ میچ کے بارے میں سوچئے۔


ای پیپر