امریکہ ہم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ چھوڑ دے : افغان طالبان
04 May 2019 (17:41) 2019-05-04

کابل:افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندہ امن عمل زلمے خلیل زاد طالبان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیں اور امریکا سے کہیں کہ وہ طاقت کا استعمال چھوڑے، امریکا کی جانب سے طاقت کا استعمال ختم کرنے کا تصور اور کابل انتظامیہ کے مالی و جانی نقصانات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، ناکام حکمت عملی کو دہرانا نہیں چاہیے۔

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندہ امن عمل زلمے خلیل زاد طالبان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیں اور امریکا سے کہیں کہ وہ طاقت کا استعمال چھوڑے۔ زلمے خلیل زاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ مذاکرات کے افتتاحی سیشن میں، میں نے طالبان کو آگاہ کیا کہ افغان شہری جو ان کے بھائی اور بہنیں ہیں، وہ اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔یہ ہتھیار چھوڑنے، انتہا پسندی کو روکنے اور امن کے قیام کا وقت ہے۔جس پر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے زلمے خلیل زاد کے بیان کے ردعمل میں ٹوئٹس کیے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ میں کہا کہ زلمے خلیل زاد ہمارے ہتھیار ڈالنے کے تصور کو بھول جائیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے خوابوں کے بجائے انہیں امریکا کی جانب سے طاقت کا استعمال ختم کرنے کا تصور اور کابل انتظامیہ کے مالی و جانی نقصانات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا کو مختلف نتائج کی توقع کرتے ہوئے ناکام حکمت عملی کو دہرانا نہیں چاہیے۔


ای پیپر