پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی فوراً بند کی جائے : یورپی اراکین پارلیمنٹ
04 May 2019 (15:39) 2019-05-04

برسلز: یورپی پارلیمان کے 51 ارکان کی جانب سے لکھے گئے مشترکہ خط کے مطابق اگر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بند نہ کی گئی، تو پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ اراکین پارلیمنٹ نے اپنے خط کا آغاز پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کے واقعات پر شدید تشویش کے اظہار سے کیا ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق دو صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ سن 1949 میں قراداد کے مقاصد نے یہ طے کر دیا تھا کہ مستقبل کا پاکستانی آئین نظریاتی غلبہ کے تحت تشکیل پائے گا، لہذا آج پاکستانی قوانین جانبدار ہیں۔ خط میں احمدیوں کے خلاف پرتشدد واقعات اور مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے حوالہ سے امتیازی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے قوانین کی بدولت انتہا پسندوں کو بلا روک ٹوک مذہبی اقلیتوں پر حملے کرنے کی طاقت ملتی ہے۔ ان قوانین کے مسلسل غلط استعمال کے باوجود انہیں ختم کرنے کی کوشش نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست ان کے حق میں ہے۔

خط میں جبری تبدیلی مذہب کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موومنٹ فار سالڈیریٹی اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق ہر برس مسیحی اور ہندو مذاہب سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار لڑکیوں کو، جو اکثر نابالغ ہوتی ہیں، اغوا کیا جاتا ہے اور جبرا مسلمان کر کے ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح انتہائی طاقتور انتہا پسند گروہوں کی جانب سے اقلیتوں پر تشدد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات سالہا سال سے جاری ہیں۔

خط کے مطابق شہری و سیاسی حقوق کا اعلامیہ ان ستائیس عالمی دستاویزات میں شامل ہے، جن پر عملدرآمد یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدہ ((جی ایس پی پلس)کی شرائط میں شامل ہے۔ اگر شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقو امی اعلامیے کی خلاف ورزی، خصوصا مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ، اسی طرح جاری رہی تو یورپی کمشن سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو حاصل تجارتی مراعات اس وقت تک معطل کر دی جائیں جب تک پاکستان شہری و سیاسی حقوق کے اعلامیے پر حقیقی عملدرآمد کی یقین دہانی نہیں کراتا۔ لہذا ارکان پارلیمان اسلامی جمہوریہ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس آئینی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو منہدم کر دے جو مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کا باعث بن رہا ہے۔

مندرجہ بالا خط کے ساتھ ایک اور خبر شائع کی گئی ہے جس کے مطابق امریکی کمشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی 2019 کی رپورٹ میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کو متعلقہ پابندیوں سے بچا کا پروانہ جاری نہ کرے۔ رپورٹ میں ان چالیس افراد کا حوالہ دیا گیا ہے جنہیں توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔


ای پیپر