ڈیتھ سرٹیفکیٹ
04 May 2019 2019-05-04

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے دعوے کہ سندھ میں صحت کے شعبے میں بہت کام ہورہا ہے ، لوگوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ہمارے پاس تو کچھ اسپتال ایسے ہیں جس کی پاکستان میں تو کیا پورے ایشیا میںمثال نہیں ملتی۔ جمہوریت کے مسلسل تیسرے دور کو انجوائے کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے ان دعووں سے کئی بار مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید سندھ کے اسپتالوں نے اتنی معجزاتی تکنیک حاصل کرلی ہے کہ اب یہاںمردے بھی زندہ ہونے پر حیرانگی کااظہارنہیں کرتے۔کیونکہ یہی وجہ ہے کہ دور آمر کاہویا جمہوری اس قوم پر لاکھ آفتیں مسلط ہوں لیکن بھٹو ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

کراچی میں جعلی ٹیکوں سے معصوموں کی موت یا زیادتی کے بعد زہر کے انجیکشن دینے پر سندھ حکومت کی بے حسی تو کسی حد تک سمجھ آتی ہے کیونکہ 2018 کے الیکشن میں ووٹ نہ دینے کا بدلہ بھی تو لینا ہے۔لیکن یہ کیا تصویر کاایک رخ اور بھی ہے جو سامنے آرہا ہے۔ انتہائی خوفناک ، ہوش اڑا دینے والااور دل دہلا دینے والا رخ۔ وہ ہے رتو ڈیرو میں ایڈز کے مریضوں کا سامنے آنا۔ اب تک 115 مریضوں میں ایڈز یعنی ایچ آئی وی کی تصدیق ہوچکی ہے جس میں 30 سے زائد بچے شامل ہیں۔ اور بدقسمتی سے ان کی عمریں 4 ماہ سے 8 سال کے درمیان ہیں۔اگر میں بھول رہا ہوں تو آپ کو یاد ہے نا کہ لاڑکانہ رتوڈیرو وہ علاقہ ہے جو بلاول بھٹو زرداری کا حلقہ انتخاب ہے۔میں تھر میںبھوک و افلاس سے مرتے بچوں کی بات نہیں کررہا میں اس حلقہ انتخاب کی بات کررہا ہوں جس سے منتخب ہونے والا شخص آکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے۔ یعنی ایسے ملک سے تعلیم یافتہ جہاں انسا ن تو انسان جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔اور تو اور ان کے جانوروں کی خوراک اورپانی کے معیار کی بھی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔اسی پاکستان پیپلزپارٹی کے گڑھ یعنی لاڑکانہ میں اب تک سب سے زیادہ ایڈز کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔جوں جوں اسکریننگ کا عمل آگے بڑھتا جارہا ہے ایچ آئی وی پوزیٹیو کے کیسز مزید سامنے آتے جارہے ہیں۔ جہاں بنیادی ضروریات کے حوالے پہلے ہی الارمنگ صورتحال ہو اس علاقے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کابڑھنا سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ شرم کا مقام ہے۔کس کی غفلت ، کس کی کوتاہی ،کس کی مجرمانہ سوچ یا کوئی بدلہ ،لیکن یہ جان لیوا لاعلاج مرض رتو ڈیرو میں پھیل رہا ہے۔یوں کہیے موت کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

رتوڈیرو میں خوف کی فضا ہے، ایک غیر یقینی صورتحال ہے، ایک شک کا ماحول ہے۔ان والدین کے دل کے دھڑکنے کا اندازہ کون لگا پائے گا کہ اگر بچے کومعمولی سا بخار بھی ہو، ہلکی سی کھانسی ، یا جسم درد، یہ خیال ہی ان کے مارے ڈالنے کے لیے کافی ہے کہ اس شہر میں جہاں بھٹو زندہ رہتا ہے کہیںخدانخواستہ ان کا بچہ ایچ آئی وی کا شکار تو نہیں ہوگیا۔

ووٹ دے کر اپنے ہاتھ کاٹنے کے بعد ،اپنا منہ پیٹتے ہوئے ان والدین کے درد کا درمہ کرنے کے لیے بلاول بھٹو نظر نہیں آئے۔بہرحال عارضی کارروائی میں جے آئی ٹی کی تشکیل بھی کردی گئی ہے۔لیکن یاد رہے کہ یہ اسی سندھ کی بات ہورہی ہے جہاں جے آئی ٹی یا تو زیر اثر ہوتی ہے یا اس کی رپورٹ سامنے آتے ہوئے کبھی نہیں دیکھی گئی۔شراب کا شہد بننے کا معجزہ مجھے آج بھی یادہے۔

محکمہ صحت کے حکام اور ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ نے اپنی سرکاری رپورٹ میںڈاکٹر مظفر گھانگرو کو ایڈز پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا یا ہے۔ ڈاکٹرمظفرکو بھی ایڈز کا مریض کہا جارہا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ ڈاکٹرمبینہ طور پر انتقاماً اپنا مرض بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد میںمنتقل کرنے کا مرتکب ہے۔ اب تک محکموں کی ساری نااہلی ایک ڈاکٹر پرپھینکی جارہی ہے۔ اللہ اللہ خیر سلہ یعنی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے سامنے آنے سے پہلے ہی ڈاکٹر مجرم قرار پا چکا ہے۔ سرکار کے ڈاکٹر کو ایڈز ہونااور سرکار کو پتا نہ ہونا اور اس علاقے میں ہونا جہاں پہلے ہی ایڈز کے مریض ہیں کس کی ذمہ داری ہے یا کس کی نااہلی ہے۔ خیر ڈاکٹر مظفر گھانگرواس بات سے انکار کررہا ہے۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ محکمہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اپنی کوتاہی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے سارا ملبہ مجھ پر ڈال رہے ہیں۔ڈاکٹر گرفتار بھی ہوگیا ، جے آئی ٹی بھی بن گئی۔ یہ وہ اقدامات ہیں جواب شاید روٹین ہیں۔اس سارے سین میں ایک مِسنگ چل رہی ہے ، مسلسل غیرحاضری نظر آرہی ہے۔ اور وہ عذرا پیچوہو صاحبہ کی ہے۔ جی ہاں عزت مآب وزیر صحت سندھ۔ کراچی میں غلط انجیکشن لگنے سے معصوم بچیاں نشویٰ ، صبانورجان سے گئیں۔چند روز میں ڈاکٹرز کی غفلت سے معصوم زندگیاں ضائع ہونے کے کئی واقعات سامنے آئے لیکن عذرا پیچوہو کہیں نظر نہیں آئیں۔ مبینہ طورپر ایک اسپتال میں بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور زہر کا انجیکشن لگا کر قتل بھی کردیا گیا۔ مگر حوا کی بیٹی کے حوالے سے ایک خاتون منسٹرکا ایک لفظ سامنے نہیں آیا۔اوراب ایڈز کے معاملے میں سب بول رہے ہیں سوائے عذرا پیچوہوصاحبہ کے۔ عذرا پیچوہو پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی بہن اوربلاول بھٹو کی پھوپھو ہیں اور اہم ترین صحت کی وزارت ان کے پاس ہے۔ اور پھپھو کی وزارت کی خامیاں بھتیجے بلاول کو نظر نہیںآرہیں۔ آئے روز وزارت صحت کے حوالے سے ہی تمام واقعات۔ اپوزیشن ہو یامیڈیا سب ایک ہی سوال کررہے ہیں کہ عذرا پیچوہوکہاں ہیں؟

اسمبلی کے فلور پر جمعرات کے روز اپنی وزارت کی نااہلی کا سارا ملبہ سلاخوں کے پیچھے قید ایک ڈاکٹر پر ڈال کر وہ بری الذمہ ہوگئیں۔ہونا تویہ چاہیے تھا کہ ایک ایمرجنسی نافذ کردی جاتی تاکہ اس موت کے کھیل کوروکا جاتا ۔لیکن اتنے نقصان ہونے کے بعد اب جا کر کریک ڈاو¿ن کیے جارہے ہیں ،عطائیوں کو پکڑا جارہا ہے، جعلی لیبارٹریاں سیل کی جارہی ہیں۔

آناً فاناً میں 2400 افراد میں ایک ہی علاقے کے اندر موت سے پہلے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تقسیم ہوگئے لیکن اچھی خبر ہے بھٹو زندہ ہے۔


ای پیپر