تبادلے،کردار اورکارکردگی!
04 May 2019 2019-05-04

موجودہ حکومت اِسے شاید اپنی کامیابی کا ایک گر سمجھتی ہے مگر وقت ثابت کردے گا حکومت خدانخواستہ ناکام ہوئی اُس کا ایک سبب یہ بھی ہوگا روز تبادلوں کاایک طوفان ِ بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے، کسی افسر کو کِسی ایک جگہ یا کِسی ایک عہدے پر کام کرنے کاموقع ہی نہیں دیاجاتا جِس کی وجہ سے کئی طرح کے مسائل جنم لے رہے ہیں، خصوصاً بیوروکریسی میں موجود سرکار کے خلاف نفرت بڑھتی جارہی ہے جس کا انجام ظاہر ہے کئی صورتوں میں اچھا نہیں ہوگا، ایک افسر کِسی ایک عہدے پر تعینات ہوتا ہے، ابھی اُُسے اُس عہدے یا محکمے کی خوبیوں خامیوں کو جاننے یا سمجھنے کا موقع ہی نہیں مِلتا کہ اُس کا تبادلہ کسی اور محکمے میں یا شعبے میں کردیا جاتا ہے، ....حکمران روزانہ تھوک کے حساب سے تبادلے کرکے شاید بیوروکریسی پر اپنا رعب جمانا چاہتے ہیں، وہ شاید اِس ”حقیقت“ بلکہ اٹل حقیقت کو سمجھنے سے عاری ہیں اِس ملک میں اصل حکمرانی ”بیوروکریسی“ ہی کی ہے ، لہٰذا وہ اپنے ساتھ ہونی والی ” اجتماعی زیادتی “ کو برداشت کرتی ہے نہ فراموش کرتی ہے، موجودہ حکومت اب تک کسی بھی شعبے یا معاملے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکی، یا مختلف معاملات میں اُسے مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو میرے نزدیک اِس کی ایک بڑی وجہ ، جس کا اعتراف خود ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی بارہا کرچکے ہیں یہ ہے کہ بیوروکریسی اُن کے ساتھ تعاون نہیں کررہی، اِس کی شاید وہ وجوہات ہیں ایک وجہ تویہ ہے کہ بیوروکریسی شریف برادران کے ساتھ اُن سے جھڑکیاں کھانے کے باوجود اِس لیے بڑی Comfortableتھی کہ شریف برادران خود اچھی یا بری پالیسی بناتے تھے اور اِس حوالے سے بیوروکریسی کی راہ میں بھی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں بنتے تھے، خان صاحب راتوں رات انقلاب برپا کرنے کے جنون میں مبتلا تھے، حالانکہ سیاسی طورپر جتنا ہلکا مینڈیٹ اُنہیں مِلا اُس کے پیش نظر اُن کا یہ جنون تھوڑا ماند پڑجانا چاہیے تھا، مگر وزیراعظم بنتے ہی وہ ہر معاملے میں ہواکے گھوڑے پر سوار ہوگئے ، بڑے بڑے نعرے لگانے اور دعوے کرنے کی عادت اُنہیں وزیراعظم بننے سے پہلے کی تھی، وزیراعظم بننے کے بعد اِس عادت میں مزید شدت آگئی ، ”شریف بیوروکریسی “ کو قابو کرنے کے لیے خصوصی مہارت درکار تھی، بیوروکریسی کی فطرت تو ظاہر ہے تبدیل نہیں کی جاسکتی ، اُن کی عادتیں بلکہ سالہاسال سے بگڑی ہوئی عادتیں تبدیل کرنے کے لیے تھوڑا وقت اور خصوصی حکمت عملی درکار تھی، خان صاحب نے یا اُن کی حکومت نے آتے ہی یہ تاثر دیا وہ بیوروکریسی کو ”نتھ“ ڈال کر رکھ دیں گے، اُن سے بڑے بڑے بنگلے بڑی بڑی گاڑیاں چھین لیں گے، اُن کے بچوں کو بڑے بڑے فائیو اور سیون سٹارسکولوں سے اُٹھا کر سرکاری سکولوں میں داخل کروادیں گے، اور سب سے بڑھ کر یہ اُن کے مال بنانے کے سارے راستے بند کردیں گے، حکمرانوں کے اِن سارے ارادوں نے بیوروکریسی کو ایک خوف میں مبتلا کردیا ، جس کے ردعمل میں حکمرانوں کو ہرمعاملے میں ”ٹف ٹائم“ دینے کی ٹھان لی گئی، یہ سلسلہ بڑے زور شور سے جاری وساری ہے، جوابی وار کے طورپر حکمرانوں کو سوائے اِس کے اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ روزانہ تھوک کے حساب سے افسروں کے تبادلے کردیتے ہیں،بیوروکریسی سے کام لینے کے بجائے بدلے لینے کی حکمرانی حکمتِ عملی سے نقصان بڑھتا جارہا ہے۔ روزانہ تھوک کے حساب سے تبادلے کرنے کی پالیسی پر نظرثانی نہ ہوئی یہ نقصان اِس حدتک بڑھ جائے گا پھر اِس کا ازالہ ممکن نہیں ہوسکے گا، .... میرے خیال میں روزانہ تھوک کے حساب سے کیے جانے والے تبادلوں کی پالیسی تبدیل کرکے بیوروکریسی کو تھوڑا ریلیکس کیا جاسکتا ہے، .... ویسے پچھلے کچھ دنوں سے مجھے یہ احساس ہونے لگا ہے بیوروکریسی اب تھوڑا ریلیکس ہونے بھی لگی ہے، کیونکہ مال بنانے کے راستے دوبارہ کھلنے شروع ہوگئے ہیں، بیوروکریسی کو اِس حوالے سے ”تازہ دم‘، کرنے میں پی ٹی آئی کے کچھ ارکان اسمبلی اور وزراءکا کردار بڑا اہم ہے، بس یہ ہے کہ جس طرح نیا پھل یا سبزی مارکیٹ میں آتی ہے تو اُس کا ریٹ ذرا زیادہ ہوتا ہے، اِسی طرح نئی حکومت آنے کے بعد مختلف کاموں کا ریٹ فی الحال ذرا زیادہ ہے، ....

بیوروکریسی سے بڑے بڑے سرکاری بنگلے اور گاڑیاں چھین لینے کے دعوے بھی ہوا میں معلق ہوکر رہ گئے ہیں ، شریف برادران کے خصوصی کُرب میں مبتلا، یعنی اُن کے خصوصی وفادار افسروں کو پھر سے نوازا اور شہبازا جانے لگا ہے، پچھلے دِنوں اُن کے اشاروں پر ناچتے ہوئے ایک خصوصی وفادار سی سی پی او لاہور بی اے ناصر عُرف مردم بیزار ناصر کا تبادلہ ہوتے ہوتے رہ گیا، حالانکہ نیب اگر لاہور میں حمزے شہباز کو گرفتار نہیں کرسکی، پولیس نے اِس ضمن میں نیب سے تعاون نہیں کیا، اور حمزے کو ڈرامہ کرنے کا پورا موقع اور حفاظتی ضمانت بھی مل گئی تو مصدقہ اطلاعات کے مطابق اِس کا اصل ذمہ دار اُس کا خاص چمچہ سی سی پی او لاہور بی اے ناصر عرف مردم بیزار ناصر ہی تھا، اُسے ہٹانے کے بجائے اُس کے دو ماتحت افسروں (ڈی آئی جی آپریشن اور ایس پی ماڈل ٹاﺅن) کو ہٹا دیا گیا، ذرا سی شرم وحیا کام کے بجائے نام کے اس بڑے افسرمیں ہوتی اپنے ماتحتوں کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے خود قربان ہوجاتا، ممکن ہے اُسے بچانے کے لیے سابق ” فنکارِ اعلیٰ پنجاب“ نے موجود ہ وزیراعلیٰ پنجاب سے ذاتی طورپر سفارش کی ہو، مگر جلد یا بدیر وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب خصوصاً آئی جی پنجاب کو ضرور یہ احساس ہوگا بطور سی سی پی او لاہور اُس کا قائم رہنا لاہور کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔ شخصیت کے اعتبار سے کچھ پولیس افسروں کو زیادہ سے زیادہ کانسٹیبل ہونا چاہیے مگر اللہ اُنہیں اُن کی اوقات سے بہت بڑھ کر نواز دیتا ہے تو بجائے اِس کے وہ اللہ کے شکر گزار ہوں جس کا سب سے اعلیٰ طریقہ دُکھی انسانیت کی خدمت ہے اُلٹا وہ خلقِ خدا کے لیے اذیت کا باعث بن جاتے ہیں ۔اخباری اطلاعات کے مطابق آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے اس مردم بیزار سی سی پی او لاہور کو اپنی کارکردگی اور رویہ بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا ہے۔ میرے خیال میں یہ وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے کیونکہ فطرت ایک ماہ میں کیا ایک صدی میں بھی تبدیل نہیں ہوتی۔ ایسے ہی نام نہاد ایماندار افسران اپنی حرکتوں سے بار باریہ ثابت کررہے ہیں کہ اہلیت، ایمانداری سے بہت آگے کی چیز ہے، وہ شخص تو ایماندار بھی نہیں ہوسکتا جو کینسر کے مریضوں حتیٰ کہ اپنے مرحوم ماتحتوں کے بچوں کو بھی اذیت دینے سے گریز نہ کرے۔ اِس حوالے سے بی اے ناصر عرف ”مردم بیزار ناصر“ کے دوواقعات اپنے اگلے کِسی کالم میں عرض کروں گا !!


ای پیپر