Photo Credit Naibaat Mag

ہیش ٹیگ ۔۔می ٹو ۔۔ہالی وُڈ سے لالی وُڈ تک چشم کُشا انکشافات
04 مئی 2018 (23:40)

2017ءمیں سماجی کارکن ترانہ برکے نے مغرب میںہراسمنٹ پھیلتے ناسورکے خلاف تبدیلی کا نعرہ لگایا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر” می ٹو “ MeToo کے نام سے ٹرینڈ کا آغازکیاگیا جس کا مقصد یہ تھاکہ ورکنگ ویمن کے بڑھتے ہوئے استحصال کا سدباب کیا جا سکے۔ بعدازاں اس مہم کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیااوردنیا کی سب سے بڑی فلم انڈ سٹری ہالی ُوڈ میں” می ٹو “کے نام سے شروع کی گئی خصوصی مہم ” می ٹو “کا حصہ بنتی چلی گئی، جس کا مقصد اداکاراو¿ں کی جانب سے یہ بتانا تھاکہ دنیا بھرمیں مہذب اوراخلاقیات کا ٹھیکیدار مغرب کس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہوچکا ہے ؟ یہ وہی مغرب ہے جودنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا پرچارکرتے نہیں تھکتا تھا اور ہمیشہ سے یہ نعرہ بلند کرنا آیا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میںخواتین کو اُن کے حقوق نہیں دیئے جاتے بلکہ وہاں ان کا استحصال بھی کیا جاتا ہے۔ ہالی وُڈ اداکاراﺅں کی ” می ٹو “کے نام سے شروع کی گئی اس مہم نے مغرب کی نام نہاد اخلاقیات سے پردہ ہٹا دیا بلکہ اس مہم سے بھی قبل نومبر 2016ءکے امریکی انتخابات میں امریکی صدارتی اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے سنگین الزامات عائدکیے تھے ۔ بعدازاںیہ مہم جنوبی ایشیاءکی سب سے بڑی فلم انڈسٹری بالی وُڈ میں پہنچی،جہاں بالی وُڈ حسیناﺅں نے ہدایتکاروں، پروڈیوسرز اور ساتھی ادکارﺅں کی جانب سے جنسی ہراسگی کے متعلق چشم کشا انکشافات کیے۔ اوراب یہ مہم پاکستان میں بھی پہنچ چکی ہے اور ان دنوں پاکستان میں ہرجانب
می ٹو “کے چرچے سنائی دے رہے ہیں اور ہر جگہ گلوکارہ میشا شفیع اور معروف گلوکار علی ظفرکا معاملہ ڈسکس کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل گلوکارہ میشا شفیع نے معروف گلوکار علی ظفر پر ہراساں کرنے کے الزامات لگاکر دھماکہ کردیا تھا۔ جس سے بہت سی دیگر اداکارائیں بھی اس ایشو پر بات کر رہی ہیں ،اس طرح ملک میں ” می ٹو “کے حوالے سے ہلچل کی صورت حال مشاہدہ کی جا رہی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے” می ٹو “مہم کے حوالے سے ہالی وُڈ ، بالی وُڈ اور لالی وُڈ فلم انڈسٹری کے بارے میں تفصیلات بیان کریں گے۔


می ٹومہم کا آغاز اور سوشل میڈیا
2017 ءمیں شروع ہونے والی مہم می ٹوکا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا بلکہ یہ دنیا بھر میں پھیلتا ہی چلاجا رہا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت عروج پر پہنچاجب ہالی وُڈ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف تقریباً 18 اداکاراو¿ں اورخواتین نے ہراسگی کرنے کا الزام عائدکیا تھا جب کہ 5 اداکاراو¿ں نے ان پرعصمت دری کے الزامات بھی لگائے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر” می ٹو “ ( MeToo) نامی مہم بڑھتی چلی گئی۔ ہاروی وائنسٹن کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے سنگین الزامات لگانے والی اداکاراو¿ں، ماڈلز، گلوکاراو¿ں، فیشن ڈیزائنرز اور صحافیوں میں انجلینا جولی، ایشلے جڈ، جیسیکا بارتھ، کیتھرین کنڈیل، گوینتھ پالٹرو، ہیدر گراہم، روسانا آرکوئٹے، امبرا بٹیلانا، زوئے بروک، ایما دی کانس، کارا دیلوگنے، لوشیا ایونز، رومولاگرائے، ایلزبتھ ویسٹوڈ، جوڈتھ گودریچے، ڈان ڈیننگ، جیسیکا ہائنز، روز میکگوان، ٹومی این رابرٹس، لیا سینڈوئکس، لورین سوین اور مرا سرینو وغیرہ شامل ہیں۔ ان اداکاراو¿ں نے تمام خواتین سے درخواست کی کہ ”اگر آپ کو بھی کبھی کسی نے جنسی طور پر ہراساں کیا یا آپ تشدد کا نشانہ بنیں تو اپنے اسٹیٹس میں ” می ٹو “ لکھیں۔ اس سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا مسئلہ ہے؟ ۔اس طرح” می ٹو “ (MeToo) یعنی ”میں بھی“کے عنوان سے ایک ٹرینڈکا آغازکیاگیا۔


اب ہم آپ کو اس مہم کی وجہ بننے والے پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے بارے میں بتاتے چلیں،جنہوں نے خواتین کی ناک میں دم کیے رکھا۔ موصوف نے 1981 ءسے فلم پروڈیوسرکی حیثیت سے کیریئرکا آغازکیا، بطور پروڈیوسر ان کی پہلی فلم ’دی برننگ‘ تھی، جب کہ 2017ء میںان کی ریلیز ہونے والی آخری فلم ’وائنڈ رور‘تھی۔2018ءمیں ان کی 2 فلمیں ریلیز ہونی ہیں۔ 65 سالہ ہاروی وائنسٹن نے بطور پروڈیوسر اورایگزیکٹو پروڈوسر 160 سے زائد فلمیں بنائیںجب کہ وہ کچھ فلموں کے شریک ہدایت کار بھی رہے۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 37 برس ہالی وُڈ فلم انڈسٹری کو دے اس لئے اس حوالے سے ہاروی وائنسٹن پر الزام لگانے والی مزید خواتین بھی سامنے آسکتی ہیں۔ بااثر فلم پروڈیوسر پر مختلف اداکاراو¿ں اورگلوکاراو¿ں کو ہراساں کرنے کے الزامات کی پہلی تحقیقاتی خبر امریکی اخبار”نیویارک ٹائمز“میں اکتوبر2017ءکو شائع ہوئی تھی۔ خواتین صحافیوں جوڈی کینٹور اور میگن ٹوہے کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں مختلف اداکاراو¿ں اور گلوکاراو¿ں کی جانب سے موصول ہونے والے خطوط اور میموزکا حوالہ دیاگیا تھا جس میں انہوں نے ہاروی وائنسٹن کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی نشاندہی کی۔ اداکاراو¿ں اورگلوکاراو¿ں نے اپنے خطوط اور میموز میں ہاروی وائنسٹن پر بدتمیزی، ہراسگی اور نازیبا حرکات کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔


ہاروی وائنسٹن کا فلموں میں چانس دینے کا جھانسہ
مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس معلوم ہوا ہے کہ ہاروی وائنسٹن نے فلم پروڈیوسر ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی اداکاراو¿ں کو پہلاچانس دینے کے بدلے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ بعض اداکاراو¿ں نے ہاروی وائنسٹن کی جانب سے زبردستی کرنے کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ معروف اداکارہ انجلینا جولی نے بھی ہاروی وائنسٹن پر نازیبا رویہ اپنانے کے الزامات لگائے اور بتایا کہ انہوں نے ان کے ساتھ صرف ایک فلم میں اس وقت کام کیا جب وہ جوان تھیں۔ تاہم ہاروی وائنسٹن کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات اور ان کا رویہ بُرا تھا، جس وجہ سے انہوں نے ان کے ساتھ مزیدکام نہیں کیا۔ایشلے جڈ نے بتایا کہ قریباً 2 دہائیاں قبل انہوں نے ہاروی وائنسٹن سے ایک ہوٹل میں اس اُمید کے ساتھ ملاقات کی اورناشتہ کیا کہ وہ ملاقات ان کے کیریئرکے لئے اچھی ثابت ہوگی۔ تاہم انہیں اس ملاقات میں ہراسگی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ نیویارک ٹائمزکی رپورٹ میں بتایاگیا کہ 2014ءمیں ہاروی وائنسٹن نے ایک ہوٹل میں عارضی ملازمت کے لیے آنے والی ایک خاتون کو بھی اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دے کر ہراساں کیا۔ اس رپورٹ میں لارین اوکارین نامی 28 سالہ خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ65 سالہ ہاروی وائنسٹن نے ان کے کیریئرکو بہتر بنانے کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر انہیںہراساں کیا۔ اداکارہ گوینتھ پالٹرو نے بھی ہاروی وائنسٹن پر ہراسگی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اپنے کیریئرکے ابتدائی دنوں میں ہراساں کیاگیا تھا، جس کی شکایت انہوں نے اپنے اس وقت کے بوائے فرینڈ اداکار براڈ پٹ سے بھی کی۔ ہاروی وائنسٹن پر الزام لگانے والی اداکاراو¿ں کے خطوط، میموزاورانٹرویوز سے پتہ چلتا ہے کہ 65 سالہ پروڈیوسر نے اداکارہ بننے کی خواہش مند نئی اداکاراو¿ں کو فلموں میں چانس دینے کے بہانے نہ صرف ہراساں کیا بلکہ متعدد خواتین کے ساتھ زبردستی بھی کی۔ ہاروی وائنسٹن کے خلاف متعدد خواتین کی جانب سے ہراسگی کے الزامات سامنے آنے کے بعد انہیں ان کی ہی بنائی ہوئی فلم کمپنی مرامکس نے نوکری سے برطرف کردیا۔ مرامکس کو 1979ءمیں بنایا گیا تھا اورہاروی وائنسٹن اس کے شریک بانی تھے، انہوں نے 2005ءمیں اپنے بھائیوں کے ساتھ ’دی وائنسٹن کمپنی‘ بھی بنائی۔ ہاروی وائنسٹن ڈزنی فلم کمپنی کے ساتھ بھی پروڈیوسرکی حیثیت سے منسلک رہے، تاہم ڈزنی نے بھی انہیں فارغ کردیا ہے۔ علاوہ ازیں ان کی اہلیہ 41 سالہ فیشن ڈیزائنرجورجینا نے بھی انہیں چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ ہاروی وائنسٹن کی لیگل ٹیم میں شامل خاتون قانون دان لیزا بلوم بھی ان کی ٹیم سے علیحدہ ہوگئیں۔ سابق امریکی صدر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما براک اوباما ،ان کی اہلیہ اور سابق وزیر خارجہ اور صدارتی اُمیدوار ہلیری کلنٹن نے بھی ہاروی وائنسٹن کے نازیبا رویے کی مذمت کی تھی۔ واضح رہے کہ ہاروی وائنسٹن ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے ڈونرز میں سے ایک ہیں اور انہوں نے نہ صرف براک اوباماکی صدارتی مہم کے دوران فنڈز دیے بلکہ گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں بھی انہوں نے ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے لیے فنڈز دیے۔ فلمی دنیا کے سب سے اعلیٰ ایوارڈ ’آسکر‘ دینے والے ادارے نے ہالی وُڈکی متعدد اداکاراو¿ں کو جنسی طور پر ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنانے والے پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کی رکنیت معطل کردی۔ ”دی اکیڈمی ایوارڈ آف موشن پکچرزآرٹس اینڈ سائنس‘ نے ان کی رکنیت سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں بورڈ آف گورنرز نے ہاروی وائنسٹن کے خلاف 2 تہائی اکثریت سے ووٹ دیے، جس کے بعد اکیڈمی ایوارڈز نے ان کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ اکیڈمی ایوارڈکی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا کہ ہم صرف خودکو اس شخص سے الگ نہیں کر رہے جو اپنے ساتھیوں کی عزت نہیں کرتا بلکہ ہم اس فیصلے کے ذریعے یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ ہماری انڈسٹری میں ہراسگی جیسے فعل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں واضح کیاگیاتھا کہ اکیڈمی کے 54 اراکین میں سے ہاروی وائنسٹن کے خلاف مطلوبہ ممبران یعنی 2 تہائی نے فیصلہ سنایا۔ خیال رہے کہ ہاروی وائنسٹن کی آج تک اکیڈمی ایوارڈ میں آسکر ایوارڈ کے لیے 300 فلمیں نامزد ہوئیں، جن میں سے 81 فلموں نے ایوارڈ وصول بھی کیے۔ ہاروی وائنسٹن کی متعدد فلمیں ماضی میں بافٹا ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ لیکن اب خواتین کے ساتھ زیادتیوں کا معاملہ شدت اختیارکرنے پر ان کا کیرئیر ختم ہوکر رہ گیا ہے۔


می ٹو ‘ کے بانی سال کی با اثر شخصیات میں شامل
معروف امریکی جریدے’ ’ ٹائمز میگزین‘ ‘نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’ می ٹو (MeToo) کے عنوان سے ٹرینڈ کا آغازکرنے والے افرادکو سال کے با اثر لوگوں میں شامل کیا۔ جیسا کہ ہم اُپر بیان کت چکے ہیں کہ مذکورہ ٹرینڈکو ہالی وُڈ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے نا زیبا رویہ کی وجہ سے تقویت ملی۔اسی حوالے سے امریکی اداکارہ ایلسا میلانو نے ٹوئٹر پر ’ می ٹو ‘ (MeToo) کے عنوان سے ایک ٹرینڈکا آغازکیا۔ جریدے کے ایڈیٹر ان چیف نے امریکی چینل سے گفتگو میں بتایاکہ یہ مہم بہت تیزی کے ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پھیلی جس سے ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ ان کاکہنا تھا کہ معاشرے کی سینکڑوں خواتین نے ٹرینڈکے ذریعے ہمت کرتے ہوئے خود کو ہراساں کیے جانے کے واقعات بیان کئے جب کہ اس ٹرینڈ میں کچھ مردوں نے بھی اپنے خلاف ہونے والے ایسے واقعات کو بیان کیا۔ اس ٹرینڈ کے بعد امریکا میں سیاست، میڈیا اور فلم انڈسٹری کی مشہور شخصیات کے خلاف الزامات سامنے آئے، جس کے بعد کئی افراد کو ان کے اداروں سے فارغ کرکے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کیاگیا۔ اس حوالے سے ایک سماجی کارکن ترانہ برکے کا کہنا تھاکہ میں تصور نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی چیزدنیاکو ہی تبدیل کر سکتی ہے، میں تو صرف اپنی برادری کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا ’ ابھی تو یہ آغاز ہے، یہ ایک تحریک ہے اور اب ہی تو حقیقی کام کا آغاز ہوا ہے‘۔


کیریئر ختم ہونے کا ڈر،بالی وُڈ سٹارز خاموش
سوشل میڈیا پر جاری ’ می ٹو MeToo‘ کی تحریک بالی وڈ پہنچی تو وہاں اس کا سب سے پہلا نشانہ ماضی کے معروف اداکار جیتندر بنے ہیں۔ بالی وڈ اداکار جیتندر پر 47 سال بعد ان کی کزن نے زیادتی کا الزام عائد کردیا۔ جیتندر کی کزن نے الزام عائدکرتے ہوئے مقدمہ بھی درج کرایا ۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ جیتندر نے جب انہیں ہوس کا نشانہ بنایا تو اس وقت ان کی عمر 18 سال اور جتندر کی عمر 28 سال تھی۔ جیتندرکی کزن کے مطابق انہوں نے والدین کے انتقال کے بعد مقدمہ کرانے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ ان کے والدین کے لیے یہ سب صدمے کا باعث ہوتا۔ اداکار پر الزام لگانے والی کزن کا کہنا ہے کہ ’ می ٹو ‘ تحریک کی وجہ سے اتنے سالوں بعد ان میں یہ سب کہنے کی ہمت آئی ہے۔ یاد رہے کہ جیتندر نامور اداکار ہیں جنہوں نے کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں اور یہ نامور پروڈیوسر ایکتاکپور اور اداکار تشارکپور کے والد ہیں۔


می ٹو “ مہم سے معلوم ہواکہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات صرف ہالی وُڈ تک ہی محدود نہیں بلکہ بالی وُڈ میں بھی بہت سی خواتین اس کا نشانہ بن چکی ہیں۔اس حوالے سے معروف بالی ووڈ اداکارہ ودیا بالن کہہ چکی ہیں کہ جن لوگوں کو جنسی ہراساں کیا جاتا ہے صرف وہی جانتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں کیسا محسوس ہوتا ہے ؟مجھے خوشی ہے کہ خواتین اس کے خلاف آواز اُٹھا رہی ہیں کیونکہ اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں۔ ہمیں اِن کا نام لینا چاہیے اور اِنہیں شرمندہ کرنا چاہیے جو دوسروں کو ہراساں کررہے ہیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہالی ووڈ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کا سکینڈل سامنے آیا تو دنیا بھر میں تہلکہ برپا ہوگیا۔ انجلینا جولی سمیت درجنوں اداکاراﺅں نے شوبزکی دنیا میں ہراسگی کے موضوع پرکھل کر بات کی۔ ہالی وُڈ اداکاراﺅں کو دیکھتے ہوئے بالی وُڈ میں بھی متعدد اداکاراﺅں نے انڈسٹری میں موجود انسان نما بھیڑیوں کو بے نقاب کرنے کے عزم کا اظہارکیا۔ معروف بالی وُڈ اداکارہ رادھیکا آپتے کا کہنا تھا کہ ”مجھے یقین ہے کہ یہ کام ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہوگا کہ سب اکٹھے ہوں۔ لوگ اس کے بارے میں بات نہیں کر سکتے کیونکہ ان کاکیریئر خطرے میں پڑجاتا ہے۔ شوبزکی دنیا میں مقام حاصل کرنا بے حد مشکل ہے اور ایسی بات کرکے لوگ اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارے ملک میں تو تشدد کے واقعات بھی عام ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ کچھ کہیں اور اس کے بعد ہنگامہ شروع ہوجائے۔ جب تک میڈیا اور عوام انکشافات سامنے لانے والوں کو سپورٹ نہیں کرتے کوئی بھی بولنے کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ اس انڈسٹری میں خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کا بھی استحصال کیا جارہا ہے۔ حقیقت میں یہ ایک پاور گیم ہے، لیکن آخرکارکسی کو تو آغازکرنا ہوگا۔


می ٹو “ اور لالی وُڈ
چند روز قبل گلوکارہ، ماڈل اور اداکارہ میشا شفیع نے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں میشا شفیع نے کہا میں نے بولنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ میرا ضمیر مجھے مزید خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا، اگر ایسا کچھ میرے جیسے کسی فرد یعنی ایک معروف آرٹسٹ کے ساتھ ہوسکتا ہے تو پھر کسی بھی نوجوان لڑکی کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے جو انڈسٹری میں آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اس نے مجھے بہت زیادہ فکرمندکردیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا مجھے اپنے انڈسٹری کے ایک ساتھی علی ظفر کے ہاتھوں ایک سے زائد بار جسمانی طور پر ہراساں ہونے کا سامنا ہوا۔ یہ واقعات اس وقت نہیں ہوئے جب میں نوجوان تھی یا انڈسٹری میں نئی تھی۔ ایسا اس وقت ہوا جب میں ایک کامیاب خاتون بن چکی تھی جوکہ اپنے خیالات بیان کرنے کے لیے جانی جاتی تھی، ایسا میرے ساتھ اس وقت ہوا جب میں 2 بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ علی ظفر نے ایک بار نہیں کئی بارمجھے ہراساں کیا۔ میشا شفیع نے کہا علی ظفر نے اپنے رویئے سے مجھے دھوکہ دیا جس کے سبب مجھے اور میری فیملی کو صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب گلوکار اور اداکار علی ظفر نے کہا میں میشا کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں، میشا شفیع کے خلاف عدالت جاﺅں گا، یقین رکھتا ہوں سچ ہمیشہ غالب ہوتا ہے۔


علی ظفر۔۔۔ میشا تنارعے پرفنکار برادری تقسیم
میشا شفیع کی جانب سے گلوکار و اداکار علی ظفر پر ہراساں کیے جانے کے الزامات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئے۔ چونکہ میشا شفیع اور علی ظفر پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے 2 بڑے نام ہیں اور یہی وجہ ہے ان کے حوالے سے دیگر فنکار و معروف شخصیات تقسیم ہوکر رہ گئی ہیں۔اب تک متعدد فنکار اس حوالے سے دونوں اطراف میں سے کسی کی حمایت کرچکے ہیں۔ ماہرہ خان نے اس حوالے سے میشا شفیع کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ” ہراساں کیے جانے کے ساتھ ساتھ ایسے مسائل پر بلاسوچے سمجھے کمنٹ کرنا بھی سنگین مسئلہ ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ مسئلے کی جڑکہاں ہے“؟اداکارہ ارمینہ خان نے اس حوالے سے کہا ” ابھی ہم اس کا فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں جارہا ہے، مگر میں میشا شفیع پر کیے جانے حملوں پر خوفزدہ ہوں جو پیشے اور جنس کی وجہ سے کیے جارہے ہیں، جیسے اداکارائیں اورگلوکارائیں نامناسب لباس پہنتی ہے تو ایسا تو ہونا ہی تھا“۔ دوسری جانب مایا علی جو اس وقت علی ظفرکے مدمقابل فلم ”طیفا ان ٹربل“ میں کام کررہی ہیں نے اس رائے کا اظہار کیا ” میں نے علی ظفرکو اپنی بیوی اور بچوں کے بارے میں بات کرنے کا شوقین پایا، وہ اپنے خاندان کے ساتھ اچھے اوربُرے لمحات کو شیئر کرتے ہیں، میں کسی شخصیت کا فیصلہ نہیں کر رہی اور نہ ہی کسی کی جانب سے وضاحت پیش کررہی ہوں، میں علی ظفرکا احترام کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ سچ سامنے آئے“۔ اسی طرح ریحام خان نے میشا شفیع کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس پر فخر ہے، وہ میری طرح کی راک اسٹار ہے‘۔ فخر عالم نے کہا کہ اس معاملے پر یقین نہیں آیا مگر انہیں توقع ہے کہ انصاف ہوگا ‘ وہ لوگ احمق ہیں جو سوچتے ہیں کہ میں الزامات کو مسترد کررہا ہوں یا کسی کی حمایت کررہا ہوں، میں شاکڈ ہوں اور ایسی صورت حال کا تصور بھی نہیں تھا، مگر علی ظفر اور میشا شفیع دونوں کو جانتا ہوں تو مجھے توقع ہے کہ یہ غلط فہمی ہوگی اور سچ سامنے آئے گا“۔ ایک طرف اداکار اورگلوکار علی ظفر نے ہراساں کیے جانے کا الزام لگانے پرگلوکارہ میشا شفیع کو لیگل نوٹس بھی بھیجا ہے،جس میںاُن سے معافی کا مطالبہ کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میشا شفیع دو ہفتوں میں معافی مانگیں ورنہ 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جائے گا۔دوسری جانب میشا شفیع کے وکیل محمد احمد پنسوٹہ نے کہا ہے کہ انہیں علی ظفرکی جانب سے کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا۔


لالی وُڈ میںمی ٹو مہم کا بڑھتا ہوا رجحان
گلوکارہ مومنہ مستحسن بھی ” می ٹو “ مہم کا حصہ بن گئیں، میشا شفیع اورعلی ظفر کے ایشو پر بات کرتے ہوئے گلوکارہ نے ٹویٹ کیاکہ انہیں بھی ہراساں کیاگیا اور یہ مسئلہ علی ظفرسے بھی بڑا ہے۔ انہوں نے کہا خواتین کو ان مردوں کی جانب سے ہراسا ں کیا جاتاہے جنہیں وہ جانتی ہیں۔ مومنہ کاکہنا تھا کہ معاشرے میں عموماً متاثرہ شخص کو ہی شرمندگی کا سامناکرنا پڑتاہے کیونکہ ہراسگی کوثابت کرنا بھی مشکل ہوتاہے۔گلوکارہ نے کہا علی ظفرنے ایسی حرکت کی ہے، وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگیں اور بہترانسان بننے کی کوشش کریں۔ اداکارہ عائشہ عمر نے کہا کہ میں ہراساں ہونے والی خواتین کو سپورٹ کرتی ہوں جوکسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہوں اور ہراسمنٹ کا شکار ہونے کے خلاف آواز بلند کر رہی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ہمت چاہیے ہوتی ہے، یہاں ایسی کئی خواتین ہیں جو اس کا شکار ہوتی ہیں۔ عائشہ عمر نے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی شوبز انڈسٹری میں ہراسمنٹ کا شکار ہوچکی ہیں لیکن انہیں کہنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتی ہیں وہ دن ضرور آئے گا جب وہ اپنے ساتھ ہونے والی غیر اخلاقی حرکت کو سب کے سامنے لا سکیں جیسے میشا شفیع سب کے سامنے لائیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے خاندان کے کسی فردکو ہماری جگہ رکھ کر دیکھیں، آپ کو یہ محسوس کرنے میں مدد ملے گی جو ہم برسوں سے سہتے آئے ہیں، میری نہایت عاجزی کے ساتھ سب سے گزارش ہے کہ معاشرتی طور پر ہمارا سہارا بنیں، زیادتی کے خلاف کھڑے ہونے اور زبان کھولنے میں ہماری حوصلہ افزائی کریں، جب تک زیادتی کرنے والے معافی مانگ کر اپنے عمل کی ذمہ داری قبول اور رویے میں تبدیلی نہیں لائیں گے، انصاف نہیں ہوسکتا۔

ڈیک
ہالی وُڈ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف تقریباً 18 اداکاراو¿ں اورخواتین نے ہراسگی کا الزام عائد کیا تھا جب کہ 5 اداکاراو¿ں نے ان پر زیادتی کے الزامات بھی لگائے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر’ ’ می ٹو “( MeToo) نامی مہم بڑھتی چلی گئی
۰۰۰
سوشل میڈیا پر جاری ’ می ٹو MeToo‘ تحریک بالی وُڈ پہنچی تواس کا سب سے پہلا نشانہ معروف اداکار جیتندر بنے ہیں،جن پر 47 سال بعد ان کی کزن نے زیادتی کا الزام عائد کیا ،جیتندر کی کزن نے اداکار پر مقدمہ بھی درج کروادیا ہے
۰۰۰
گلوکار علی ظفر پرسنگر میشا شفیع کے سنگین الزامات کے بعداداکارہ عائشہ عمر اور گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی انکشاف کیاکہ اُنہیں بھی انڈسٹری میں ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا، اُنہوں نے درخواست کی کہ اس نازک معاملہ پر اُن کا ساتھ دیا جائے


ای پیپر