قائداعظمؒ ،علی گڑھ،مودی اور صوبائی گاندھیوں کی باقیات
04 مئی 2018

3 مئی 2018ء کے اخبارات میں ایک مختصر سی خبر شائع ہوئی ہے۔ اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آویزاں بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر راتوں رات غائب ہو گئی‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ستیش کمار نے علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق محمود کے نام لکھے گئے خط میں یونیورسٹی میں آویزاں محمد علی جناحؒ کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو 1938ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اعزازی رکنیت دی گئی تھی اور تب سے اُن کی تصویر برصغیر کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ یونین آفس میں آویزاں تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق قائداعظم کی تصویر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ یونین آفس سے غائب ہو گئی گویا وہ از خود یونین آفس سے کسی اڑن طشتری پر بیٹھ کر’ روشنی کی رفتار سے‘ کسی خلائی سیارے پر پہنچ گئی ہے۔ اسی لیے علی گڑھ انتظامیہ کو یہ معلوم نہیں ہو پا رہا کہ یہ تصویر کس نے ہٹائی ہے؟ آج بھی علی گڑھ کے مسلم طلباء قائداعظم محمد علی جناح کو اس یونیورسٹی کے بانیوں میں سے ایک تصور کرتے اور قرار دیتے ہیں۔ یہ تصویر 80 برسوں سے سٹودنٹس یونین آفس میں بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ سے طلباء کی ارادت و محبت اور عقیدت کا بزبان حال اظہار کر رہی تھی۔ قائداعظم ؒ کا علی گڑھ سے کیا رشتہ تھا؟ وہ کتنی مرتبہ علی گڑھ آئے؟ تحریکِ استخلاص اور تحریکِ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی اور اس کے طلباء سے 1925ء سے مارچ 1940ء تک مسلسل رابطہ رکھا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے حوالے سے جناب مختار مسعود نے ایک کتاب ’’حرفِ شوق ‘‘ کے نام سے ستمبر 2017ء میں شائع کی تھی۔ اس کا سرورق برصغیر کے ممتاز و منفرد اور جید وقد آور مصور اسلم کمال نے بنایا ۔ اس کتاب کی اشاعت کا اعزاز’ مکتبہ تعمیر انسانیت‘ کو حاصل ہوا۔ اس کتاب کے کل 561صفحات ہیں۔ اس کتاب کا انتساب بھی جناب مختار مسعود مرحوم نے ’’طلبہ علی گڑھ کالج کے نام‘‘ کیا۔ دوسرے صفحہ پر انہوں نے اقبال کا وہ شہرہ آفاق کلام سپرد قرطاس کیا ، جس میں حکیم الامت رومئ ہند علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
اَوروں کا ہے پیام اور ، میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے
طائرِ زیرِ دام کے نالے تو سُن چکے ہو تم
یہ بھی سُنو کہ نالۂ طا ئرِ بام اور ہے
جذبِ حرم سے ہے فروغ انجمنِ حجاز کا
اس کا مقام اور ہے، اس کا نظام اور ہے
جناب مختا ر مسعود بتاتے ہیں : ’طلبہ سے خطاب کے سلسلہ میں علی گڑھ کو برعظیم کے تمام دوسرے شہروں پر ایک فوقیت حاصل تھی۔ صرف علی گڑھ ہی ایک ایسا شہر تھا جہاں قائداعظمؒ خاص طورپر طلبہ سے خطاب کرنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ دوسرے شہروں میں وہ دیگر اہم کاموں کے ساتھ طلبہ سے خطاب کے لیے بھی وقت نکال لیا کرتے تھے۔ ( ص:131) ۔۔۔قائداعظم جب مارچ 1944ء میں ساتویں بار علی گڑھ تشریف لائے تو ہمارے سان گمان میں نہ تھا کہ اس دورے کے بعد یہ آواز پھر کبھی اسٹریچی ہال میں سنائی نہ دے گی۔ موسم خوشگوار تھا ۔ سردیوں کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ بہار کی آمد آمد تھی۔ قائداعظم اس بار علی گڑھ میں کئی دن ٹھہرے۔ اس سے پہلے نہ کبھی اتنا طویل قیام کیا نہ اتنی تقریبات میں شریک ہوئے۔ یونیورسٹی میں ایک بڑے جلسے کے بجائے تین جلسوں سے خطاب کیا۔ ان میں سے دو اسٹریچی ہال میں منعقد ہوئے۔ اس دورے میں قائداعظم کو نیشنل گارڈ نے سلامی پیش کی ۔ سٹی مسلم لیگ نے انہیں استقبالیہ دیا۔ جمعہ کی نماز انہوں نے شہر کے بلند ترین مقام پر واقع ترک صوبیدار کی تعمیر کی ہوئی مسجد میں ادا کی ۔ نماز کے بعد ایک بہت بڑے جلسے سے اردو میں خطاب کیا۔ قائداعظم حسب معمول میرس روڈ پر نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی رئیس بھیکم پور کے یہاں ٹھہرے ہوئے تھے ملنے والوں کا وہاں بھی تانتا لگا رہا۔ (حرف شوق : مختار مسعود، ص:137)
یہ 9 مارچ 1944ء کا ذکر ہے۔ اسٹریچی ہال کے اندر
جگہ نہ ہونے کی وجہ سے جتنے اضافی حاضرین باہر جمع تھے، اتنے اس سے پہلے اور اس کے بعد دیکھنے میں نہیں آئے۔ وہ بھیڑ لگی تھی کہ اردو کہاوت کے مطابق سایہ پسا جاتا تھا۔ فارسی میں over flow کو سرشار شدن کہتے ہیں۔ ہجوم سرشاری کی کیفیت سے دوچار ہے۔ یہ جولائی 1943ء کے قاتلانہ حملے کے بعد قائداعظم کا پہلا دورہ ہے۔ علی گڑھ ان کی تقریر کا بڑی توقعات اور شدت کے ساتھ انتظار کر رہا ہے۔ ایک اعلیٰ درجہ کی زور دار اور طویل تقریر کے درمیان میں پہنچ کر قائداعظم نے آواز بلند کی ، شہادت کی انگلی استقلال اور تاکید کے لیے دو ایک بار حرکت دی اور کہا:
Division of India is inevitable. Blending two nations - Hindus and Musalmans - is an impossibility and Pakistan is certainty.
ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہے۔ دونوں قوموں (ہندوؤں اور مسلمانوں) کا ایک ہو جانا ناممکنات میں سے ہے۔ پاکستان کا وجود میں آنا یقینی ہے۔ (حرف شوق : مختار مسعود، ص:141) ۔۔۔قائداعظم نے علی گڑھ کے اسی تاریخ ساز سفر میں کہا تھا کہ’ پاکستان اس لمحے وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلے غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تھا۔ زمانہ دراز سے ہندو اور مسلمان اکٹھے رہتے آئے ہیں مگر وہ ایک نہیں ہو سکے اور یہی حقیقت پاکستان کی اساس ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ باتیں بنانے سے نہیں ملے گا، منت کرنے سے نہیں ملے گا اور تو اور یہ محض مناجات سے بھی نہیں ملے گا۔ اس کے لیے خدا پر بھروسا رکھتے ہوئے جدوجہد کرنی ہو گی۔ ان شاء اللہ پاکستان اب تمہاری دسترس میں ہے‘۔ (حرف شوق : مختار مسعود، ص:142-43)
ایک طرف بھارت کے پاکستان دشمن قائداعظمؒ مخالف اور اسلام بیزار حکمران نریندر مودی اور اس کی مسلمانوں اور اقلیتوں کے خون کی پیاسی ڈریکولائی سیاسی جماعت اس کے بھیڑیا صفت اور درندہ خصلت کارکنوں کا یہ حال ہے کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس یونین آفس میں آویزاں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر کا وجود بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں یہ اس ملک کا حال ہے جہاں گنگا بہتی ہے۔۔۔ممبئی میں جب مسلم کش فسادات شروع ہوئے تو لٹی پٹی خواتین جب مہا سبھائی ہندو غنڈوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تھانہ پہنچیں تو ایس ایچ او اور اس کے ماتحت پولیس عملہ نے یہ کہہ کر انہیں تھانے سے نکال باہر کیا کہ یہ ہندوستان ہے ۔ اگر تم انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف شکایت کرنا چاہتی ہو تو پاکستان جاؤ۔ آج بھی میاں محمد نواز شریف کے یار مودی کے دور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مسلم دشمن اور پاکستان دشمن درندے مسلمانوں کی کسی بستی پر دھاوا بولتے ہیں تو وہ اپنے ساتھیوں کو اس یدھ میں شرکت کے لیے یہ نعرہ لگا کر دعوت دیتے ہیں کہ آؤ پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرتے چلیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے مودی کے جس دور میں کشمیر میں برہان الدین وانی ایسے سیکڑوں حریت پسندوں کو شہید کیا گیا ہو۔ ہزاروں مسلم حریت پسندوں کو ٹارچر سیلز میں فسطائی مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہو،پیلٹ گنز نے سیکڑوں بچوں،لڑکیوں اور نوجوانوں کی آنکھوں سے بینائی نوچ اور کھرچ لی اور چہروں کو کیمیائی مواد کی زہریلی اور تیزابی بارش سے مسخ کر دیا ہو۔ اس مودی کو آخر کس بنا پر میاں محمد نواز شریف نے کابل سے لاہور ائر پورٹ اور لاہور ائر پورٹ سے اپنے شاہی محل جاتی امرا تک بغیر ویزے کے آنے کی اجازت دی۔ مقام حیرت ہے کہ ممبئی میں مودی اور بال ٹھاکرے کے پروردہ دہشت گردجناح ہال کا نام تبدیل کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس یونین آفس میں تو قائداعظمؒ کی تصویر بھی نریندر مودی کے دلاروں سے برداشت نہیں ہوئی اور ادھر پاکستان میں اسفند یار ولی خان کے دادا سرحدی گاندھی باچہ خان کے نام پرایئر پورٹ اور یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ وہ باچہ خان جس کے رگ و پے میں پاکستان دشمنی کا زہر اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ اس نے پاکستان میں دفن ہونا بھی پسند نہیں کیا۔ اس کی نعش افغانستان پہنچائی گئی۔ جلال آباد نعش پہنچی تو اس کے جنازے کے شرکاء کا استقبال غیور پٹھانوں نے دھماکہ کرکے دیا اور اکثر شرکاء نعش چھوڑ کر بھاگ گئے۔ تدفین کے بعد جلال آباد کے مسلم پختون شہریوں نے اس کے مقبرے کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ وہ تمام قوم پرست جماعتیں جو وحدتِ پاکستان اور وفاقِ پاکستان کی مخالف ہیں، مسلم لیگ (ن) کے قائد کی لاڈلی جماعتیں ہیں۔ اور تو اور پشتون تحفظ موومنٹ ایسی خورد بینی قوم پرست جماعت جو بی جے پی کا مقامی ایڈیشن ہے اور جس کے قائد منظور پشتین کے بارے یہ بات آثار و مظاہر کی روشنی میں تیقن کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں الطاف حسین، براہمداغ بگٹی، حسین حقانی کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا ، وہ انہی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اس کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ سوات کے جلسے میں پاکستانی پرچم لے کر آنے والے شہریوں کو شمولیت اور شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ منظور پشتین مودی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ’’مودی کا یار‘‘ اور اس کی ’’راجکماری‘‘ اس کے حق میں بیان داغ رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی سمیت وہ تمام عناصر جو صوبائی گاندھیوں کی باقیات ہیں، اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ کیا پوچھا جا سکتا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے کسی جلسے میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا جاتا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ قائداعظم ؒ کے پاکستان کی وحدت اور قومی سلامتی کے محافظ ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی کر نے والے را، سی آئی اے اور این ڈی ایسے کے گماشتوں کو نکیل نہیں ڈالی جا رہی ۔ اس کے بجائے طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ سول سوسائٹی کے پردے میں امریکی مغربی اور بھارتی فنڈز پر پلنے اور چلنے والی امن دشمن اور وطن دشمن این جی اوز بھی منظور پشتین اور اس کی نا پسندیدہ تحریک کو مالی و افرادی راتب فراہم کر رہی ہیں۔


ای پیپر