دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد،پس منظر اور پیش منظر

04 مئی 2018

غلام نبی مدنی

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ ؛
"جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو:جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست اور سیاسی معاملات میں بالخصوص ایک اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان میں دین کو مقدم رکھا جائے گا۔اگر دینی تعلیمات اور اخلاقیات کو بھلا دیا جائے تو یقیناًچنگیزیت باقی رہ جاتی ہے۔قیام پاکستان کا مقصد ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست تھی جہاں دین کو تمام معاملات میں پیشوا بنا کر پرامن زندگی گزارنے کے لیے ایک آئیڈیل ریاست کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔بدقسمتی سے آزادی کے بعد اس مقصد کو رفتہ رفتہ بھلادیا گیا۔جس کے بعد ملکی سیاست میں دینی سیاسی جماعتوں کے لیے راہ کھلنے لگی کہ وہ بھی عملاً میدان سیاست میں آئیں۔اگرچہ قیام پاکستان سے پہلے دینی سیاسی جماعتیں موجود تھیں،جو برصغیر میں برطانوی استعمار کے خلاف پنجہ آزما رہیں۔مگر قیام پاکستان کی جدوجہد میں دینی جماعتوں سے زیادہ دینی لوگ مسلم لیگ کی صف میں شامل ہوکر کوششیں کرتے
اس تاریخی حقیقت کے بعد موجودہ پاکستان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اسلامی تعلیمات کی عملاً مکمل تطبیق میں کوتاہی دیکھنے کو ملتی ہے۔سود جسے دین میں اللہ اور رسول سے اعلان جنگ کے مترادف قراردیا گیا،معیشتِ پاکستان اس پر ابھی تک قائم ہے۔قرآن وسنت میں قاتل کی معافی کااختیار صرف مقتول کے ورثاء کو ہو تاہے،مگر پاکستان میں آج بھی یہ اختیار صدرپاکستان کوبھی حاصل ہے۔دیگر کئی معاملات میں اس طرح کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔جن پر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بھی موجودہیں۔یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ملک میں اسلامی نظام کے عملاًنفاذ کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔جس کے لیے دینی جماعتیں بھی میدان میں آئیں اور بدقسمتی سے مسلح جدوجہد بھی سامنے آئی،جس سے وطن عزیز میں امن وامان کی صورت حال مخدوش ہوئی اور دشمنان پاکستان کو دہشت گردی بڑھانے میں خوب مدد ملی۔اگرچہ اسلامی نظام کے عملاً نفاذ کیلیے مسلح جدوجہد کی دینی جماعتیں کھل کر مذمت کرچکی ہیں۔حال ہی میں پیغام پاکستان کے نام سے 1800سے زائدعلماء کرام کا فتویٰ بھی سامنے آچکاہے جس میں ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے عدم جواز کا فتویٰ دیا گیا۔مگر بہر حال ملک میں اسلامی نظام کے عملاً مکمل نفاذ کے لیے سیاسی جدوجہد کا راستہ ابھی تک کھلا ہے،جس کی پیغام پاکستان میں بھی حمایت کی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ اسلامی نظام کے عملاً مکمل نفاذ کے لیے سیاسی جدوجہد صرف دینی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے یا پھر دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے؟دوسرا سوال یہ ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں کا سیاسی جدوجہد کے لیے عملاً کردار کیسا رہا اور کیا سیاسی جدوجہد سے عملاًاسلامی نظام کا مکمل نفاذ ہوسکتاہے؟
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مکمل طورپر اسلامی نظام کا عملاً نفاذ نہ صرف
ہر سیاسی جماعت بلکہ ہرپاکستانی مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔جس کے لیے ہر ایک کو بقدر طاقت کوشش کرنی چاہیے۔تاہم یہ ذمہ داری اسلام کے نام لیوا علماء کرام پر زیادہ ہے۔کیوں کہ اللہ کے رسولؐ نے انہیں انبیاء کرام کا وراث بتایاہے۔انبیاء کافرض معاشرے اور سماج میں اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کے نفاذ کی کوشش کرنا ہی تھا۔لیکن پاکستان کی دینی سیاسی جماعتوں نے اس کے لیے اب تک کیا کردار ادا کیا اور آئندہ اس حوالے سے ان کا کردار کیا رہے گا یہ انتہائی اہم سوال ہے۔ دینی سیاسی جماعتوں کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یقیناًوہ ہمیشہ سے ملک میں اسلامی نظام کے عملاً نفاذ کے نعرے پر جدوجہد کرتی رہی ہیں۔کئی مواقع پر انہیں اس میں کامیابی بھی ملی،جس کی ایک مثال 1974ء میں قادیانیوں کے دائرۂ اسلام سے خارج قراردینے کے لیے متفقہ طورپر قانون سازی ہے،اس کے علاوہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لیے بنایاگیا قانون بھی ان کی جدوجہد کا ثمرہ ہے۔ان دومثالوں کے علاوہ دیگر بہت سی مثالیں ہیں جن میں دینی سیاسی جماعتوں کی محنت اور جدوجہدکا انکار نہیں کیا جاسکتا۔تاہم بہت سارے معاملات اب بھی ایسے ہیں جن میں دینی سیاسی جماعتوں کی طرف سے محض بیانات کے علاوہ عملاً خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔جس کی ایک مثال سودی نظام پر مبنی معاشی نظام ہے۔اگر حالیہ 5سالہ دورحکومت کو دیکھ لیا جائے تو دینی جماعتوں کے پارلیمنٹ میں ہوتے ہوئے بھی سودی نظام پر مبنی معاشی نظام کے خاتمے اور متبادل نظام کے لیے کوئی بڑی کوشش سامنے نہیں آئی۔بلکہ گزشتہ 3 حکومتی ادوار میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی سنجیدہ کوشش اس کے لیے نہیں کی گئی۔ا س کے علاو ہ ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کا انتہائی حساس معاملہ موجودہ دور حکومت میں سامنے آیا مگر دینی سیاسی جماعتوں نے ابھی تک اس معاملے کے پیچھے اصل کرداروں کو سامنے لانے کے لیے کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان دینی سیاسی جماعتوں کے بے شمار معتقدین الیکشن میں انہیں ووٹ نہیں دیتے۔
اب جب کہ الیکشن 2018ء قریب ہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح دینی سیاسی جماعتیں بھی انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔پاکستان کی تمام بڑی دینی سیاسی جماعتوں کے دو اتحاد تشکیل پارہے ہیں۔جن میں 2002 ء کی متحدہ مجلس عمل اور 2013ء کی متحدہ دینی محاذ سرفہرست ہیں۔متحدہ مجلس عمل نے 2002ء کے الیکشن میں حیرت انگیز کارکردگی دکھائی،مگر بعدازاں اس اتحاد میں دراڑیں پڑ گئیں۔جس کی وجہ سے 2008ء اور اور 2013ء میں باوجود کوششوں کے یہ اتحاد نہ بن سکا۔2018ء کے الیکشن میں ایک مرتبہ پھر متحدہ مجلس عمل کا سویا ہوا اونٹ بیدا کردیا گیاہے،مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں ایک اور دینی جماعتوں کا اتحادمتحدہ دینی محاذ کی صورت سامنے آرہاہے۔ان دو اتحادوں کی موجودگی میں دینی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو الیکشن میں ظاہر سی بات ہے کوئی قابل قدر نتائج نہیں ملیں گے۔حیرت انگیز طورپر دونوں اتحادوں میں تقریباً یکساں مسالک کی جماعتیں شامل ہیں اور دونوں اتحادوں کا منشور بھی یکساں ہیں۔لیکن اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے اتحاد سے مطمئن نہیں،بلکہ دونوں فریق بن کر سامنے کھڑے ہیں۔ایک اتحاد کے بقول دوسرا ایجنسیوں کا پیدا کردہ ہے ،جب کہ مخالف فریق کے بقول ایجنسیوں کا الزام لگانے والے خود کرپٹ لوگوں کے حمایتی ہیں۔ دینی سیاسی جماعتوں کی اس کشمکش میں فائد ہ بہرحال دیگر سیاسی جماعتوں کا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ ان دینی سیاسی جماعتوں سے منسلک لوگ اس بار بھی الیکشن میں ووٹ دینے میں متردد رہیں گے۔بلکہ الیکشن سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر ان دواتحادوں سے جڑے ہم مسلک نظریات کے حاملین الجھ رہے ہیں۔ایسے میں ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ابھرتاہے کہ آخر وہ کس دینی سیاسی جماعت کو ووٹ دے اور کیوں دے؟جب کہ ان کی حالیہ اور ماضی کی کارکردگی اسلامی نظام کے عملاً نفاذ کے حوالے سے قابل رشک نہیں رہی؟لوگ بھلا کیوں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں جب کہ ان دینی سیاسی جماعتوں کے منشور میں اللہ کی کتاب اور رسولؐ اللہ کا اسوہ حسنہ سرفہرست ہے۔کون نہیں جانتاکہ قرآن وسنت میں باہمی اتحاد کے لیے بے پناہ ترغیب اور انتشار کی صورت میں بے شمار نقصانات بتائے ہیں۔اسی سے دینی سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا اچھی طرح اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

مزیدخبریں