فوج پاکستان کا سنٹر آف گریویٹی ہے
04 مئی 2018

جب سے پشتون تحفظ موومنٹ نے ملک کے اندر اور باہر احتجاجی ریلیوں اور فوج مخالف بیانات کے ذریعے قومی سیاسی افق پر دھواں دار لانچنگ کی ہے ۔ ایک محب وطن پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیاہے کہ کیا ہماری جمہوریت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی بھی ملک دشمن عناصر پاکستان کے اندر یا باہر بیٹھ کر سرمایہ لگا کر اس جمہوریت کے لبادے میں ایسی ملک دشمنی کا اہتمام کر سکتا ہے کہ سپانسرڈ ریلی نکال کر جسے چاہے گالی دے اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے مگر اسے پوچھنے والا کوئی نہ ہو کیونکہ یہ اس کا حق ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں وکالت کرنے والے اکثریتی ID افغانستان اور انڈیا سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔
جس وقت سوات میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسہ عام میں طور خان کو پاکستانی جھنڈاتھام کر جلسے میں شرکت سے روکا جا رہا تھا اور کشمیریوں سے پس پردہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستانی پرچم لپیٹ کر آجاؤ ورنہ مارے جاؤ گے۔ تو عین اسی وقت لاہور میں میری یادگار ملاقات آئی ایس آئی کے سابق بریگیڈیئر جناب اختر جنجوعہ صاحب کے ساتھ ہو رہی تھی۔ جس کا اہتمام ہمارے ایک کامن فرینڈ اور سابق نیول آفیسر کیپٹن نوید انور بوبک نے کیا تھا۔ بریگیڈیئر اختر جنجوعہ ایک رف اینڈ ٹف سولجر ہیں جو جی ایچ کیو راولپنڈی میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ اب رضا کارانہ طور پر پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف ہیں۔ یہ ایک ایسی خود ساختہ جنگ ہے جسے وہ اپنے ضمیر کی آواز پر جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ ضمیر کی عدالت کے فیصلے غلط نہیں ہوتے۔ بریگیڈیئر اختر جنجوعہ کی ہمہ گیر شخصیت کے چار نمایاں پہلو ہیں جن میں حب الوطنی، پاکستان آرمی بطور ڈیفینڈر آف پاکستان ، اسلام اور روحانیت اور قومی سیاسی نظام میں اصلاح احوال شامل ہیں۔ پاکستان سے محبت ان کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہی ہے ۔ اور ان کے خون کا ایک ایک قطرہ ارض وطن کے ذرے ذرے کا مقروض ہے ۔ بریگیڈیئر اختر جنجوعہ کہتے ہیں کہ وطن سے غداری جو بھی کر رہا ہو اسے غدار ہی کہا جائے گا خواہ وہ سیاست اور جمہوریت کے سات پردوں میں ہی کیوں نہ لپٹا ہوا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بارے میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ایک عطیہ خداوندی ہے ۔ تاریخی طور پر ہندوستان ملٹی پل خداؤں کی سرزمین ہے جس کی 7000 سال پرانی تاریخ میں 33 کروڑ دیوتا ریکارڈ پر ہیں۔ یہ تاریخ اتنی متنوع ہے کہ یہاں پر ایک خدا کے ماننے والوں کو الگ وطن مل جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ آپ سیاستدان ہوں، فوجی ہوں، سرکاری افسرہوں یا عام شہری، قیامت کے دن آپ میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً یہ سوال لازمی پوچھا جائے گا کہ دار الکفر کے اندر خداوند کریم نے پاکستان کی شکل میں ایک اتنی بڑی نعمت عطا کی تھی کیا آپ نے اس کی حفاظت کی یا پھر اس کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کر لیا۔
بریگیڈیئر اختر جنجوعہ کا عقیدہ ہے کہ ہر چیز کا centre of gravity ہوتا ہے ۔ اور پاکستان کی gravity یا کشش ثقل پاک فوج ہے ۔ علاقائی طور پر غور کریں تو پاکستان کا اپنے سے 10 گنا بڑے دشمن کے مقابلے میں 70 سال تک exist کرنا بذات خود ایک کارنامہ ہے ۔ یہ سارا استحکام فوج کا مرہون منت ہے جو قومی دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے ۔ ریڑھ کی ہڈی میں خرابی انسان کو اپاہج بنا دیتی ہے ۔ ہمارا دشمن فوج کو paralyse کرنا چاہتا ہے ۔ جس کے لیے ایک اینٹی آرمی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے ۔ فوج کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی جو پھیلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ یہ پنجابی فوج ہے جو کہ سراسر گمراہ جن ہے ۔ جنرل پرویز مشرف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں National Integdration Program کے تحت اب فوج کی بھرتی میں صوبوں کا بہ لحاظ آبادی کوٹہ مقرر کیا جا چکا ہے ۔ جس سے فوج میں پنجاب کا حصہ جو کبھی 82 فیصد ہوتا تھا اب 54 فیصد پر آچکا ہے ۔ اسی طرح پختونخوا 23 فیصد، سندھ17 فیصد اور اقلیتوں کو ایک فیصد دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ کام اگر پہلے کر لیا جاتا تو شاید مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہ ہوتا۔ البتہ بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کے کردار کو یاد رکھنا چاہیے جس کا اعتراف اندرا گاندھی نے کیا تھا اور اب نریندر مودی نے بھی تسلیم کیا کہ ہم نے بنگلہ دیش بنانے میں بنگالیوں کی مدد کی ہے ۔ بھارتی دانشور شرمیلا بوس نے اپنی حالیہ کتاب Dead reckning میں پاکستانی مؤقف کی تائید کی ہے ۔ بریگیڈیئر اختر جنجوعہ کا حافظہ خاصا مضبوط ہے اور وہ دلائل کے ساتھ ساتھ اعداد و شمار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست میں پیسے کی مداخلت نے کرپشن کا دروازہ کھول دیا ہے ۔ یہاں جمہوریت electables کی گیم ہے ۔ جب ملک آزاد ہوا تو ایک امریکی ڈالر ایک پاکستانی روپے کے برابر تھا۔ 82-83ء تک ڈالر اور روپے کی ویلیو برابر تھی۔ کیونکہ روپیہ ڈالر کے ساتھ pegged تھا۔ جب روپیہ کو ڈالر سے آزاد کر دیا گیاتو 82-83ء میں ڈالر 7 روپے کا ہو گیا۔ 89-90ء میں ڈالر 18 روپے تھا۔ اس وقت ڈالر 120 پر پہنچ چکا ہے ۔اس سے ہماری معیشت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
بریگیڈیئر اختر جنجوعہ اب پر امید ہیں کہ پاکستان بطور ایک مضبوط فیڈریشن مضبوط رہ سکتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے صوبوں کی رائٹ سائزنگ کی جائے جس کے لیے پنجاب کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا مناسب ہو گا۔ اس کے لیے ساؤتھ پنجاب، سنٹرل پنجاب اور پوٹھوہار کے علاقے الگ الگ صوبوں میں انتظامی مقاصد کے لیے بنائے جا سکتے ہیں۔ جہاں سب اکائیوں کو برابر کے حقوق دینا ہوں گے۔ اور مساوی مواقع روزگار کو بھی یقینی بنایا جائے۔ 11 کروڑ آبادی والا پنجاب اگر چھوٹے صوبوں میں تحلیل ہو جائے تو اس سے governance میں بہتری آئے گی۔ اس کو انا کا مسئلہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ منفی نہیں بلکہ مثبت ثابت ہو گا۔اسی طرح پارلیمنٹ کے اپر ہاؤس یعنی سینیٹ کو مضبوط بنانا ضروری ہے کیونکہ یہاں صوبوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے ۔ سینیٹ کو empower کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سینیٹر کا انتخاب عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جائے جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے ۔ اسی طرح ملک میں اکثریتی ووٹ کی بجائے متناسب نمائندگی کا طریق انتخاب متعارف کرایا جائے۔ اس سے واضح اکثریت والا امیدوار سامنے آئے گا جیسا کہ فرانس میں ہے ۔ پھر اگلے مرحلے میں 2 دفعہ سے زائد سینیٹر بننے اور 8 سال سے زیادہ پارٹی صدارت پر پابندی عائد کی جائے۔ ان اقدامات سے سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے الیکشن کمیشن کو اختیار دیا جائے اور یہ انتخابات شفاف بنیادوں پر کروائے جائیں۔ آئینی ترمیم کسی شخصی مفاد کی بجائے وسیع تر قومی اور عوامی مفاد کے تحت ہونی چاہیے۔
سیاسی پارٹیاں بدلنے والوں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس پر بھی قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ عوام کا بھی اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ اس طرح موقع پرست لوگوں کو ووٹ نہ دیں ۔ ایسے بھی امیدوار ہیں جو ہر الیکشن میں نئی پارٹی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل نہ ہونے دے ۔ ورنہ اس میں اور staius quo پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔ ضمیر فروشی کی حاصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ کرپشن کے خلاف عدالت نے جو سٹینڈ لیا ہے میں اس کی حمایت کرتا ہوں ۔ کرپشن عوام کے جسم سے خون نچوڑ نے کے مترادف ہے ۔ آخر لوگ 40 ،40 کروڑ روپیہ خرچ کر کے کیوں سینیٹر بن رہے ہیں۔ قوم کو ان کے آگے دیوار بن جانا چاہیے۔ پاکستان کے ساتھ جس نے بھی غداری کی اللہ نے اس کو عبرت کا نشان بنا دیا۔
ان کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو کے بہت سے پہلو جگہ نہ ہونے کو وجہ سے بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کی شخصیت کے روحانی پہلوؤں پر ایک الگ کالم درکار ہے ۔ اس طرح کے لوگ پاکستان اور پاکستان آرمی کا سرمایہ افتخار ہیں۔


ای پیپر