پانی اور باردانے کی تقسیم کی سیاست
04 مئی 2018 2018-05-04

روز نامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ میں فصلوں کی قیمت اور پانی کی تقسیم پر سیاست کرنا اب مشہور روایت بن گئی ہے۔ ہر اقتداری پارٹی نے زراعت سے وابستہ طبقے کو اپنے ساتھ منسلک رکھنے کے لئے ایک نسخہ ایجاد کیا ہے۔ ایک بڑی آبادی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔ کل ہی کی بات ہے کہ گنے کی قیمت پر رواں سال ایک بڑی سیاست ہوئی، کاشتکاروں کی ابھی تک تیس سے چالیس روپے فی من کے حساب سے رقومات شگر ملوں پر ادھار ہیں۔ کاشتکاروں کو گنے کی مناسب قیمت تو نہ مل سکی، لیکن اس کے بعد اترنے والی گندم کی فصل کا باردانہ نہیں مل سکا۔ سرکاری قیمت صرف ان لوگوں کو ملی جو اقتداری جماعت کے قریب تھے۔ باردانے پر سیاست کرنا اور اس کے ذریعے اپنے ووٹ بڑھانے کا مثالی ماڈل صرف سندھ میں ہی ملتا ہے۔
فصلوں کی قیمت کی یہ حالت ہے اور دوسری طرف پانی نہ ملنے کی وجہ سے کاشتکار اور کسان، بلکہ دیہی علاقوں میں بسنے والے عام لوگ بھی سڑکوں پر آگئے ہیں۔ کیونکہ نہروں کے آخری سرے والے علاقوں میں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ ایک ہی روز کے اخبارات میں بدین، نؤں کوٹ، کلوئی، خیرپور گمبو، اور پتھورو کے کاشتکاروں اور عام لوگوں کے احتجاج کی خبریں شایع ہوئی ہیں۔ ضلع عمرکوٹ پتھورو کے علاقے میں پانی کی قلت نے یہ صورت اختیار کی ہے کہ مجبوراً پتھورو شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ کھپرو کینال سے نکلنے والی کھاہی شاخ پتھورو سمیت اس کے گردو نواح ،میں گزشتہ اڑھائی ماہ سے پانی کا بحران ہے۔ تا حال کوئی بھی سرکاری افسر یا عہدیدار زندگی کے لئے لازمی عنصر پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے تحرک میں نہیں آیا ہے۔ عوام کے شدید ردعمل کے بعد، یہ ضرور ہوا ہے کہ لاڑ کے بیلٹ میں سیڈا نے منتخب نمائندوں سے اجلاس کر کے پانی کے بحران، آخری سرے تک پانی نہ پہنچنے، نارا کینال پر نصب غیر قانونی مشینوں، اور واٹر کورس ٹوٹنے کے معاملات پر غور کیا۔ سیڈا اور منتخب نمائندوں نے اس صورت حال پر غور کرنے کی زحمت کی ۔ لیکن پانی کے لئے احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ شاخوں اور واٹر کورسوں پر رینجرز تعینات کر کے انہیں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا اس سے سیڈا اور منتخب نمائندے آگاہ نہیں؟ اقتداری پارٹی کے اراکین اسمبلی اور وزراء مسئلے کی جڑ سے واقف نہیں ۔
رواں موسم میں سب سے زیادہ پریشانی بدین اور ٹھٹہ کے بیلٹ کے لوگوں کو اٹھانی پڑتی ہے۔ کلوئی کی رن شاخ بھی آخری سرے پر ہے۔ جس میں پانی فراہم کرنے اور نہ کرنے کی ایک سیاسی تاریخ ہے۔ آج بھی رن شاخ میں پانی نہیں۔ پتھورو میں پانی نہ ملنے پر لوگوں نے شہر بند کردیا اور الٹیمیٹم دیا کہ اگر انہیں پانی کی فراہمی نہ کی گئی وہ غیر معینہ مدت تک احتجاج پر چلے جائیں گے۔ خیرپور گمبو کے کاشتکاروں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی تاریخ رقم کی تھی۔ ملک کی اعلیٰ عدالت کے نوٹس لینے پر احتجاج ختم کیا گیا۔ کچھ روز کے لئے خیرپور گمبو، ملکانی شریف اور گرد نواح کے علاقوں میں پانی پہنچا۔ بعد میں موقع ملتے ہی پانی کی فراہمی روکنے والوں اور پائے پانی پر اپنی زمینیں آباد کرنے والوں نے پانی بند کردیا۔ آج ان علاقوں میں کاشت کے لئے خواہ پینے کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں۔ اب لوگ سرکار سے صرف زندہ رہنے جتنا پانی مانگ رہے ہیں۔
سندھ میں محکمہ آبپاشی کی خراب انتظام کاری، پانی کی پیسوں کے عوض فروخت، پانی پر سیاست کے منفی رجحانات کی وجہ سے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا نظام دن بدن مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ شاخوں کے آخری سرے پر بسنے والے لوگ مجبوراً نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی علاقے میں پانی نہ ہو، اور پھر بھی زندگی نظر آئے؟
روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ سندھ بدامنی اور قبائلی جھگڑوں کی آگ سے گزرتا رہا ہے۔ اب یہاں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر طرف لوگوں میں غم و غصے کی لہر چھائی ہوئی ہے، سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک، زیادتی کا شکار ہونے والی بچیوں کے ساتھ انصاف کرنے کی اپیلیں کی جارہی ہیں۔ میرپور خاص، نصیرآباد، کھوڑا، سجاول میں زیادتیوں کے کیس سامنے آئے ہیں۔ جبکہ لاڑکانہ کی صائمہ جروار کیس میں ملوث ملزمان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کی جاسکی ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ جب بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں چند روز کے شور وغوغا کے بعد یہ واقعات دبا دیئے جاتے ہیں۔ اس کی ایک سے زائد وجوہات ہیں۔ اس قسم کے مقدمات کی پیروی نہیں ہوتی، متاثرہ عورت یا بچی کے ورثاء پر دباؤ ڈال کر مقدمے سے دستبردار ہونے یا کوئی
مصلحت کا راستہ نکالا جاتا ہے۔ اس لئے ایسے مقدمات میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اب سندھ کے شہروں میں اس طرح کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور لوگ اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس طرح کے ملزمان کو یقیناًقرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔
ان مقدمات میں ملزمان کا بچ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قانون ہر وقت انصاف کے منتظر متاثرہ فریق کی مطلوبہ مدد کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ یہ قانون کی کمزوری ہی کہلائے گی، وہ بہتر انداز میں کام نہیں کر رہا، کسی مقامی بااثر شخصیت کے کہنے پر کیس اتنا کمزور بنایا جاتا ہے کہ لوگ مقدمے سے دستبردار ہونے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اگرچہ زیادتی کے کیس میں کئی نفسیاتی معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ایک برائی ہے جس کو قانون کی مدد سے حل کرنا ضروری ہے۔ لوگ ازخود نوٹس لینے کے لئے چیف جسٹس سے اپیلیں کر رہے ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاص طور پر پولیس جس کا کام ہی لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا اور عوام کی فریاد پر بلا سیاسی مداخلت کے کارروائی کرنا ہے، ایسے معاملات میں پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہوگی، توپھر کسی طور پر بھی عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی ناممکن ہو جائے گی۔
اب صورت حال زیادہ خراب ہے۔ اس کے لئے زیادہ سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا کیوں انتظار کرتے ہیں کہ عدالت یا اعلیٰ حکومتی عہدیداران ایسے معاملات کا نوٹس لیں اس کے بعد یہ ادارے اور اہلکار حرکت میں آئیں؟


ای پیپر