بارودی سرنگیں
04 مئی 2018

خیبر پختونخوا اور فاٹا میں دہشت گردی سے سیکڑوں افراداپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔یہ دہشت گردی کبھی طالبان کی طرف سے حملوں کی صورت میں ہوئی تو کبھی بے گناہ لوگ خودکش دھماکوں کے زد میں آئے یا پھرڈرون حملوں سے بھی بے گناہ افراد شہید ہوئے ۔ ریاست پاکستان پچھلے 14/15سالوں سے جس عذاب کی شکار رہی ہے ۔ان میں دہشت گردی سرفہرست ہے ۔ لیکن ایک خاص قسم دہشت گردی جس سے سیکڑوں افرد لقمہ اجل بنے وہ بارودی سرنگوں سے ہونے والی دہشت گردی ہے ۔فاٹا اور خیبر پختونخوا میں دہشتگر د تنظیموں کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے اب تک سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں اکثر یت پاک فوج کے جوانوں ایف سی اہلکاروں اور پولیس جوانوں کی ہے ۔جن کو بارودی سرنگوں کی وجہ شہادت کی موت نصیب ہوئی۔در اصل 2002ء کے دوران جب طالبان ،القاعدہ اور ان کے اتحادی تنظیموں کے کمانڈر اور جنگجو شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آباد ہوئے ۔اس وقت انہوں نے اپنے ٹھکانوں کے اردگرد بارودی سرنگوں کا حصار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو مضبوط کرنا شروع کیا اس کی بنیادی وجہ فاٹا کا قومی دھارے میں نہ ہونا تھا۔جس کی وجہ طالبان کے ساتھ دوسری دہشت گرد تنظیموں نے مل کر سرنگوں کو قائم کیا ۔جس کے نقصان پورے پاکستان کو اٹھانا پڑا۔ ایک رپورٹ کے مطابق بارودی سرنگوں کے ساتھ ساتھ سڑکوں ،سرکاری تنصیبات اور مختلف عمارتوں کو اس موثرہتھیار کے ذریعے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی
شروع کی ۔اس کام میں افغانی طا لبان اور سنٹرل ایشین جہادی تنظیموں نے نہ صرف پاکستانی طا لبان کی تربیت کی بلکہ ان کو بارودی سرنگیں بنانے اوربچھانے کے طریقے بھی سکھائے سرکاری زرائع کی طرف سے جاری کردہ ایک محتاط اندازے کے مطابق فاٹا میں کم و بیش 400افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں 60فیصد کا تعلق سیکورٹی فورسز کے مختلف اداروں یعنی پاک فوج اور ایف سی سے ہے ۔سات بار فاٹا میں پاک فوج کے دستوں یا قافلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ چار بار ایف سی کے قافلے طالبان کے نشانہ بنے۔ یہ سلسلہ عام فوجی جوانوں کے علاوہ ہے ۔ان نوجوانوں کے ساتھ دو بر یگیڈئر ،تین کرنل،تین میجر اور دوسرے مختلف رینک کے افراد شہید ہوئے جبکہ سوات اور دیر میں10بارپولیس افسران تنصیبات اور قافلوں کو بھی بارودی سرنگوں کے زریعے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اور ایف سی اعلیٰ افسران سمیت در جنوں اہلکار بھی شہید ہوئے ۔ڈیٹا کے مطابق دہشت گرد تنظیموں نے افغانستان کی طرح پاکستان میں بھی ان بارودی سرنگوں میں خود کش حملہ آور تیار کیے۔ جس کو ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔جس کے زریعے سیکڑوں افراد کے علاوہ تقریباً1500سرکاری اور نجی عمارتوں کو اڑایا۔جن میں سکول ،ہسپتال،پولیس تھانے اور بعض نجی املاک شامل تھے۔ یعنی پاکستان کو جانی و مالی نقصانات برداشت کرنا پڑا۔ مختصر یہ کہ ان نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل کام ہے ۔دوسرا یہ کہ ان سرنگوں کی تلاشی اور صفائی ایک مشکل کام تھا۔اور اس صفائی کے دوران بھی درجنوں اہلکار شہید ہوئے اس کی اصل وجہ ان سرنگوں کی صفائی کے لئے تربیت بھی درکار تھی ایک رپورٹ کے مطابق فاٹاکے بارودی سرنگوں نہ صرف ہمارے سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے بلکہ عام شہری بھی ان کی ظلم کی زد سے نہ بچ سکے۔ان سرنگوں کی وجہ سے تقریباً 200عام شہری شہید ہوئے اور 1600افراد معذور ہو چکے ہیں ۔اسی طرح وزیرستان میں شہید ہونے والوں تعداد100کے قریب بتائی گئی ۔ماہرین بارودی سرنگوں کودہشتگردتنظیموں کا خطرناک ہتھیارقرار دے رہے ہیں۔جس کی روک تھام ایک مشکل کام تھا۔لیکن افواج پاکستان نے بڑی مہارت کے ساتھ اس فرض کو نبھایا۔ آج ریاست پاکستان میں ان سرنگوں کا صفایا ہو چکا ہے دہشت گرد بھاگ چکے ہیں ۔اور سرنگیں افواج پاکستان کے کنٹرول میں ہے۔ اس رپورٹ کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بحیثیت قوم اور ریاسست ہم نے پرائی جنگ میں کود کر وہ غلطی کی ہے جس کا ازالہ کرنا پڑ رہاہے ۔ یعنی طا لبان ہمارے ملک کے سر زمین میں اس حد تک قا بض چکے تھے ۔کہ ہمارے خلاف لڑنے کے اڈے بھی ہمارے ملک کے اندر بنا چکے تھے۔ پورے پاکستان اور خاص طور پر فاٹا اور صوبہ خیبرپختونخوا کی عوام نے اس جنگ کی وجہ سے جو مصیبتیں برداشت کی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔آج تقریباًطالبان کا صفایا ہو چکا ہے اور پاکستان سے گوریلہ وار کا خاتمہ ہو چکا ہے فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں امن قائم ہو چکا ہے لیکن جاتے جاتے ایک سبق چھوڑ گیا کہ جب فرد معاشرہ اور ریاست اپنے مفادات کو پس پشت ڈال چند ڈالرز کے اصول یا پھر خوف کی وجہ سے اپنی غیرت اور عزت کا سودہ کرتے ہیں ۔ تواس کا خمیازہ ان کو بھگنا پڑے گا۔


ای پیپر