نواز شریف کے چہار درویش
04 مئی 2018

طوطا، مینا، چڑیا اور کوا اس قدر چالاک اور ہوشیار جانور ہیں کہ شکاری کو دور سے آتا دیکھ کر اپنی کمر کس لیتے ہیں۔کوا تو اس قدر چالاک ہے کہ شور مچا کر اپنے دوسرے ساتھیوں کو خبردار کر دیتا ہے کہ بھاگو ورنہ آدمی کی موت مارے جاؤ گے۔ لیکن یہ قابو صرف دانے دنکے کے لالچ اور طمع کی وجہ سے آتے ہیں۔ ورنہ ان کو قابو کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ انسان بذات خودشاطر اور چالاک کم ہوتا ہے۔ اس کو شاطر اور چالاک بنانے میں اس کے دوست احباب عزیز رشتہ دار، ہم پیالہ و ہم نوالہ اور اس کے مصاحب ہوتے ہیں۔ وہ انسان جب بھی کسی افتاد میں پڑتا ہے تو اس کے پیچھے شاہ اور شاہ سے زیادہ وفا دار لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ پھر جب وہ انسان تباہ و بر باد ہوتا یا ڈوبتا ہے۔ تو وہ تنہا ہوتا ہے۔ اور اس کے پیچھے کوئی کابینہ تو دور کی بات ایک تنکے کا سہارا بھی نہیں ہوتا۔ پھر سارے وفادار ہاتھ پر ہاتھ دھرے اور پاؤں پسارے ڈوبنے والے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بقول شاعر
عقل کے سوگ مار دیتے ہیں
عشق کے روگ مار دیتے ہیں
آدمی خود کبھی نہیں مرتا
دوسرے لوگ مار دیتے ہیں
نواز شریف کی حکومت اور ذاتیات کو سب سے زیادہ نقصان ان کے حواریوں نے پہنچایا۔ خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ ، مریم نواز اور مریم اورنگ زیب یہ چار افراد ایسے ہیں۔ جن کی وجہ سے نواز شریف کو یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے لوہے کے چنے چبانے والے فقرے نے پوری ن لیگی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا حالانکہ ناکوں چنے چبانا ہم سنتے آئے تھے۔ لوہے کے چنے چبانا پہلی بار سنا تھا۔ جبکہ چیف جسٹس کی پیشی کے بعد پریس کو بیان دیتے ہوئے ان کی باڈی لینگوئج اور تھی اور ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے ان
سے بڑا مظلوم اور کوئی ہے ہی نہیں۔ اور بات بات پر بھیگی بلی بنے جا رہے تھے۔ یہ وہ رویہ تھا جس نے خواجہ سعد رفیق کی سیاسی ریٹنگ میں کمی کی۔ دوسری اہم شخصیت جس نے نواز شریف کی سیاسی زندگی کو مفلوج کیا وہ رانا ثناء اللہ ہیں۔ ان کے بارے میں تو بقول منیر نیازی میں یہ کہوں گا
میری ساری عمر کو بے اثر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
راناثناء اللہ وہ واحد ن لیگی لیڈر ہیں (بلکہ دوسری دفعہ صوبائی وزیر قانون بھی ہیں)۔ جنہوں نے کسی بھی پریس کانفرنس یا اپنی نجی تقریر میں سوائے مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کے دوسرا کوئی کام نہیں کیا۔ ان کا حالیہ بیان کہ عمران خان کے جلسے میں جو خواتین لائی گئیں ان کے ٹھمکے صاف بتا رہے تھے کہ وہ کہاں سے آئیں؟ خواتین جلسے میں جہاں سے مرضی آئیں مگر ہمارے معاشرے میں عورت کا ایک مقام ہے۔ عورت کا ایک تقدس ہے۔ عورت کی ایک عزت ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسا بیان دینا انسان کی اپنی عقل ، فکر، سوچ اور شخصیت کو اجاگر کرتا ہے۔ لہذا رانا صاحب کو سوبر اور پڑھے لکھے وزیر ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔ رانا صاحب نون لیگ کی سینئر قیادت ہیں۔ اور انہوں نے کڑے وقت میں بھی نون لیگ کو نہیں چھوڑا تھا۔ اور پرویز مشرف کے دور میں کافی جبر کا شکار بھی رہے ہیں۔ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے والی کہاوت کو مریم نواز نے خوب نبھایا۔ ان کے پاس نہ کوئی جائیداد تھی اور نہ کوئی گھر تھا۔ وہ اپنے والد محترم کے ساتھ رہتی تھی۔ ان کا اپنے والد کے ساتھ ہر جلسے میں جانا پریس کانفرنس کرنا۔ عدلیہ کے بارے میں بیانات دینا خواہ مخواہ میں عوام کی بے جا حمایت کرنا اور اپنے آپ کو بی بی بے نظیر جیسا ثابت کرنا ان کی سب سے بڑی کوشش تھی اور ہے۔ ان کا یہ ثابت کرنا کہ پاکستان اور ن لیگ ہماری وجہ سے قائم و دائم ہے اپنے ہی کارکنوں میں نفرت پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ مریم نواز جو نیئر لیگی ممبر ہوتے ہوئے بھی خود کو ن لیگ کی سرپرست اعلی تصور کرنے لگی تھیں۔ ان کی یہ سوچ، فکر اور عمل بھی سینئر ممبر کو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ اور وہ خود کو کسر نفسی کاشکار سمجھنے لگے تھے۔ مریم اورنگ زیب نے اس کردار کو خوب نبھایا۔ بات بات پہ پریس کانفرنسز، بات بات پہ بیانات مریم اورنگ زیب کا خاصہ رہا ہے اور ہے۔ مریم اورنگ زیب یہ سمجھتی ہیں کہ مسلم لیگ ن کی ناک صرف اس کی وجہ سے قائم و دائم ہے اور وہ ن لیگ کی عزت و ناموس کی پہرے دار بھی ہیں۔ اور اس کی حفاظت بھی فرما رہی ہیں۔ اور نواز شریف کی اس سے بڑی خیر خواہ کوئی نہیں ہے۔
کسی دوسری پارٹی پر کیچڑ اچھالنے اور ذاتیات پر تنقید کرنے کو سیاست اور لیڈر شپ نہیں کہتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبیؐ نے اپنے اخلاق کے ذریعے اور اپنے کردار کے ذریعے اسلام کا بال بالا کیا اور دشمنوں کو دوست کیا۔ سخت سے سخت الفاظ سنے مگر ہمیشہ کلمہ خیر کہا۔ ہمارے بانی پاکستان نے پوری سیاسی زندگی میں نہ کسی پر کیچڑ اچھالا اور نہ ہی کسی کی ذاتی زندگی کو اور اس کی ذاتیات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور سیاست کو اپنے ذاتی مفادات سے بالائے طاق رکھا۔ گو نواز شریف پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں، اقامے کا معاملہ بھی ہے۔ لندن میں فلیٹس کی نشاندہی کے معاملات بھی چل رہے ہیں۔ بیٹوں سے تنخواہ نہ لینے والا مسئلہ بھی ہے۔ یہ تمام فیکٹرز الگ ہیں۔ مگر ان چہار دردیشوں نے نواز شریف کی ذات اور ن لیگ کو اچھا خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ جس کی وجہ سے نواز شریف اور ن لیگ کو یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی پارٹی کو اپنا مورال بلند کرنا ہے تو پہلے اپنی اخلاقیات کو بہتر بنانا ہو گا۔ اخلاقیات بہتر ہو گی تو کردار خود بخود بہتر ہو جائے گا۔ ورنہ قصہ چہار درویش آپ کے سامنے ہے۔


ای پیپر