ایک سو موٹو اور سہی
04 مئی 2018

فٹ بال کے کھیل میں گول کیپر کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مخالف ٹیم کی طرف سے گول کرنے کی ہر کوشش کا دفاع کرے اور گول سکور نہ کرنے دے۔ لیکن اگر یہی گول کیپر اپنا اصل کام بھول کر دفاع خالی چھوڑکر بال لے کر مخالف ٹیم کے گول کی طرف دوڑ پڑے، نیت اس کی یہ ہو کہ اس نے گول کر کے ہی چھوڑنا ہے۔ تو آپ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ایسا تو نہیں ہو گا کہ وہ گول کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن دفاع خالی چھوڑ دینے کی وجہ سے وہ اپنی ٹیم کے خلاف گول لازمی کروا بیٹھے گا۔ بالکل ایسا ہی اگرریاستی ادارے اپنا اپنا کام کرنے کی بجائے دوسرے کا کام سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو گول ریاست کے خلاف ہی ہو جاتا ہے۔ کیا آپ کسی ایسے شخص کو شاباش دیں گے جو وہ کام تو ٹھیک سے نہ کرے جس کی اسے تنخواہ ملتی ہو، جس کی انجام دہی اس کی اولین ذمہ داری ہو۔ اس کے بجائے وہ ایسا کام کر کے آجائے جو اس کی ڈیوٹی ہی نہ ہو اور وہ اس پر آپ سے داد بھی طلب کرے؟ آپ یقیناًاس کو شاباش دینے کی بجائے ڈانٹ ہی پلائیں گے۔ اپنے فرائض ادا نہ کرنے کی یہ وضاحت ہو ہی نہیں سکتی کہ آپ دوسرے کے حصے کا کام کرنے میں مصروف تھے۔ دوسرے کے حصے کا کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلے اپنے سارے کامنبٹا لیں۔ اپنے فرائض ادا کیے بنا دوسرے کے کام میں گھسنے والے کو فرض شناس نہیں مانا جاسکتا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار ان دنوں ہر ملک کی ہر برائی ختم کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ یقیناً یہ قابل ستائش عمل ہے۔ لیکن زیادہ بہتر ہوتا اگر وہ پہلے عدالتی معاملات درست فرما لیتے۔ برس ہا برس سے زیر التواء مقدمات اور کرپشن سے عدالتی نظام بھی ویسے ہی آلودہ ہے جیسے پاکستان کے دوسرے ادارے۔
میں سب سے پہلے اپنا گھر صاف کرنے کے بیانیہ کو درست گردانتا ہوں۔ لیکن چونکہ چیف جسٹس صاحب سو موٹو لے ہی رہے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو درست کرنا ان کی خاص ترجیح ہے۔ میں ایسے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کی توجہ پاکستان فارمیسی کونسل کے معاملات کی طرف دلواوں۔ پاکستان فارمیسی کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ملک میں قائم فارمیسی کالجز کو چیک کرتے رہنا ہے کہ وہاں سب کچھ فارمیسی کے قواعد کے مطابق چل رہا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نئے فارمیسی اسکولز کو قواعد و ضوابط کے مطابق رجسٹرد کرنا ہے۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اتنا اہم ادارہ پچھلے دو سال سے عبوری سیکرٹری کے سر پر چل رہا ہے۔ حیران کن طور پر نہ صرف پاکستان فارمیسی کونسل بلکہ پبجاب فارمیسی کونسل کا بھی سارا بوجھ ''عبوری'' سیکرٹری کے کاندھوں پر ہے۔ محکمہ صحت کے صوبائی اور وفاقی سیکرٹریوں کو 22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں دو ایسے نابغے نہیں مل پا رہے جنہیں مستقل طور پر پنجاب فارمیسی کونسل اور پاکستان فارمیسی کونسل میں بطور سیکرٹری تعینات کیا جا سکتے۔ پنجاب فارمیسی کونسل کا عبوری اور اضافی چارج ڈاکٹر زکاء کے پاس ہے جو اس ذمہ داری کے علاوہ چلڈرن ہسپتال میں فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ اتنے اہم ادارے کے معاملات کو دیکھ پائیں۔
سیکرٹری صحت پنجاب کا وعدہ ہے کہ اگلے دس دن کے اندر وہ مستقل سیکرٹری کی تعیناتی کر دیں گے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ان کے اس فیصلے سے پنجاب فارمیسی کونسل کے ملازمین اور لائسنس کے حصول کے لئے دربدر فارمسسٹ میں خوشی کی لہر سی دوڑ گئی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ پاکستان فارمیسی کونسل کے ساتھ درپیش ہے۔ادارہ 2 سال سے بھی زائد عرصہ سے عبوری سیکرٹری کے سہارے پر چل رہا ہے اور وفاقی سیکرٹری صحت ’بوجوہ ‘کسی بھی صورت مستقل سیکرٹری کی تعیناتی پر آمادہ نہیں۔ عبوری سیکر ٹری فارمیسی کونسل کا عہدہ عارضی بنیادوں پر ہوتا ہے جس کا بنیادی مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ مستقل سیکرٹری کی تعیناتی تک پوزیشن خالی نہ رہے۔لیکن بغیر تنخواہ کام کرنے والے سیکرٹری فارمیسی کونسل اے نے ''بھرپور'' کام کرتے ہوئے عبوری دور میں ہی 90 سے زائد کالجز رجسٹرڈ کر دیے جو کہ ان کا دائرہ ختیار نہیں تھا۔2سال قبل سبکدوش ہونے والے مستقل سیکرٹری پاکستان فارمیسی کونسل نذیر الدین احسن کے دور میں رجسٹرڈ فارمیسی کالجز کی تعداد 10 سے کم تھی لیکن عبوری سیکرٹری نے صرف2سال کے عرصے میں یہ تعداد 103 تک پہنچا دی۔ جو کہ ہر لحاظ سے حیران کن امر ہے۔
محترم چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کو شک بھی گزر جائے کہ ملک میں میرٹ سے ہٹ کر کچھ ہو رہا ہے تو وہ فورا سو موٹو لیتے ہیں لیکن اتنا اہم ادارہ پچھلے 2سال سے عبوری طور پر چلایا جا رہا ہے اور جس تیزی سے نئے کالجز رجسٹرڈ کیے جارہے ہیں۔ ان معاملات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دال اچھی خاصی کالی ہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ قواعد سے ہٹ کر رجسٹرڈ کئے گئے کالجز میں مبینہ طور پر سیکرٹری پاکستانی فارمیسی کونسل کا بھی حصہ ہے۔ عزت مآب چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ پاکستان فارمیسی کونسل کے معاملات پر سو موٹو لیا جائے تا کہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔کیونکہ اگر یہ کالجز میرٹ کی خلاف ورزی کر کے رجسٹرڈ کیے جا رہے ہیں توآپ تصور کرسکتے ہیں کہ آنے والے دور کے فارماسسٹ کیسے ہوں گے اور ان کی اہلیت و صلاحیت کا کیا عالم ہوگا اور موقع اور منصب ملتے ہی وہ عام پاکستانیوں کی صحت کے ساتھ کیسا کھلواڑ کریں گے۔


ای پیپر