زخم زخم شام

04 مئی 2018

ریاض احمد احسان

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام میں جاری جنگ کو سات سال مکمل ہو گئے اور اس دوران تقریباً پانچ لاکھ شامی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ شام میں جاری جنگ کی ساتویں برسی کے موقع پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے اسے ایک انتہائی شدید انسانی المیے کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان7برسوں میں تقریباً 5لاکھ شامیوں نے اپنی جان کھوئی اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ کے قریب ایسی حالت میں ہیں کہ جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے ۔نارویجین ریفیوجی کونسل کے سیکرٹری جنرل جین ایگلینڈ کا کہنا ہے ’کڑوا سچ یہ ہے کہ سکیورٹی کونسل اپنی قراردادوں کا اطلاق کرانے میں ناکام رہی ہے۔ تصادم میں فریقین نے سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو نظر انداز کیا اور شہری محفوظ نہیں ہیں اور ان تک امداد کی رسائی نہیں ہے‘۔عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ
’اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل شام میں عام شہریوں کی حفاظت اور مدد کرنے کے حوالے سے قراردادوں کا اطلاق کرانے میں ناکام رہی ہے{۔یہ بات21 امدادی تنظیموں بشمول’ سیو دا چلڈرن‘ اور’ آکسفیم‘ نے کی ہے۔ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں 7سال سے جاری مسلح تصادم میں یہ سال ’بدترین‘ سال ہے۔ 48 لاکھ افراد ان علاقوں میں رہتے ہیں جن علاقوں بارے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہاں ’رسائی نہایت مشکل ہے‘ ۔تنظیموں کی جانب سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011 ء میں شروع ہونے والے تصادم کے بعد سے شام کے 83 فیصد علاقے میں بجلی نہیں ہے۔ ادھر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترک فوج عفرین میں کسی بھی وقت داخل ہو سکتی ہے، عفرین پر قبضے کے بعد اسے شامی حکومت کو نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شامی علاقہ عفرین جلد ہی دہشت گردوں سے پاک ہو جائے گا اور پورا علاقہ مکمل طور پر ہماری گرفت میں آجائے گا، ہم مغربی ملکوں کی طرح سویلین کو ہلاک نہیں کر رہے، عنقریب شمالی عراق میں بھی دہشت گردوں کا سر کچل دیا جائے گا۔
مقامِ افسوس ہے کہ اقوام متحدہ جس کے قیام کا بنیادی مقصد انسانیت کو جنگ کی تباہ کاریوں اور انسانی المیوں سے محفوظ کرنا بتایا گیا تھا آج یہ ادارہ لاشۂ بے جا ن بن چکا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی پالیسی سازوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کو جغرافیائی سطح پر ایک نئی شکل دیں گے۔ اس پالیسی کا نام پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے ری شیپنگ دی مڈل ایسٹ رکھا تھا۔ سینئر بش کی طرف سے آغاز کی گئی ام المحارب کے بعد 21ویں صدی کے آغاز پر جونیئر بش نے مارچ 2003ء میں عراق پر دوبارہ دھاوا بولا ۔ فضائی اور اسلحی بالادستی کے بل بوتے پر امریکی غیرقانونی طور پر عراق پر قبضے کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن جونہی امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے عراق کی سرزمین پر قدم رکھا تو انہیں شیعہ اور سُنی تمام مذاہب و مسالک کی جانب سے جارح ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بین المسالک یکجہتی کے حامل امریکہ مخالف یہ مظاہرے امریکہ کے خواب و خیال میں بھی نہ تھے۔ لہٰذا مشرق وسطیٰ کے تشکیلِ نو کی قابل مذمت پالیسی کے تحت بغداد شہر کو شیعہ بغداد اور سُنی بغداد میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ عراق کے سُنی اور شیعہ دونوں رہنماؤں نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی ۔ اس مخالفت کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی کوشش رہی کہ مشرق وسطیٰ کے ہر ملک میں کسی بنیاد پر اختلافات اور تصادمات کی فصل کاشت کرنے کے لئے انتشار کے بیج بوئے جائیں۔ شام میں ڈکٹیٹر بشارالاسد کے خلاف شامی عوام کی جمہوریت کی بحالی اور موروثی ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے کی زبردست تحریک کو شیعہ سُنی جنگ بنا کر رکھ دیا گیا۔ ایک طرف شیعہ ملیشیاز بشارالاسد کی حمایت میں کھڑی ہو گئیں جبکہ دوسری طرف سُنی تنظیمیں القاعدہ اور داعش کے پلیٹ فارم پر جمع ہو گئیں۔ شام میں جمہوریت کی بحالی اور موروثی ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے کی تحریک کو فرقہ وارانہ فسادات کی نہ بجھنے والی آگ کا ایندھن بنا دیا گیا۔ا ندریں حالات عالمِ اسلام کے حکمرانوں اور رہنماؤں کو حکمت و تدبر سے کام لیتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی ریشہ دوانیوں کے خلاف متحد ہوکر منظم تحریک شروع کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں وہ عناصر جو 21ویں صدی میں بھی عرب و ایران تصادم کو فروغ دینا چاہتے ہیں وہ نہ تو عرب ممالک کے خیرخواہ ہیں اور نہ ہی ایران کے۔ اس دوران بین الاقوامی اداروں کو آگے بڑھ کر ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے اور یمن اور سعودی عرب کے قائدین کو جنگ کی شاہراہ کا مسافر بننے کی بجائے مذاکرات کی میز کی جانب اپنے قدم بڑھانا چاہئیں۔ عالمِ اسلام کے مقتدر طبقات کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔
انتشار اور عدم استحکام کی صورت حال عراق، شام ، لیبیا اور تیونس کو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچا چکی ہے۔ ہمارے نزدیک خطے میں نئے نئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا اصل مسئلہ فلسطین شامی و یمنی بحران کے شور شرابے میں دب کر رہ گیا ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے وہ ممالک جہاں فوجی آمریتیں، ملوکیت اور موروثی بادشاہت ہے، انہوں نے بیت المقدس اور فلسطینیوں کی آزادی کے اہم ترین مسئلے پر کبھی توجہ نہیں دی۔ اس حقیقت سے عالم اسلام کا ہر باشعور اور باخبر شہری بخوبی آگاہ ہے کہ موجودہ حالات میں جب عالمی استعمار مسلم ممالک میں عدم استحکام اور انتشار پھیلا کر عراق ، شام اور لیبیا کی طرح اُن کی توڑ پھوڑ،ٹوٹ پھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کے منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، کسی بھی مسلم ملک کے شایان شاں نہیں کہ وہ دوسرے مسلم ممالک میں فرقہ واریت کے فروغ کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے۔تاہم یہ امر غنیمت ہے کہ عالم عرب سے باہر دوسرے مسلمان ممالک پاکستان، ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا فرقہ واریت کے اس مہلک اور تباہ کن فتنے سے ابھی تک محفوظ ہیں۔

مزیدخبریں