وزیر اعلیٰ کی معافی کافی نہیں۔۔۔
04 مئی 2018



الیکشن قریب آتے ساتھ ہی ملک میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے جلسوں جلوسوں نے ماحول کو گرما دیا ہے ۔ گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی نے مینار پاکستان لاہور کے مقام پر پاور شو کا اہتمام کیا جس میں بلا مبالغہ لوگوں کی بہت بڑی تعدا د نے شرکت کی تھی ۔پی ٹی آئی نے شرکاء کی تعداد 5لاکھ بتائی جبکہ میڈیا کے آزاد ذرائع اس تعداد کو 80ہزار بتا رہے ہیں۔
اس جلسہ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے گیارہ نکاتی انتخابی منشور پیش کیا گیا جس پر کافی واویلا مچا ہو ا ہے ۔ آرٹیکل لکھے جا رہے ہیں ٹاک شوز میں گفتگو ہو رہی ہے۔ نکات کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی اس کو بہترین قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالفین کی نظروں میں کوئی خاطر خواہ بات نہیں کچھ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ چیئر مین پی ٹی آئی نے اپنے منشور کے اعلان کے لئے لاہور کی جگہ ہی کیوں منتخب کی ، جہاں عمران خان نے پانچ برسوں تک حکومت کی ہے اس صوبے کے عوام کے سامنے انہوں نے اپنے منشور کا اعلان کیوں نا کیا ؟اگرچہ میں اس بات سے پوری طرح متفق ہو ں کہ جو جو جماعتیں جس جس صوبوں میں حکومت کرتی رہی ہیں ان کو انتخابی منشور وہاں کے عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے ۔تاکہ لوگ ان کی کارکردگی کو جانچ سکیں ۔
بہر کیف ہر جلسہ کی طرح اس جلسہ میں بھی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مخصوص انداز میں ناچ گانا بھی ہوتا رہا ۔خواتین کے ساتھ بد سلوکی کی فوٹیج بھی الیکٹرونک میڈیا پر مسلسل چلتی رہی ۔اور جلسہ کے اختتام پر حکومتی صفوں سے ردعمل بھی سامنے آیا ۔ ماضی کی طرح اس بار بھی پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے جلسہ میں شریک خواتین کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ذاتیات پر حملہ کیا اور کہا کہ ’’29اپریل کے جلسہ میں وہ خواتین موجود نہیں تھیں جو 30اکتوبر کے جلسہ میں تھیں ، کل کے جلسہ میں جو خواتین موجود تھیں ان کے ٹھمکے بتا رہے تھے کہ وہ کہاں سے آئی ہیں ‘‘۔
رانا ثناء اللہ کے اس نا زیبا بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے ۔ یہ کو ئی پہلا موقع نہیں ہے کہ رانا ثناء اللہ نے خواتین بارے ایسے اخلاق باختہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔وہ ماضی قریب میں بھی اس قسم کے متعدد بیانات دے کر جہاں ایک طرف حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بن چکے ہیں وہاں دوسری طرف ملک و قوم کی رسوا ئی کا بھی سبب بنے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
ٹھمکے لگانے کے حوالے سے مجھے رانا ثناء اللہ کا وہ انٹرویو یاد آرہا ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ میری بیٹی بہت اچھا ڈانس کرتی ہے۔ رانا صاحب کو ذاتیات پر اترنا نہیں چاہیے۔ ورنہ اس ملک میں ایک مرتبہ پھر گند اچھالنے کی سیاست شروع ہو جائے گی۔ شہباز شریف رانا ثناء اللہ کے بیان پر خود معافی مانگنے کی بجائے ان کے خلاف سخت ایکشن لیں اور ان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلبی کی جانی چاہیے۔ ساہیوال میں نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اداروں کے نام لئے بغیر ان کو اپنے نشانے پر رکھتے ہوئے تمام فیصلوں کو عوامی ووٹ سے مسترد کرنے کی بات کی ہے ۔اگرچہ ان کے مؤقف میں ووٹرز سے رجوع کے حوالے سے تبدیلی خوش آئندہے ۔ مگر اداروں سے محاذ آرائی کو کسی بھی طور پر قابل ستائش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے غلط روایات جنم لیں گی۔ نواز شریف کو ان کی اپنی غلطیوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ انہیں موجودہ حالات کا ٹھیک ادراک کرتے ہوئے مستقبل کی پلاننگ کرنی چاہیے۔ اس وقت وہ اور ان کی فیملی عملاً 2018ء کے انتخابات سے باہر ہو چکی ہے ۔
ایم ایم اے نے بھی مردان سے عملی سیاست کا آغاز کر دیا ہے ۔اور اگلا جلسہ عام 13مئی کو مینار پاکستان کے سبزہ زار میں کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔دیکھنا یہ ہو گا کہ ایم ایم اے میں شامل جماعتیں پی ٹی آئی کے پاور شو سے زیادہ طاقت کا مظاہرہ کر سکیں گی کہ نہیں ۔حکومت کی مدت کے اختتام کو صرف ایک ماہ کا وقت رہ گیا ہے ۔کئیر ٹیکر حکومت کے خدو خال ہنوز واضح نہیں ہو سکے ۔عبوری حکومت میں کون کون شامل ہو گا اس معاملے کے لٹکنے سے ایک نئے سیاسی بحران کا خدشہ ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے سیاسی قائدین فہم و فراست کا مظاہر ہ کریں، ایسے صاف ستھرے ،بے داغ افراد کو آگے لائیں جن پر تما م سٹیک ہولڈر کا اعتماد ہو اور وہ 2018ء کے انتخابات کے انعقاد کو شفاف بنانے میں اپنا کر دار ادا کریں۔


ای پیپر