Photo Credit Yahoo

عمران خان کا وزیراعظم بننا پاکستان کیلئے بدقسمتی ہوگی:مولانا فضل الرحمن
04 مئی 2018 (22:15)

ملتان:جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان اگروزیراعظم بنے تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہوگی ،اگرسیاستدان عوام کو کچھ ڈیلیور نہیں کرسکے تو عدلیہ جوڈیشل مارشل لاءلگادے۔فاٹا کے حوالے سے وزیراعظم کی حالیہ تقریر پر شدید تشویش ہے۔نوازشریف اور زرداری ہمارے دوست ہیں لیکن ہم الیکشن ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر لڑیں گے۔پیپلزپارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔13مئی کو مینارپاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کریں گے۔متحدہ مجلس عمل کے مقابلے میں بننے والے مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے۔

شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کیا گیا توادارے ذمہ دار ہوں گے۔ملتان میں مدرسہ قاسم العلوم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکلات میں گھرا ہوا ہے الیکشن بروقت ہونے چاہیئں لیکن داخلی بحران کی وجہ سے میں یہ بات حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جو آنے والے وقتوں میں فعال کر دار ادا کرے گی اور تیرہ مئی کو مینار پاکستان پر ایم ایم اے کا جلسہ تاریخی ہو گا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اسمبلی میں حالیہ تقریر پر تشویش ہے اور تحفظات ہیں فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے وہ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں یقینا فاٹا میں اصلاحات اور ترقیاتی کام ہو ئے ہیں پس پردہ ریاستی قوتیں عوام سے ووہٹ کا حق چھین رہی ہیں 13مئی کا مینا ر پاکستان پر ایم ایم اے کا جلسہ عوامی طاقت کا مظاہرہ اور ہماری انتخابی مہم کا آغاز ہو گا جس میں ناچ گانا یا پینا فیلیکسوں کا مظاہرہ نہیں ہو گا البتہ پنجاب سمیت ملک بھر کے کارکن شریک ہوں گے.

انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے ایک سیاسی قوت بن چکی ہے جس کے مدمقابل اگر کوئی مذہبی قوتیں اکٹھی ہو تی ہیں ہم انہیں بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ عوام اور سیاستدان بھی نہیں جانتے کہ پس پردہ کیا ہورہا ہے اور کون کر رہا ہے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والے پانچ سال کہاں سوئے رہے ہیں وہ اصل میں اب اپنی سیاسی دکان سجانا چاہتے ہیں جمیعت علماءاسلام (ف ) پہلے ہی سرائیکی اور بہاولپور صوبے کی حمایت کر چکی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اسمبلی میں فاٹا کے حوالے جو خطاب کیا ہے ہمیں اس پر سخت تشویش ہے فاٹا کی عوام سے پوچھا جائے کہ وہ کے پی کے میں ضم ہونا چاہتے ہیں کہ نہیں پارلیمانی قوتوں کو حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیےانہوں نے کہا کہ زرداری اور نواز شریف یقینا ہمارے دوست ہیں زاتی تعلقات اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن سیاسی راہیں ہمیشہ جدا ہوتی ہیں ہم 1988سے روابط کی غلام گردش میں گھرے ہو ئے ہیں جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے اس سے تعلقات رکھنا ایسے ہے جیسے اسرائیل سے تعلقات رکھنا ہیں عمران خان اگر ملک کے وزیراعظم ہوئے تو یہ ملک کی بدقسمتی ہو گی.

چیف جسٹس کے اقدامات سیاستدانوں کو ڈی گریڈ کرنا اور ان کی اہمیت ختم کرنے کے مترادف ہے میں عوامی نمائندے کی حیثیت سے چیلنج کرتا ہوں کہ ایک سال تک مارشل لاءلگایا جائے اور پھر مارشل لاءلگانے والوں کو عوام میں بھیجا جائے انہیں آٹے دال کا بھاﺅ معلوم ہوجائے گا آج میڈیا کے زریعے سیاستدانوں کا استحصال کیاجارہا ہے موجودہ حکومت نے 100جگہ اچھے کام بھی کئے ہوں گے وہ کیوں نظر نہیں آرہے اور صرف چند کمزوریوں کو کیوں اچھالا جارہا ہے جبکہ حکمرانوں کی اچھائیاں چھپائی جاتی ہیں اور برائیاں میڈیا کے زریعے دکھائی جاتی ہیں جو یہ سب کچھ کرواتے ہیں ہم ان مکار دوستوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں انصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والے خدارا انصاف فراہم کریں میرا بھی ایک حلقہ انتخاب ہے ضروری نہیں کہ میں نے سو فی صد پسماندگی دور کی ہو گی لیکن میگا پراجیکٹس پر کام کیا ہے اور میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں پنجاب میں نہری پانی کی قلت نے کسانوں کو تباہ کیا ہے اور اب دریاﺅں میں بھی پانی نہیں ہے آج بھارت ڈیم پر ڈیم بنارہا ہے متحدہ مجلس عمل کا تجربہ پہلی بار نہیں ہے یہ اتحاد پہلے بھی کامیاب ہو چکا ہے جب یہ اتحاد نہیں تھا جو کچھ ہوا وہ قوم کے سامنے ہے ایم ایم اے جب نہیں تھی تو اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کا ذمہ دار کون ہے اس پر بحث اب نقصان کا باعث ہو گی آنکھوں ہی آنکھوں میں شکوے کرنا بہتر ہے ہم سیاست کے ساتھ ساتھ زاتی تعلقات پر بھی یقین رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں.

ہم یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں ملک خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکلات میں گھرا ہوا ہے پاکستان اب مزید کسی داخلی بحران کامتحمل نہیں ہو سکتا لیکن اداروں اور فوج کا احترام کرنا چاہیئے اور ہم یہ احترام کرتے ہیںانہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر، سیالکوٹ اور بہاولنگر سیکٹر پر گولہ کر رہا ہے افغانستان اور امریکہ متحد ہو کر ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں اس لئے داخلی اور خارجی محاذ پر مضبوط ہونا ہوگا اور بحران سے نکلنا ہو گا انہوں نے کہا کہ کچھ ادارے پاکستان کو لبرل پاکستان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم سعودی عرب پر تو انگلیاں اٹھاتے ہیں لیکن اپنے ملک کی طرف نہیں دیکھتے سیاستدانوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے آنے والے عام انتخابات میں مستحکم سیاست کے امکانا ت کم ہیں عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا کسی بھی ادارے کو دیوار سے نہ لگایا جائے توحالات بہتر رہیں گے انہوں نے کہا کہ شکیل آفریدی کو اگر امریکہ کے حوالے کیا گیا تو ادارے ذمہ دار ہوں گے انہوں نے کہا کہ الیکشن بروقت ہونے چاہیئں لیکن داخلی بحران کی وجہ سے میں یہ بات حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے بعدازاں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا گیا کہ کیاپیپلز پارٹی اور ایم ایم اے میں اتحاد ہو سکتا ہے تو مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فی الحال تو ایم ایم اے کا اپنا اتحاد موجود ہے البتہ سیاست میں مینڈیٹ کو دیکھا جاتا ہے.

جب الیکشن قریب ہوں گے تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نگران حکومت بنانے کا فارمولا بالکل سادہ ہے جس کے لئے آئین کے مطابق لیڈر آف دی ہاﺅس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کا متفق ہونا ضروری ہے اور اس حوالے سے اب تک مثبت خبریں سامنے آ رہی ہیں مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا گیا کہ کیاوجہ ہے کہ آپ کے بغیر کوئی حکومت مکمل نہیں ہوتی تو انہوں نے جواب دیا کہ یا تو حکومت ہمارے بغیر بنتی ہی نہیں یا پھر چلتی ہی نہیں ہے ہم تو حزب اختلاف مزاج کے لوگ ہیں اور اپنی بساط کے مطابق سیاست میں کردار ادا کرتے ہیں اور کرتے رہیں اور جو بس میں ہو گا وہی کریں گے مولانا فضل الرحمن سے جب ملک میں جاری مہنگائی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ویسے تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم رہے ہیں وہی اس کا بہتر جواب دیں گے لیکن میرے نزدیک جب بھی ملک میں سیاسی بحران پیدا کیا جاتا ہے تو مہنگائی کا گراف بڑھ جاتا ہے جب حکمران عدالتوں کے کٹہرے میں ہوں گے تو ادارے کیا خدمت کریں گے ۔


ای پیپر