Photo Credit Yahoo

 سی پیک کے مختلف پہلوﺅں کے جائزے کیلئے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، چیف جسٹس
04 مئی 2018 (21:15) 2018-05-04

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ضروری اور سستے انصاف کیلئے عدالتی اصلاحات میری ترجیح ہیں، بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد متعلقہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے معاون ثابت ہونا ہے، انصاف میں تاخیر اور مقدمات کی بھرمار پر تشویش ہے، عدلیہ معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہے، سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان سماجی اور اقتصادی ترقی کا منصوبہ ہے۔ سی پیک سے ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی، سی پیک کے مختلف پہلوﺅں کے جائزے کیلئے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، یکساں انصاف کے بغیر عام آدمی تک معاشی فوائد نہیں پہنچ سکتے۔

جمعہ کو 8ویں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کانفرنس شرکاءکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اگست 2006میں سپریم کورٹ نے بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کرائی جس کے بعد سے ہر سال یہ کانفرنس منعقد کرائی جاتی ہے۔ جوڈیشل کانفرنس کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے، کانفرنس کا انعقاد متعلقہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے معاون ہوتا ہے۔ انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں ایک ہے۔ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان سماجی و اقتصادی ترقی کا منصوبہ ہے۔ کانفرنس کا انعقاد قانونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے معاون ہوتا ہے۔ سی پیک سے بھرپور استفادے کیلئے تمام عوامل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ سی پیک سے ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی۔ مساوی حقوق کی بنیاد پر ہی معاشرے کی ترقی کی راہ کا تعین ہوتا ہے۔ یکساں انصاف کے بغیر عام آدمی تک معاشی فوائد نہیں پہنچ سکتے۔ مشہور چینی مفکر کا قول لے کہ طوفان آنے پر کچھ لوگ دیوار اور کچھ پن چکیاں بن جاتے ہیں۔ تیز ہوا چلے تو ہمیں بھی پن چکی بنانیوالوں میں ہونا چاہیے۔

انصاف میں تاخیر اور مقدمات کی بھرمار پرتشویش ہے۔ بطور چیف جسٹس فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کی کوشش کررہا ہوں۔ فوری اور سستے انصاف کیلئے عدالتی اصلاحات میری ترجیح ہیں۔ اس کانفرنس کا انعقاد زیر التواءمقدمات اور وجوہات پر روشنی ڈالناہے۔ کانفرنس سے سی پیک کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ عدلیہ معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہے۔ تیز تر انصاف کے ذریعے ہی ایسا ممکن ہے سی پیک کے مختلف پہلوﺅں کے جائزے کیلئے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ انصاف کی جلد فراہمی کیلئے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام کیلئے تمام اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم جیسے مقدمات کے حل کیلئے جدید عالمی نظام ناگزیر ہے۔


ای پیپر