Photo Credit INP

 مخالفین کے ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیاجائیگا، نوازشریف
04 مئی 2018 (20:54) 2018-05-04

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد اورسابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ الیکشن میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں ہونے دیں گے، مخالفین کے ہتھکنڈوں کا مسلم لیگ (ن) ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، سینیٹ الیکشن کے دوران ہارس ٹریڈنگ کے نئے ریکارڈ قائم کئے گئے، مجھے مخالفین کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کا تو اپنا ریکارڈ درست نہیں ہے، اکثریت کا فیصلہ مان لیا جاتا تو پاکستان 1971میں دو ٹکڑے نہ ہوتا، تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک مزید بڑھ رہا ہے،ہمارامقابلہ آصف زرداری اور عمران خان سے نہیں بلکہ ان قوتوں سے ہے جو پاکستان کی حامی نہیں ، ہمیں ان قوتوں کو شکست دینی ہے، عمران خان کو کس نے کہا تھا کہ بڑی وکٹ گرنے والی ہے،وہ کس کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں، ہمیں سب معلوم ہے،میرے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں.

وقت آنے پر ضرورت کے مطابق تمام رازوں کو افشا کر دیا جائے گا، بلوچستان سے ایسا چیئرمین سینیٹ لایا گیا جس کو اس کا ہمسایہ بھی نہیں جانتا، عمران خان کا ضمیر کہاں گیا جب انہوں نے سینیٹ الیکشن میں زرداری کو ووٹ دیا، ہمیں ان تمام قوتوں کو شکست دینی ہے جو پاکستان کی حامی نہیں ہیں، عمران نے نیا پاکستان تو بنایا نہیں پرانے کا بھی ستیاناس کر دیا ہے۔وہ جمعہ کویہاں پارٹی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم نے 10ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی اور کارخانوں کا جال بچھایا ہے، ملک بھر میں الجھے ہوئے منصوبوں کو دنوں میں مکمل کیا ہے جو دس دس سال سے التواءمیں تھے، اتنی کم مدت میں مکمل ہوئے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ساہیوال کول پاور پلانٹ کا منصوبہ تیز رفتاری میں اپنی مثال آپ ہے، پوری دنیا میں چین نے شہباز شریف کو پنجاب سپیڈ کہا ہے، لواری ٹنل پر 1975میں کام شروع وہا اور آج ہمارے دور میں یہ مکمل ہوئی ہے، اربوں روپے لگا کر ہم نے اس کو مکمل کیا، ہمیں کوئی دو سال سے زیادہ رہنے نہیں دیتا، پہلے بھی دو باہر نکال دیا گیا اور اب چار سال بعد حکومت سے نکال دیا اقامہ کا بہانہ بنا کر ، اب تو سب مسلم لیگ (ن) کے خلاف برسرپیکار ہو گئے ہیں جو پہلی بار ہورہا ہے پھر بھی لوگ جوق در جوق آ کر ہمیں سپورٹ کر رہے ہیں، صادق آباد میں بھی عوام کا جلسہ مسئلہ لگ رہا تھا، نوجوان لوگوں میں عجیب جذبہ تھا ہمارے لئے، لوگ اپنے ووٹ کو عزت دلانے کےلئے پرعزم ہیں، اللہ تعالیٰ مجھے راستہ دکھا رہا ہے اور مجھے اندھیرے کے آخر میں روشنی نظر آرہی ہے، انسان غلطیاں کرتا ہے اور ہم نے بھی کی ہیں، اللہ ان گناہوں کو معاف فرمائے، آپ کا ضمیراگر کہہ رہا ہے کہ یہ ٹھیک نہیں تو پھر پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے،آپ لوگ بھی پیچھے نہ ہٹیں، جی ٹی روڈ پر جو مناظر دیکھے آج تک ایسا جذبہ میں نے نہیں دیکھا، مخالفین کی تنقید پر مجھے فرق نہیں پڑتا، عمران خان نے دھرنوں اور جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اگر یہ کام نہ کرتے تو آج کے پی کے کی ترقی منہ سے بول رہی ہوتی، نواز شریف نواز نے کے پی کے کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، اگر پشاور میں تبدیلی آئی ہوتی تو مسلم لیگ (ن) کے جلسوں میں عوام نہ آتے، آج لاہور پورے پاکستان میں ترقی میں میں آ گے ہے، بلوچستان جس غیر فطری تبدیلی آئی ہے اور چیئرمین سینیٹ ایسا شخص بنا ہے جس کو اس کا ہمسایہ تک نہیں جانتا، یہ کون سی طاقتیں ہیں جو سینیٹ میں ایس کام کر گئی ہیں، اربوں روپے دے کر ارکان خریدے اور بیچے گئے ہیں، عمران کے لوگ بکے ہیں اس کے باوجود انہوںن ے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے دیا.

عمران خان کو اس کا جواب دینا ہو گا جنہوں نے ان کے ارکان خریدے۔ عمران نے ان کو ہی ووٹ دےدیئے، عمران خان بھی زرداری کا ساتھ دے رہے ہیں جن کو وہ سندھ کی بیماری کہتے تھے، یہ قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں جن پر قوم ان کو معاف نہ کرے گی، یہ لوگ نیا پاکستان بنانے آئے تھے اور پرانے کا بھی ستیاناس کر دیا ہے، عمران خان کو کس نے کہا کہ الیکشن ایک ماہ آگے ہورہے ہیں، آج صرف مسلم لیگ (ن) ہے جو ڈٹی ہوئی ہے تمام قوتوں کے سامنے، ہم تمام ہتھکنڈوں کا مقابلہ کریں گے، ہمارا مقابلہ زرداری اور عمران سے نہیں کسی اور کے ساتھ ہے، اللہ ہمیں فتح سے ہی نوازے گا انشاءاللہ، ایسا نہیں ہوتا کہ مسلم لیگ (ن) کے بندے توڑو اور ان کو نااہل کر دو، ان قوتوں سے مسلم لیگ (ن) کے بندے بھی نہیں ٹوٹے، ہم ایسے نظام کو توڑیں گے، پتہ نہیں ارکان توڑ کر یہ لوگ کرنا کیا چاہتے ہیں، مجھے لوٹوں سے بھی کوئی گلہ نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ جس کے پاس ہو گا اللہ کا کرم اس کے ساتھ ہو گا، مسلم لیگ (ن) کا امیدوار ہی آئندہ الیکشن میں جیتے گا، میرے ساتھ جو کچھ ہوا میں برداشت کر رہا ہوں، چاروں طرف سے مجھے گھیرا جا رہا ہے لیکن میں کسی کے آگے سر نہیں جھکاﺅں گا اور کھڑا رہوں گا، عوام کے حقوق کےلئے زیندگی میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے،1999 میں بھی مجھے ہائی جیکر بنا دیا گیا جو صرف پاکستان میں ہوا ہے میں نے پھر بھی صبر کیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ان کا مقابلہ سابق صدر آصف علی زرداری اور عمران خان سے نہیں بلکہ ان قوتوں سے ہے جو پاکستان کی حامی نہیں ہیں، ہمیں ان قوتوں کو شکست دینی ہے، عمران خان کو کس نے کہا تھا کہ بڑی وکٹ گرنے والی ہے، عمران خان کس کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں، ہمیں سب معلوم ہے،میرے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں، وقت آنے پر ضرورت کے مطابق تمام رازوں کو افشا کر دیا جائے گا، پارٹی رابطہ مہم کو مزید تیز ہونا چاہیے،اس معاملے پر کوئی عذر تسلیم نہیں کیا جائے گا، پارٹی کے ناراض رہنماﺅں کو منانے کےلئے پہلے ہی ٹاسک دیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو کارکنان کے گھر بھی جائیں گے، الیکشن قریب ہیں اور مقابلہ میدان میں کیا جائے گا، پنجاب کے عوام ایک مرتبہ پھر ہمیں اسمبلیوں میں بھیجیں گے، کارکنان اور اراکین اسمبلی نے اس موقع پر نواز شریف اور شہباز شریف کے حق میں نعرہ بازی کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر حالات میں نواز شریف کے ساتھ ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اسمبلیوں میں منتخب کر کے پہنچائیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ میں جہاں بھی گیا عوام میں ایک نیا جذبہ دیکھا، انشاءاللہ ہم ضرور کامیابی حاصل کریں گے، میں یقین سے کہتا ہوں کہ 2018میں مسلم لیگ (ن) کے پی کے میں بھی کامیاب ہو گی، اگر موازنہ ہی کوئی معیار ہے تو عمران خان پشاور کا موازنہ لاہور سے کرلیں، لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ کہاں کام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں غیر فطری تبدیلی لائی گئی، سینیٹ سب سے بڑا اور معزز ادارہ ہے جس کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا، سینیٹ انتخابات میں اربوں روپے چلے، عمران خان نے سینیٹ جا کر پیپلز پارٹی پہ مہر لگا دی، عمران خان کو قوم کو جواب دینا پڑے گا، عمران خان بتائیں کہ ان کو کس نے کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں، آپ نے تو آصف زرداری کو سب سے بڑی بیماری کہا تھا، لاہور میں آپ نے سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر ڈرامہ کیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہمارا جن کے ساتھ مقابلہ ہوتارہا کیا ان کا ٹریک ریکارڈ اچھا ہے، عمران خان نے جھوٹے وعدے کئے اور کے پی کے میں ڈلیور نہیں کیا، عمران خان تو بڑے اصول لے کر نکلے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان بنائیں گے، عمران خان نے پاکستان میں وہ کلچر دیا جس پر مجھے شرم آتی ہے، عمران خان کے کردار پر قوم کو بھی شرم آتی ہے، عمران خان نے یہ بات کہی کہ انتخابات مہینہ ڈیڑھ مہینہ آگے ہو سکتے ہیں، آپ کو انتخابات کے التواءکی بات نہیں کہنی چاہیے تھی، انتخابات کے التواءکے بارے میں بات کس نے آپ کے کان میں کہیں ہمیں بتا دو۔


ای پیپر