Photo Credit Yahoo

عمران خان اور نواز شریف کا مسئلہ اقتدار کا ہے:بلاول بھٹو
04 مئی 2018 (20:31) 2018-05-04

کوئٹہ :پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان اور نواز شریف کا مسئلہ اقتدار کا ہے ، وہ پیپلز پارٹی کے منصوبوں پر اپنی تختی لہرا کر چیمپئن بننے کی کوشش کر رہے ہیں،جنوبی پنجاب کو سیاست کا میدان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،اگر وفاق مزید مضبوط کیا گیا تو یہ بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہو گی، بلوچستان میں امن کےلئے نوجوانوں نے قربانیاں دیں ،مسلم لیگ (ن)چھوٹے صوبوں کو محروم اور غریب رکھ کر پسماندہ ہونے کا طعنہ دیتی ہے ہم صرف وسطی پنجاب کو سیاست کا محور نہیں بنیں دیں گے، پی پی پی نے بلوچستان کو خود مختاری دے کر 70برس کا مسئلہ حل کیا، افسوس کہ ملک اس وقت عبوری این ایف سی ایوارڈ پر چل رہا ہے ،جن کا کوئی گیا نہیں وہ کیا جانیں کہ درد کیا ہوتا ہے ، بے گناہ لہو کو نہیں بھول سکتے، نام نہاد سیاستدانوں نے کچھ کھویا نہیں اس لئے ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ،جب سیاست ختم ہوتی ہے تو عسکریت پسندی شروع ہوتی ہے ، عسکریت پسندی کو ختم کرنا ہوگا، 2013کی انتخابی مہم میں نواز شریف نے سی پیک کا ذکر تک نہیں کیا ۔وہ جمعہ کو یہاں جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ بلوچستان والوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، سیاستدانوں کو اقتدار کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں، جنوبی پنجاب کو سیاست کا میدان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، سندھ اور بلوچستان کو محرومی کا طعنہ دیا جاتا ہے ،18 ویں ترمیم کے بعد ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں، ملک عبوری این ایف سی ایوارڈ پر چل رہا ہے ، جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوتا آواز اٹھائیں گے، پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو پہلی ترجیح بلوچستان تھی، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ، عمران خان اور نواز شریف کا مسئلہ صرف اقتدار حاصل کرنا ہے ، سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹے، عمران خان وفاق کو مزید مضبوط کرنے کے نکات پیش کر رہے ہیں، اگر وفاق کو مزید مضبوط کیاگیا تو بلوچستان کے ساتھ پھر ناانصافی ہو گی، بلوچستان میں امن کےلئے جوانوں نے قربانیاں دیں، میاں نواز شریف اور عمران خان پیپلز پارٹی کے منصوبوں پر اپنی تختی لہرا کر چیمپئن بننے کی کوشش کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی نے بلوچستان کو خود مختاری دے کر 70سالہ مسئلہ حل کیا، سی پیک منصوبہ لاہور میں نظر آتا ہے کوئٹہ میں نہیں۔ انہوںنے کہا کہ سول ہسپتال میں بہنے والے لہو کو فراموش نہیں کر سکتے، مظلوم طبقے کی ماں کو پنڈی میں خون میں نہلا دیا گیا، ہم لاہور کے گلشن اقبال پارک میں بہنے والے بے گناہ لہو کو نہیں بھول سکتے، ہماری سیاست کی بنیاد شہداءکے خون سے وفاءہے، جن کا کوئی گیا نہیں وہ کیا جانیں کہ درد کیا ہوتا ہے ، ہم فاٹا والوں، اے پی ایس کے معصوم شہداءکا خون کیسے بھولیں، ہم بے گناہ لہو کو نہیں بھول سکتے، بلوچستان والوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا، نام نہاد سیاستدانوں نے کچھ کھویا نہیں اس لئے ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ، ہم نے اپنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ تھرکول پراجیکٹ میں 70فیصد مقامی لوگوں کو روزگار دیا گیا،2013کی انتخابی مہم میں نواز شریف نے سی پیک کا ذکر تک نہیں کیا، سی پیک کے مغربی روٹ میں بھی تبدیلی کی کوشش کی گئی تا کہ بلوچستان کو فوائد سے محروم رکھاجائے، نواز شریف ہوں یا عمران خان دونوں پیپلز پارٹی کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لہرا کر چیمپئن بننے کی کوشش کر رہے ہیں،نوازشریف نے سی پیک کا کریڈٹ اغوا کرنے کی کوشش کی، افسوس ہے کہ سی پیک ہمیں لاہور میں تو نظر آتا ہے لیکن کوئٹہ میں نہیں ،بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے مخصوص سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا، پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ ملک کےلئے جان قربان کرنا کیا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اگر عملدرآمد نہ ہوتو ان نام نہاد سیاستدانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جب تک نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل نہیں ہوگا ہم آواز بلند کرتے رہیں گے،جب ضرورت پڑے تو ہمیں گولی کا جواب گولی سے دینا آتا ہے ، بلوچستان کے امن کے لیے جان قربان کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے جوان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں،ہمیں عسکریت پسندی کو ختم کرنا ہو گا، ان کی قربانیوں پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاست ختم ہوتی ہے تو عسکریت پسندی شروع ہوتی ہے ، بلوچستان کی محرومیوں نے ایک باغی طبقہ پیدا کر دیا ہے ، یہ بلوچستان ہے شام نہیں،بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے معاملے پر کون بات کرے گا ان نام نہاد سیاستدانوں کو بلوچستان کی کوئی فکر ہی نہیں ، وفاق کی مضبوطی کے نام پر صوبوں سے زیادتی کی گئی، بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے، بلوچستان کے نوجوانوں کے حقوق چھین کر وفاق کو مضبوط کیا گیا تو یہ پاکستان کے ساتھ نا انصافی ہو گی، آصف زرداری نے مسائل مسلط نہیں کئے مگر پھر بھی بلوچستان سے معافی مانگی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق بلوچستان کے 120ارب روپے دبائے بیٹھا ہے ، ہم اسے نہیں مانتے، نواز شریف کا مسئلہ عمران خان اور عمران خان کا مسئلہ نواز شریف ہے ، اگر وفاق مزید مضبوط کیا گیا تو یہ ناانصافی ہو گی، عمران خان صاحب وفاق کو مضبوط کرنے کے نقطے پیش کر رہے ہیں، پی پی پی نے بلوچستان کو خود مختاری دے کر 70برس کا مسئلہ حل کیا، افسوس ہے کہ ملک اس وقت عبوری این ایف سی ایوارڈ پر چل رہا ہے ، پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد صوبوں کو کوئی این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا، یہ وفاق کی پالیسی ہوتی ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد ملنے والے حقوق ہمیں دو، ہمیں تعلیم سے محروم رکھ کر تعلیم یافتہ ہونے کا طعنہ دیتے ہو، ہمیں پسماندہ رکھ کر پسماندگی کا طعنہ دیتے ہو، سندھ اور بلوچستان آ کر ہماری محرومی کا مذاق اڑاتے ہو، اسلام آباد میں بیٹھ کر چھوٹے صوبوں کو کالونی سمجھنے والے جان لیں کہ یہ زیادتی ہے ، سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور جنوبی پنجاب کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔


ای پیپر