سال 2017ء میں دنیا بھر میں ہتھیاروں اور افواج پر 1730کھرب خرچ ہوئے
04 مئی 2018 (11:17)

سٹاک ہوم :گزشتہ برس دنیا بھر میں مختلف اقسام کے ہتھیاروں کے حصول اور مسلح افواج پر کل 1730 کھرب ڈالر خرچ کیے گئے،جو سرد جنگ کے بعد کے دور کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔سب سے زیادہ دفاعی بجٹ والے 3ممالک امریکا،چین اور سعودی عرب تھے۔


سویڈن میں امن پر تحقیق کرنیوالے عالمی ادارے سِپری کی جانب سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں اسلحے کی خریداری اور مختلف ممالک کی مسلح افواج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کا رجحان اتنا زیادہ ہے کہ 2017ء میں عالمی سطح پر دفاعی شعبے میں اتنی زیادہ رقوم خرچ کی گئیں،جتنی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے آج تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں،گزشتہ برس عالمی سطح پر فوجی اخراجات کی مد میں 1.73 ٹریلین ڈالر یا 1.4 ٹریلین یورو سے زائد کی رقوم خرچ کی گئیں۔1730 کھرب ڈالر کے ان مالی وسائل میں سے سب سے زیادہ رقوم امریکا نے خرچ کیں۔


رپورٹ کے مطابق امریکا کے بعد انہی رقوم کی مالیت کے حوالے سے چین دوسرے اور سعودی عرب تیسرے نمبر پر تھا۔روس اس لسٹ میں چوتھے نمبر پر رہا۔گزشتہ برس دنیا بھر میں جتنے بھی مالی وسائل دفاع پر خرچ کیے گئے،ان کا ایک تہائی سے زائد حصہ اکیلے امریکا نے خرچ کیا،جو 610 ارب ڈالر بنتا ہے۔اس کے علاوہ 2017ء میں عالمی دفاعی اخراجات کی مجموعی مالیت 2016ء کے مقابلے میں 1.1 فیصد زیادہ تھی۔اس کا مطلب یہ کہ یہ رقوم اتنی زیادہ تھیں کہ زمین پر کل انسانی آبادی کے لحاظ سے دفاع کے نام پر لیکن ہتھیاروں اور فوجوں پر جنگی مقاصد کے تحت فی انسان اوسطا 230 ڈالر خرچ کیے گئے۔عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہنے والے ملک چین نے پچھلے برس اپنی مسلح افواج پر 228 ارب ڈالر خرچ کیے،جو اس سے ایک سال پہلے کے چینی فوجی بجٹ کے مقابلے میں 12 ارب ڈالر زیادہ تھے۔ 2017ء کی اس فہرست میں جرمنی اپنے عسکری اخراجات کے لحاظ سے نویں نمبر پر رہا،جس نے دفاعی شعبے میں کل 44.3 بلین ڈالر یا قریب 37 بلین یورو خرچ کیے۔


ای پیپر