”امریکی ہونگے اپنے ملک میں“
04 مئی 2018

میری عقل و شعور اور ناقص علم کے مطابق امریکی اپنے ملک میں بھی امریکی ہوتے ہیں اور باہر کے ملک میں بھی امریکی، امریکی ہی ہوتا ہے۔
امریکیوں کے بارے میں یہ رائے، ہمارے ملک کی ایک اعلیٰ عدالت کے جج جناب جسٹس (ع) والے عامر فاروق کی ہے، جنہوں نے یعنی اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملٹری اتاشی کرنل جوزف ایمانوئیل کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق کمیٹی کو پانچ روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور مزید حکم دیا کہ کمیٹی کمیٹی نہ کھیلیں وہ تاحیات تو نہیں بیٹھے گی۔
جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی تین دن کے اندر اندر فیصلہ کر لے گی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق تو ماشاءاللہ بہت ہی بڑی عدالت کے جج ہیں، عدالت تو ”نائب تحصیلدار “ کی بھی عدالت ہوتی ہے۔
یہ راجن پور جنوبی پنجاب کے جج ، جن کا نام شاید الٰہی بخش دریشک تھا اور جو اپنے وجود سے امیر مقام، مولانا فضل الرحمن، مولا بخش چانڈیو وغیرہ کو بھی شرماتے تھے صرف امیر مقام کے لئے نہیں ہمارے لئے شرم کا مقام ہے کہ جنوبی پنجاب کو ان کا حق نہیں دیا جاتا، اگر جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن گیا ہوتا تو الٰہی بخش دریشک، صوبے کے ”چیف جسٹس “ ضرور بن گئے ہوتے۔
کہتے ہیں کہ نام کا اثر، اس شخص پر ضرور پڑتا ہے، موصوف اب تو فوت ہو گئے ہوں گے ، شاید ان کے والدین نے ان کا نام ”الٰہی بخش“ دے، ایسے نہیں رکھ دیا تھا، ان کے ہم پلہ معروف جاگیردار صدر فاروق لغاری کے ایک چچا ”تگیا خان“ ہوتے تھے، اگر وہ گاڑی ڈرائیور کر رہے ہوتے تھے اور یوٹرن لینا پڑ جاتا تھا، تو ان کے ہانپنے اور زور زور سے سانس لینے کی آواز لاہور تک پہنچ جاتی تھی
موصوف، ملک کے بعض جاگیرداروں کی طرح عیاش، جنہیں بدمعاش لکھنے کی قلم اجازت دیتا ہے، اور نہ ہی میرا پندرہ بیس روپے کا (Pointer) ان کو دیکھ کر اگر جنسِ مخالف کو رونا آ جاتا، تو وہ بڑے پیار اور ”رحمدلی“ سے تسلی دیتے، اور خود کو بڑی ”پھاٹک“ سے تشبیہہ دے کر کہتے صرف ”پھاٹک“ ہی بڑی ہے ان کی یہ باتیں مجھ جیسا موقع شناس، اور اُس علاقے سے تعلق کی بنا پر شریف النفس، جن کی شریف النفسی کی میں قسم کھا بھی سکتا ہوں اور اٹھا بھی سکتا ہوں، سید ارشاد احمد عا رف بھی جانتے ہیں۔
بہرحال میں ذکرکر رہا تھا الٰہی بخش دریشک کا جو نائب تحصیلدار تھے، اور رحمدلی کی بہت شہرت رکھتے تھے، نائب تحصیلدار سے ترقی کرتے کرتے وہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بھی بن گئے تھے۔
ہمارا ملک ، ہماری قوم، ہمارا وطن، ہمارے عوام، اتنے زیادہ ذہین و فطین ہیں کہ نائب تحصیلدار سے ترقی کرتے کرتے، جناب اسحاق خان صدر بن گئے، اور ایک ”رنگروٹ“ قارئین، رنگروٹ اُس فوجی جوان کو کہتے ہیں، کہ جو پڑھا لکھا نہ ہو مگر جنرل موسی، پڑھ لکھ کر چیف آف آرمی بھی بنے، اور صوبے کے گورنر بھی۔ الٰہی بخش دریشک کی وجہ شہرت یہ تھی کہ انہوں نے اپنی عدالتی ذمہ داریوں میں کبھی کسی ملزم بلکہ مجرم کو بھی سزا نہیں دی تھی۔
ایک دفعہ انہوں نے کسی چور کو، جس کی ضمانت بھی نہیں ہو سکتی تھی، پوچھا کہ تم نے چوری کی تھی ،کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو، تو مجرم نے کہا کہ ہاں مجھ سے یہ غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ اس کے جواب میں دریشک صاحب نے زور سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا ،اور کہا کہ بے وقوف ہاں نہیں کرنی تھی اور پھر اُس کے اقرار کرنے کے باوجود اُسے چھوڑ دیا، سپاہیوں نے جوں ہی اُس کی ہتھکڑی کھولی وہ بھاگ نکلا، ساتھ بیٹھے ریڈر نے دریشک صاحب کو جو عدالت میں ہی اپنے موٹے پن کی وجہ سے بحث کے دوران خراٹے لینے لگ جاتے تھے، جیسے ہمارے سیاستدان، یعنی عوام کے نمائندے پارلیمان میں، یا صدر اور وزیراعظم تقریر کے دوران خراٹے لینے لگ جاتے ہیں۔
دریشک صاحب کو ساتھ بیٹھے ان کے ریڈر نے ہلایا اور کہا کہ سر یہ تو ناقابل ضمانت جرم تھا، آپ نے اسے چھوڑ دیا، توانہوں نے پولیس والوں کو ایک بڑی گالی دیتے ہوئے کہا کہ ”پاگل دے پترو“ تم نے اسے جانے کیوں دیا، بھاگو، بھاگو، اور اُسے پکڑو، اِس دوران حسب معمول اچانک ملک میں مارشل لاءلگ گیا، اور لوگوں نے ان کی شکایت مارشل لاءحکام سے کر دی کہ وہ دوران سماعت سو جاتے ہیں، مارشل لاءحکام نے ان کی طلبی کر لی، اور وہ باہر ہال میں پڑی کرسیوں میں اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے سو گئے، جب ان کا نام پکارا گیا تو نام پکارنے والے کا گلا بیٹھ گیا، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کرسی پر بدستور بیٹھے رہے....
میں بات کر رہا تھا جناب چیف جسٹس عامر فاروق صاحب کی، جن کی ”اٹھک بیٹھک“ بالکل اُن سے مختلف ہے، ورنہ کوئی کیسے ٹرمپ سے متھا لگا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سفارتکار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستانیوں کو مارتا پھرے، قانون اگر سفارتکار کو تحفظ دیتا ہے تو شہریوں کو بھی تحفظ حاصل ہے، عدالت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل (واضح رہے کہ انکا فوج کے میجر جنرل یا لیفٹیننٹ جنرل سے دور دور تک رابطے کی تو میں قسم نہیں کھا سکتا، لیکن واسطہ نہیں ہوتا)، ڈپٹی اٹارنی جنرل دور کی کوڑی لائے اور بتایا کہ کمشنر آفس نے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھجوا دی ہے، جسٹس صاحب نے کہا کہ پولیس نے الکوحل ٹیسٹ نہ کرا کے خود ثبوت خراب کیا ہے۔
شاید تھانیدار کواپنا حصہ وصول نہ کر سکنے کا غصہ یا دُکھ تھا، یا پھر وہ نواز میرانی کی طرح کلمہ حق کا قائل تھا، اُس نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ کا فون آیا تھا، کہ سفارتکار کو جانے دیں۔ قارئین مجھے پکا یقین ہے کہ وزارت داخلہ نے سفارتکار کو کرنل سمجھ کر نہیں انسانی ہمدردی کی بناءپر ”پَردیسی“ سمجھ کر اور جناب احسن اقبال کی مرضی سے ”حسن سلوک“ کیا ہو گا، خیر جسٹس صاحب نے کہا کہ کوئی پاکستانی ایکسیڈنٹ کرے، تو آپ اس کا منہ سونگھتے پھرتے ہیں، عدالت کو بتایا کہ اُسے شامل تفتیش اور گرفتار تصور کیا گیا، عدالت نے کہا کہ کیس کو اِدھر اُدھر نہ کیا کریں۔
اب چھوٹا منہ بڑی بات، میں یہ تو نہیں کہہ سکتا، کہ دنیا کہ ہر ملک میں دوسرے ملک کے سفارتکار کو استثنیٰ حاصل ہونے کا مجھے پتہ ہے، اور میرے قارئین کو بھی.... مگر شاید عامر فاروق شاید میرا کالم نہیں پڑھتے ان کو پتا نہیں چلا مگر ، اگر جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے ریمنڈ ڈیوس کا پاکستانیوں کو قتل کرنے کا ”ازخود نوٹس“ لیا ہوتا، تو پھر آئے دن ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، کرنل نے نشے کی حالت میں یہ حرکت کر ہی لی تھی، تو اس پہ مٹی ڈال دیتے، امریکی سفارتکاروں نے ”دل برداشتہ“ ہو کر ”بادلِ نخواستہ پھر شراب پی لی، اور پھر دو پاکستانی کچل دیئے....
مگر حالتِ مجبوری میں وزارت داخلہ نے، ویانا کنونشن کے مطابق ہر سفارتکار کو یہ استثنیٰ حاصل ہے اور پاکستانی سفارتکار بھی ایران اور بھارت بندے مار کر یہ استثنیٰ حاصل کر چکے ہیں ، میرا خیال ہے کہ شاید سول ججوں کو پبلک سروس کمیشن کے مراحل سے اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح نہیں گزرنا پڑتا، شاید اسی لئے علم کی کمی ہے، یا پھر وکیلوں کو بھی تو براہ راست ہائی کورٹ، سپریم کورٹ کا جج بنا لیا جاتا ہے۔ عقل مند ایسے ہی نہیں کہتے کہ ”قانون اندھا“ ہوتا ہے۔ مگر میں تو دعوے سے کہتا ہوں کہ قانون ضرور اندھا ہوتا ہے، مگر ”جج“ اندھا نہیں ہوتا ، صرف انجان بن جاتا ہے۔ مگر اس عمل پر بھی میں اُسے دوش نہیں دیتا کہ یہ تو رائج الوقت ”ریت“ ہے مگر اسے ”حقوق انساں“سے ”پرمٹ “ سمجھا جائے کیونکہ بقول حضرت اقبالؒ
حاجت سے مجبور مَردانِ آزاد
کرتی ہے حاجت شیروں کو رُوباہ


ای پیپر